جنرل باجوہ مخالف خبرپرفیکٹ فوکس کی ویب سائٹ بند


جنرل قمر جاوید باجوہ اور انکی اہلیہ کی جائیدادوں کے حوالے سے ایک خبر شائع ہونے کے بعد معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کو پاکستان میں بند کر دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹ 2020 میں سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں بارے ایک خبر بریک کرنے کے بعد نظروں میں آئی تھی۔ عاصم باجوہ کے سکینڈل کو پاپاجونز پیزا سکینڈل قرار دیا گیا تھا۔ اس خبر میں ارب پتی باجکو گروپ کی بزنس ایمپائر کی تفصیلات دی گئی تھیں جسکے ڈائریکٹرز میں عاصم باجوہ کی اہلیہ، بھائی اور بیٹے بھی شامل ہیں۔ یہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد عاصم باجوہ کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور وزیر اعظم کے سپیشل اسسٹنٹ کے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑ گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے عاصم باجوہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

اب فیکٹ فوکس نے جنرل قمر باجوہ اور ان کی اہلیہ کے اثاثوں کی خبر بریک کی ہے جسکے بعد اسکی ویب سائٹ پاکستان میں بند کر دی گئی ہے۔ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات کی بنیاد پر بنائی گئی اس تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد ان کے اور انکی اہلیہ کے اثاثوں میں ہر برس اچھا بھلا اضافہ ہوتا رہا اور آج ان کے اثاثوں کی مالیت 12 ارب روپے سے زائد ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کے چھ سالہ دور اقتدار میں ان کے سمدھی صابر مٹھو بھی کئی ارب روپے کے اثاثوں کے مالک بن گئے۔ احمد نورانی کے مطابق آرمی چیف کے خاندان نے مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی کاروبار شروع کیا، پھر پیسہ پاکستان سے باہر بھجوایا اور بیرون ملک جائیدادیں بھی خریدیں۔ خبر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ لاہور کی ایک خاتون آرمی چیف کی بہو بننے سے صرف 9 روز پہلے تب یکایک ارب پتی بن گئیں جب انہیں ڈی ایچ اے گوجرانوالہ میں 23 اکتوبر 2018 کو آٹھ عدد پلاٹ گذشتہ تاریخوں میں الاٹ ہوئے اور 2 نومبر 2018 کو وہ جنرل باجوہ کی بہو بن گئیں۔ اسی روز صابر مٹھو کی بیٹی ماہ نور صابر نامی یہ خاتون کانسٹیٹیوشن ون گرینڈ حیات ٹاور میں ایک قیمتی اپارٹمنٹ کی مالک بن گئیں۔ یہ وہی وقت تھا جب عمران خان سمیت اور بھی کچھ سیاستدانوں کو اس ٹاور میں اپارٹمنٹ دیے گئے تھے۔ پھر اس غیر قانونی عمارت کو تب کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے قانونی قرار دے دیا تھا۔

فیکٹ فوکس کی خبر میں جنرل باجوہ کے سمدھی صابر ‘مٹھو’، اور آرمی چیف کی اہلیہ کے اثاثوں کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ تین سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود آرمی چیف کے بیٹوں کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں حاصل ہو سکیں۔ پاکستان میں ویب سائٹس پر پابندیوں کا معاملہ حالیہ سالوں میں میڈیا پر قدغنوں کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل متعدد ویب سائٹس بشمول وائس آف امریکہ بھی پاکستان میں بند کی جا چکی ہیں۔

احمد نورانی کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں صابر مٹھو کی بیٹی نے جنرل باجوہ کے بڑے بیٹے سے شادی کی اور اسی سال انہوں نے بیرون ملک جائیدادیں منتقل کرنا شروع کر دیں۔ پاکستان میں صابر مٹھو کی اپنے نام پر اربوں کی 26 جائیدادیں ڈکلئیرڈ ہیں، بیرون ملک صابر مٹھوکی 312 ملین روپے کی جائیدادیں، 510 ملین روپے کا کاروباری سرمایہ اور دو بینک اکاؤنٹس ہیں۔

Back to top button