کیا جنرل باجوہ نئے آرمی چیف کے بارے میں آن بورڈ ہیں؟


نئے آرمی چیف کے اعلان میں چند ہی روز باقی ہیں لیکن اسلام آباد شدید افواہوں کی زد میں ہے۔ سب سے زیادہ افواہ یہ چل رہی ہے کہ جنرل قمر باجوہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانا چاہتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے معاملے میں کیا تھا؟ لیکن کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت اپنی مرضی کا فوجی سربراہ لانا چاہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افواہ سازوں کے مطابق دونوں ہی سائیڈیں سینئر ترین جرنیل کو نیا چیف بنانا چاہتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کے خیال میں سینئر موسٹ جرنیل وہی ہے جسے وہ لگانا چاہتے ہیں۔ افواہ سازوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور جنرل قمر باجوہ موجودہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو سینئر موسٹ جرنیل گردانتے ہوئے نیا فوجی سربراہ بنوانا چاہتے ہیں جبکہ حکومتی حلقوں کے حساب کتاب میں موجودہ کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت سینئر موسٹ جرنیل ہیں۔

نئے آرمی چیف کے تقرر کا عمل 21 نومبر سے شروع ہو چکا ہے، اور حکومت کی جانب سے امید ظاہر کی جارہی ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی اس ہموار عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ آرمی چیف قمر باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے، لیکن نئے سربراہ کا تقرر 27 نومبر سے پہلے ہونے کا امکان ہے۔ خیال رہے کے نئے آرمی چیف کے امیدواروں میں سے ایک یعنی عاصم منیر 27 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں اور اس لئے ان کے مخالف دھڑے کا یہ موقف ہے کہ انہیں سینئر موسٹ جرنیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اس وقت جرنیلوں کی موجودہ سینیارٹی لسٹ میں عاصم منیر ہی سینئر موسٹ ہیں۔ وزیراعظم آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کیا حکومت نئے فوجی سربراہ کا فیصلہ کرچکی ہے اور اسی لیے وزارت دفاع نئے آرمی چیف کے تقرر کی سمری 27 نومبر سے پہلے بھیج دے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی 27 نومبر سے پہلے کی جائے گی، حکومت، اسکے اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ کا ایک دھڑا اس معاملے پر ایک پیج پر ہیں کیونکہ تینوں کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اس معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے بتایا کہ نئے آرمی چیف کا نام کسی کے لیے بھی سرپرائز نہیں ہوگا چونکہ ان کے تقرر کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نئے فوجی سربراہ کے نام پر وزیر اعظم نے جنرل قمر باجوہ سے بھی مشورہ کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کرنا ضروری نہیں، لیکن انہیں اعتماد میں ضرور لیا گیا ہوگا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں لندن کا نجی دورہ کیا جہاں انہوں نے سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے اس معاملے پر مشاورت کی اور واپسی کے بعد تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔ تقرر کے عمل میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کردار توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے دعوے کے مطابق وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 25 روز تک روک سکتے ہیں۔ تاہم وزیراعظم کے ترجمان فہد حسین نے صدر کی جانب سے ایسے کسی اقدام کے امکان کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت نئے آرمی چیف کے تقرر کے اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہیں اور وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس عہدے کے لیے موزوں ترین شخص کا انتخاب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر قانون سازی پر تاخیر کر سکتے ہیں لیکن نئے آرمی چیف کی تقرری چونکہ وزیراعظم کا اختیار ہے اس لیے جب انہوں نے سمری پر دستخط کردیے تو پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کا عمل آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، صدر عارف علوی کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا ’صدر مملکت بھی اپنا وہی آئینی کردار ادا کریں گے جیسا کہ اس عمل کے حوالے سے آئین میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ19 نومبر کو وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے صدر عارف علوی کو آرمی چیف کے تقرر کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا صدر عارف علوی پاکستانی عوام، آئین، جمہوریت کے ساتھ وفاداری دکھائیں گے یا عمران خان سے دوستی نبھائے گا، امید ہے اس وقت آئین و قانون کے تحت ساری چیزیں چلیں گی، اگر صدر عارف علوی نے کچھ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر انہیں نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔اس سلسلے میں جب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون و انصاف عرفان قادر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی سمری نہیں روک سکتے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کا تقرر صدر مملکت نہیں بلکہ صرف وفاقی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل واضح کرتا ہے کہ فوج کی کمان اور کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے اور اس کی مزید وضاحت آئین کے آرٹیکل 90 اور 91 میں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر سمری مؤخر نہیں کر سکتے اور انہیں فوراً اس پر دستخط کرنا ہوں گے‘۔

Back to top button