کیا اپوزیشن کے ہاتھوں حکومت گرنے کا خطرہ ختم ہو گیا؟


حزب اختلاف کی دس جماعتوں کے اتحاد کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کے ساتھ جہاں اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں پڑنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے وہیں حکومت اس اعلان کو اپنی سیاسی فتح قرار دے رہی ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی تمام مشکلات ختم اور انکے کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں جو حکومت اپنی فتح کا اعلان کر رہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت اقتدار میں صرف اپوزیشن کو پچھاڑنے کے لیے آئی تھی یا عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے۔ اگر تو حکومت کا ایجنڈا اپوزیشن کو پچھاڑنا تھا تو پھر تو وہ فاتح ہے لیکن اگر اس کا ایجنڈا عوام کے مسائل حل کرنا اور انہیں ریلیف دینا تھا تو یہ ہماری ملکی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے جس نے عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ کیا ہے۔
حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک گذشتہ چند ماہ سے اپنے عروج پر تھی۔ ہچھلے چند ہفتوں سے ملکی سیاست میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جس سے اپوزیشن کو حکومت پر سیاسی برتری حاصل ہوئی۔ تاہم سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع شکست سے سیاسی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کے بعد پی ڈی ایم کے ٹوٹنے کی افواہیں زوروں پر ہیں۔ ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا 26 مارچ کے لانگ مارچ کو ملتوی کرنے سے حکومت کو واقعی وہ دایمی فتح حاصل ہو چکی ہے جس کا وہ اعلان کر رہی ہے اور کیا اپوزیشن اتحاد کا شیرازہ بکھرنے جا رہا یے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی سمجھتے ہیں کہ ’اپوزیشن کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان حکومتی جماعت کی سیاسی اور اخلاقی فتح ہے۔‘ ’حکومت کو ایک بڑی سیاسی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن اب لانگ مارچ منسوخ ہونے کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کی پوری تحریک موخر ہوچکی ہے اور پیپلز پارٹی کا استعفوں کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آنے سے اپوزیشن کی ساکھ کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اپوزیشن کا لانگ مارچ کب تک موخر رہے گا اور مستبقل میں اپوزیشن اتحاد کیا اقدمات اٹھاتی ہے یہ تو دیکھنا ہوگا لیکن مجموعی طور پر اپوزیشن کو نقصان پہنچا ہے اور یہی حکومتی جماعت کی سیاسی اور اخلاقی فتح ہے۔‘
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق ’لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کے اعلان سے براہ راست فائدہ حکومت کو ہی پہنچا ہے اور وقتی طور پر حکومت کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہے لیکن ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘ سہیل وڑائچ نے کہا کہ ’حکومت کی ترجیحات تبدیل ہوں گی اور نہ ہی ملک میں سیاسی محاذ آرائی کی شدت میں کمی آئی گی۔‘ ’حکومت کو یہ احساس نہیں ہے کہ وہ غلط چل رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی جو جارحانہ پالیسی اور جارحانہ بیانیہ ہے وہ اسی کو جاری رکھی گی اور اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو پارلیمان میں جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی جوں کے توں ہی رہیں گے کیونکہ حکومتی ترجیحات میں پارلیمان کے ذریعے مسائل حل کرنا نہیں ہے۔‘ انکا کہنا تھا کہ حکومت جب تک مصالحتی سیاست شروع نہیں کرے گی، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ ایسے میں پارلیمنٹ کسی بھی قسم کی قانون سازی میں ناکام رہے گے جو کہ اسکا بنیادی کام ہے’۔
سہیل وڑایچ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پی پی پی اپوزیشن اتحاد سے باہر نکل چکی ہے، اپوزیشن کا لانگ مارچ بھی ہوگا اور پیپلز پارٹی شرکت بھی کرے گی لیکن استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتیں پیپلز پارٹی کے موقف کے ساتھ ہی لانگ مارچ کریں گی۔‘ سینیئر صحافی عارف نظامی کے خیال میں حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش پر پیپلز پارٹی کی جانب سے مثبت جواب کے امکانات کم ہیں۔‘ ’حکومت نے مجبور کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمان کے بجائے سڑکوں پر آئیں اور مستقبل میں بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ حکومت پارلیمانی سیاست کو سنجیدہ لے۔‘ عارف نظامی کے مطابق ’حکومت کو کچھ امور پر اپوزیشن کا تعاون درکار ہے لیکن پی پی پی فور طور پر پی ڈی ایم سے نکل کر حکومت کے ساتھ مذاکرات میں نہیں بیٹھ سکتی۔‘
اپوزیشن کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کے اعلان کے بعد حکومت کی طرف سے شادیانے بجائے جا رہے تھے لیکن مولانا فضل الرحمان نے یہ اعلان کردیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد قائم و دائم رہے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ممکن ہے کہ وقتی طور پر لانگ مارچ ملتوی ہوکر اس پر لٹکتی تلوار ہٹ جائے، مگر یہ سب کچھ وقتی ہوگا اور وہ اس لیے کہ بہرحال پی ڈی ایم کی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر انہوں نے متحد ہوکر 2023ء کے انتخابات نہیں لڑے تو اس کے نتائج 2018ء جیسے نکلیں گے۔ لیکن سوال یہ یے کہ پیپلز پارٹی کے جہاں دیدہ لیڈر آصف زرداری نے آخر لانگ مارچ کی مخالفت کیوں کی اور اسمبلیوں سے مستعفی کیوں نہیں ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار میں رہتے ہوئے ہمارے لیے اتنے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن اگر انہیں مدت سے پہلے ہٹا دیا گیا اور وہ پھر میدان میں آگئے اور اسی حالت میں انتخابات میں حصہ لیا تو وہ زیادہ طاقتور ہوجائیں گے۔ اسی لیے پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان کو مدت پوری کرنی دی جائے۔
لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اب نواز شریف اور ان کی پارٹی کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ کیا میاں صاحب وطن واپس آئیں گے، جو بالکل نہیں لگتا۔ لیکن اگر وہ نہیں آتے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر زرداری صاحب اپوزیشن سے الگ ہوجاتے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن بھی ناراض رہتے ہیں تو مریم نواز پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر یہ جنگ تنہا نہیں لڑ سکتیں۔
پیپلز پارٹی نے حالیہ مہینوں میں خاص طور پر سینیٹ الیکشن میں بڑی مہارت سے اپنے کارڈ کھیلے ہیں۔ اب پی ڈی ایم میں فرنٹ سیٹ پر مریم نہیں، بلکہ زرداری بیٹھے نظر آتے ہیں اس لیے پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں پیپلز پارٹی کو اتنی آسانی سے اتحاد سے باہر نہیں جانے دیں گی۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے وقتی طور پر تو خطرہ ٹل گیا، لیکن یہ مستقل بنیادوں پر نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button