توشہ خانہ سکینڈل نےعمران کی سیاست کوکیسے داغدارکیا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ توشہ خانہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد پے در پے یو ٹرنز نے عمران خان کے کرپشن مخالف بیانیے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے انکی اپنی سیاست کو بھی داغدار کر دیا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ گھڑی سکینڈل نے اینٹی کرپشن بیانیہ لے کر چلنے والے عمران خان کی اخلاقی برتری کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے اور اب وہ بھی انہی سیاست دانوں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں جن پر وہ کرپشن کے الزامات لگایا کرتے تھے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ جہاں تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا تعلق ہے تو عافیت اسی میں ہے کہ سپریم کورٹ کی طرح سنیارٹی کے اصول کو اپنا کر عاصم منیر کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا جائے اور اگلے دو کمانڈرز میں سے ایک کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کر کے اداراتی تکریم برقرار رکھی جائے ۔ فوج کی سیاست سے کنارہ کشی مقصود ہے تو سینئر ترین جنرل کی بطور آرمی چیف تعیناتی ایک حقیقت پسندانہ آپشن ہے۔ لگتا یہی ہے کہ نواز شریف سے عمران خان تک سبھی اس اصول کی پاس داری پر مطمئن ہوں گے اور فوج کی قیادت بھی اس پر معترض نہیں ہو گی، جو بھی سپہ سالار بنے گا، ہو گا تو فوج ہی کا بندہ، لہٰذا سوال یہ ہے کہ سویلینز کیوں آرمی چیف پر سٹے بازی کر رہے ہیں؟
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ الیکشن کا معاملہ بھی اب کچھ زیادہ متنازعہ نہیں رہا، ایک دو مہینے سے کیا فرق پڑنے والا ہے، بے مقصد لڑائی پر وقت ضائع کرنے سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھیں گے؟ دوسری جانب معاشی بحران بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ 62 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جس میں 12 ہزار ارب روپے قرض کا اضافہ گزشتہ ستمبر سے اب تک کے دوران ہوا ہے۔ صرف اس برس قرض کی ادائیگی کیلئے 4.7 کھرب روپے درکار ہوں گے۔ لہٰذا ان حقائق کی روشنی میں کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ایسے دگرگوں معاشی حالات میں پاکستان کے مظلوم عوام کی حالت کیا ہو گی جب مہنگائی 26 فیصد سے اوپرجا رہی ہے۔ 38 فیصد پاکستانی غربت کا شکار ہیں اور مزید 13 فیصد لوگ اس بد ترین غربت کے چنگل میں پھنسنے والے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دوسرا پاکستانی یعنی 11 کروڑ عوام بد ترین افلاس کا شکار ہیں یا ہونے جا رہے ہیں۔ایسے میں شہباز حکومت رہے یا عمران اقتدارمیں واپس آئے، اس بے رحمانہ معاشی بحران کا چکر ختم ہونے والا نہیں۔ یہ سب سیاسی بونوں اور اداروں کے بس کی بات نہیں ہے۔ پاکستان جس ہمہ گیر معاشی و اداراتی بحران کی لپیٹ میں ہے، اس کے حل کا کوئی آسان و سادہ کلیہ نہیں اور نہ ہی کوئی شارٹ کٹ ہے ۔ قرضوں پہ دارومدار کا مفت خور راستہ معدوم ہو چلا ہے۔
امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ اب تو قرضوں سے بھی قرضوں کی ادائیگی مشکل تر ہو گئی ہے اور ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایسے میں اگر ایک مفت خور خرچیلی ریاست اپنے خرچے آدھے سے کم کرنے پر تیار نہیں ہوتی تو دھڑام سے نیچے گر سکتی ہے۔ ملک کی آدھی معیشت ٹیکس دائرے سے باہر رہتی ہے تو مملکت کی گاڑی چلنے والی نہیں۔ سرکاری کارپوریشنز کے نقصانات سے فوری جان نہیں چھڑائی جاتی تو وہ قوم کی جان قبض کر لیں گی۔ ہر آمدنی والے کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جاتا اور امرا کی مراعات کو ختم نہیں کیا جاتا تو خزانہ خالی ہی رہے گا۔ ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی تنخواہیں اور وظائف تین چوتھائی ختم کئے بنا چارہ نہیں۔ غرض یہ کہ اُمرا کا قبضہ، مفت خوری اور عیاشی کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے تا کہ پاکستان کو ناکام ہونے سے بچایا جا سکے۔
