ایک غریب اوربھوکے بادشاہ کی کہانی، عمارمسعود کی زبانی


آج ہم آپ کو ایک غریب اور بھوکے بادشاہ کی کہانی سنائیں گے جو کہ نہایت مفلسی کی زندگی بسر کرتا تھا اور مانگ تانگ کر کھاتا تھا۔ یہ کہانی معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے تحریر کی ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے: ایک ملک خداداد کا ایک بادشاہ تھا جو بہت غریب، بھوکا اور ندیدا تھا۔ وہ بھیک مانگ کر گزارا کرتا۔ مانگے تانگے سے روٹی کھاتا۔ جہاں نرم جگہ ملتی سو جاتا۔ اسکی قمیض میں دو دو سوراخ ہوتے۔ اسکی جیب خالی اور یہی کیفیت ذہن کی بھی ہوتی۔ غربت نے بیچارے بادشاہ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی تھی۔ وہ ہر آنے جانے والے کو پتھر مارتا اور گالیاں بکتا۔ بادشاہ دن چڑھے دیر سے اٹھتا اور بیدار ہوتے ہی گالم گلوچ کو شعار بنا لیتا۔ شام تک گالیاں بکنے کے بعد رات ہونے سے پہلے وہ طبیب کی تجویز کردہ دوائی حلق میں انڈیلتا اور اگلے دن کے لیے نئی گالیاں سوچتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔

بادشاہ ویسے تو قادر الکلام تھا۔ ذہن رسا رکھتا تھا۔ جب مدہوشی کے لمحات میں نہیں ہوتا تھا تو ہر سوال کا ترنت جواب دیتا۔ رعایا کو اپنی رام کہانیاں سنا سنا کر رام کرتا۔ کوئی فریادی اگر سوال کرتا کہ غربت اتنی ہو گئی ہے کہ دو لقمے روٹی میسر نہیں تو بادشاہ اپنی دکھ بھری کتھا سنانا شروع کر دیتا کہ کس طرح 22 سال اس نے بھوک پیاس سے نبرد آزما ہو کر گزارے۔ کس طرح عوام الناس کی خاطر پیٹ کاٹا۔ کس طرح وہ اپنے احباب کے در پر پڑا رہا۔ بادشاہ اپنی دکھ بھری کہانی کچھ ایسے دلدوز انداز میں سناتا کہ فریادی بھی روہانسا ہو کر آنسو پونچھتا اور بادشاہ سلامت کے اقبال بلند ہونے کی دعا کرتا ہوا رخصت ہوتا۔ جب فریادی چلے جاتے اور عدل کا گھنٹہ خاموش ہو جاتا تو بادشاہ کے مصاحب میدان میں اترتے۔ کوئی دلجوئی کے لیے ہرن کے گوشت کی طشتری پیش کرتا کوئی انگور کا رس سامنے کرتا۔ کوئی خدمت گار باندیوں کے رقص سے دلبستگی کی کوشش کرتا۔ مگر بادشاہ عوام کے غم میں اتنا رقیق القلب ہو چکا تھا کہ جھٹ سے طبیب کی دوائی کے پھکے مارتا اور خلق خدا کی خدمت کے خواب دیکھتا مدہوش ہو جاتا۔

بادشاہ کی کی داستانیں دنیا بھر میں معروف ہونے لگیں۔ مقامی تاجروں کی حقیر مدد سے مایوس ہو کر اب دساور کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنا اس کی ریت ہو گئی تھی۔ اب دنیا بھر سے لوگ مدد کو آ جاتے تھے۔ کوئی ہیروں کا ہار پیش کرتا، کوئی جڑاؤ گھڑی نظر کرتا، کوئی طلائی زیورات عطا کرتا تو کوئی خلعت فاخرہ سے مالا مال کر دیتا۔ دنیا بھر کی مدد کے باوجود نہ بادشاہ کی ناداری میں کمی ہوتی نہ اس کی بھوک ختم ہوتی۔ ظاہر ہے کہ جنموں کی بھوک چند ہیروں جواہرات سے کب مٹتی ہے۔ بادشاہ کو جتنی امداد ملتی اتنا ہی اس کی بھوک میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ اس کی جھولی پھیلی، دست سوال دراز اور ہاتھ مصاحبین کی جیب میں ہی رہتے۔

بادشاہ کی بھوک اتنی بڑھ گئی کہ اس نے شاہی محل کا سامان فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ توشہ خانہ کی طرف نظر ہوئی تو پہلے تو دساور سے شاہی تحائف کی قیمت لگوائی۔ انہیں اونے پونے بیچا کہ بھوک اشرفیوں کی تعداد نہیں گنتی۔ پھر ضرورت مند کی مجبوری کا فائدہ سب ہی اٹھاتے ہیں۔ وہ تحفہ جو لاکھوں اشرفیوں کا تھا وہ چند ٹکوں میں فروخت کر کے بھوک مٹائی جاتی۔ مگر بھوک تھی کہ مٹتی ہی نہیں تھی۔ ایسے میں وہ وقت بھی آیا کہ جب بادشاہ کے احباب کنگلے ہو گئے۔ عزیز رشتہ دار ملنے سے کترانے لگے تو بادشاہ ان لوگوں سے منفور ہوتا چلا گیا۔ اس نے اپنا کشکول دراز کرنا شروع کیا۔ موصوف نے ایسے ایسے لوگوں سے بھیک مانگی کہ جو ساری زندگی چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے اصول پر ڈٹ رہے۔ ان کی جیبوں سے بھی سب کچھ نکلوا کر بادشاہ کے حضور پیش کیا گیا۔

لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ جب بادشاہ کو کوئی بھیک دینے کے لئے تیار نہیں رہا۔ سب اپنے پرائے منہ موڑ گئے۔ تب بادشاہ کو خیال آیا کہ یتیم مسکین بچوں کی زکٰوۃ بیت المال میں دستیاب ہے۔ کیوں نہ اس پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ زکٰوۃ کی رقم کو ذاتی استعمال میں لانا ہے تو بہت رکیک حرکت لیکن بادشاہ کیا کرتا۔ وہ بہت ہی غریب تھا۔ بھیک مانگ کر گزارا کرتا تھا۔ بیت المال کے دروازے بادشاہ کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے کھول دیے گئے۔ ابتلاء کے اس عالم میں بادشاہ مساکین کے مال سے دو دو ہاتھ کرتا رہا۔

لیکن رعایا کو کبھی اس ظلم کی خبر نہ ہوئی۔ اس میں کمال شاہی طبلچیوں کا تھا۔ جب بھی کوئی شاہی خزانے میں ہوتی کمی کی طرف اشارہ کرتا شاہی طبلچی اس طرح بادشاہ کی امانت صداقت اور دیانت کا ڈھول پیٹتے کہ اختلاف کرنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا اور اگر کوئی بہت ہی ضدی شخص بادشاہ کے کارنامے عوام تک پہنچانے پر مصر ہو جاتا تو بادشاہ کو مجبوراً اس کو دیوار میں چنوانا پڑتا۔ اس کی مشکیں کسوا کر اس کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائی پھروانی پڑتی۔ کیونکہ امور ریاست میں وسیع تر مفاد میں کچھ قربانیاں ضروری ہوتی ہیں۔ ایک مدت تک طبلچی بادشاہ کی ہر مخالف آواز کو اپنے اپنے ڈھول کے شور میں دباتے رہے۔ لیکن اس جہاں میں دوام کس کو ہے؟ ایک وقت ایسا آیا کہ بادشاہ کا پول کھل گیا۔ صداقت امانت کا بت رعایا کے قدموں میں گر کر پاش پاش ہو گیا۔ اس موقع پر نہ طبلچیوں کی لے کاری نے کام کیا نہ دھوم دھڑکا کام آیا۔ بہت کوشش کی گئی کہ اس شورش کو ماضی کی طرح شور میں دبایا جائے مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ گلی گلی میں بادشاہ کے شاہی خزانے سے چوری کا غل مچ چکا تھا۔ بچہ بچہ اب طعنہ زن تھا۔ دیواروں پر بادشاہ کے نام کے ساتھ چور کا لفظ جگہ جگہ کندہ تھا۔ بادشاہ ان سب چیزوں سے نظریں بچا کر شاہی دربار میں اپنی عظمت کے قصے اب بھی سناتا تھا مگر نہ اب اس کی آواز میں وہ لوچ رہا تھا نہ لہجے میں وہ درد تھا۔ نہ لوگوں کو اب اس کی بات کااعتبار تھا نہ رعایا کو اس کے کہے پر اعتبار تھا۔

اس صورت حال سے بددل ہو کر بادشاہ نے اس سلطنت کو خیر باد کہنے کا سوچا۔ وہ اب اس جگہ قیام ہی نہیں کرنا چاہتا تھا جہاں کبھی اس کی عظمت کے گیت گائے جاتے تھے اور اب وہیں اس کی ہجو لکھی رہی ہو۔ بادشاہ نے شاہی خزانے کا باقی اسباب سمیٹ کر کاندھے پر ڈالا اور اگلے سفر پر نکلنے ہی والا تھا کہ ایک وزیر باتدبیر نے پوچھا کہ اس شاہی محل کا کیا کرنا ہے؟ بادشاہ دھیرے سے کہنے ہی والا تھا کہ ”بیچ دے“ کہ اس دوران اچانک داروغہ کی آنکھ کھل گئی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ بادشاہ کی بھوک ہمیشہ کے لیے مٹ گئی۔

Back to top button