نیا آرمی چیف لانے کے بعد سنجرانی کی چھٹی کا فیصلہ


اسلام آباد میں حکمران اتحاد نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے فوری بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کو انکے عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے تمام تر مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ایک درجن سے زائد اراکین سینیٹ نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی صورت میں حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ اس سے پہلے فیصل واوڈا نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں انکشاف کیا تھا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

اردو نیوز کے مطابق حکمران اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کے رہنمائوں نے تصدیق کی ہے کہ سنجرانی کا دھرنا تختہ کرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ایک لیڈر نے انکشاف کیا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے درجن بھر سینیٹرز نے بھی حکمران اتحاد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آتی ہے تو وہ اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے بلکہ انکے خلاف ووٹ بھی دیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ صدر عارف علوی کے ذریعے صادق سنجرانی کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ تحریک انصاف مزید ان کی سپورٹ نہیں کرے گی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سنجرانی کو طاقت ور حلقوں کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا کہا گیا ہے لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سنجرانی کے قریبی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں اب بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نہ صرف اپنی جماعت کے سینیٹرز بلکہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے جنہوں نے انھیں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ اسی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ مستعفی ہونے کی بجائے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے لیے حکمران اتحاد نے ان کے خلاف بھرپور چارج شیٹ تیار کر لی ہے۔ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا حتمی فیصلہ ڈیڑھ ماہ پہلے کر لیا گیا تھا اور اس سلسلے میں قراداد کے لیے حکمران اتحاد کے تمام سینیٹرز کے دستخط بھی لے لیے گئے تھے لیکن پھر بوجوہ اس سلسلے کو روک دیا گیا۔ ان کے مطابق اب یہ معاملہ اس وجہ سے دوبارہ شروع کیا گیا ہے کہ سنجرانی صاحب کو منتخب کرنے والی جماعت نے خود حکومت سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ اگر حکومت عدم اعتماد لائی تو تحریک انصاف کے درجن بھر سے زائد سینیٹرز عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ خیال رہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے قیام کے بعد بھی صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم صادق سنجرانی نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کی قیادت سے معاملات بہتر بنا لیے تھے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل ایک جماعت کی جانب سے مسلسل اصرار اور صادق سنجرانی کی مبینہ کرپشن کے ثبوت قیادت کے سامنے رکھے جانے کے بعد ان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔

Back to top button