سعودی ولی عہد کو قتل میں استثنیٰ دینے پر بائیڈن پر تنقید

2018 سے امریکی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قرار دینے والے امریکہ کی جانب سے اچانک اسے قتل کیس میں قانونی کارروائی سے استثنیٰ دینے پر صدر بائیڈن انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالامرڈ نے امریکی صدر کی جانب سے محمد بن سلمان کو استثنیٰ کو ایک ’بڑا دھوکہ قرار دیا، اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ امریکہ کی جانب سے استثنیٰ دیے جانے کے بعد عدنان خشوگی کے قاتل کو سزا ملنا ناممکن ہو گیا ہے جس سے انصاف کا دروازہ بھی بند ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی آج ایک بار پھر قتل کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ڈسٹرکٹ کولمبیا کی عدالت میں محمد بن سلمان کو استثنیٰ دینے کی تجویز میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد اس وقت سعودی وزیر اعظم بھی ہیں، لہٰذا بطور سربراہ سلطنت انہیں اس کیس سے استثنیٰ حاصل ہے، یہ سفارش امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی گئی جو دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا درجہ باضابطہ طور پر ستمبر میں تبدیل ہوا جب انہیں وزیراعظم نامزد کیا گیا، ولی عہد 2017 میں تخت کا وارث بننے کے بعد سے مکمل طاقتور اور بااختیار ہے۔ ولی عہد کے طور پر محمد بن سلمان خود مختار استثنیٰ کے حقدار نہیں تھے۔ یہ حق عام طور پر صرف ایک سربراہ مملکت، سربراہ حکومت یا وزیر خارجہ کو حاصل ہوتا ہے۔
ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارا وٹسن نے کہا ہے کہ ’بائیڈن انتظامیہ محمد بن سلمان کے لیے استثنیٰ کی سفارش کرنے اور انہیں احتساب سے بچانے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ گئی۔انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن نے سعودی ولی عہد کو استثنیٰ دے دیا ہے تو اب ہم ولی عہد کی جانب سے اپنے عوام کے خلاف مزید خونی کارروائیاں کرنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ محمد بن سلمان چند برس سے سعودی عرب کے ولی عہد ہیں جو کہ اپنے والد شاہ سلمان کے دور میں نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان کو ستمبر میں شاہی فرمان کے ذریعے وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں کہ وہ غیرملکی عدالتوں میں دائر مقدمات سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں مقتول صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر ہیٹیس سینگز کی طرف سے امریکا میں دائر کی گئی درخواست بھی شامل ہے۔ چار سال قبل استنبول میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد مغرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو عارضی طور پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
محمد بن سلمان کے وکلا نے امریکی عدالت میں پہلے دلائل دیے تھے کہ وہ سعودی عرب کی حکومت کے سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں اور اس طرح استثنیٰ دینے کے اہل ہیں کیونکہ امریکی عدالتوں میں غیر ملکی سربراہان مملکت اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو استثنیٰ حاصل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی کے خلاف آپریشن کی منظوری دی تھی تاہم، سعودی حکام نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔
مقتول صحافی کی منگیتر اور ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی طرف سے دائر کیے گئے سول مقدمے میں مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور 20 سے زائد مدعا علیہان نے ایک سازش کے تحت صحافی کو منصوبہ بندی سے اغوا کرکے، نشہ دے کر، تشدد کے بعد وحشیانہ طریقے سے قتل کیا۔ انہوں نے مالیاتی ہرجانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی کہ قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے دیا گیا تھا۔ تاہم اب امریکی انتظامیہ نے اپنے سلمان مخالف موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے انہیں استثنیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
