کیا جنید صفدر نے شادی پر ہرن کے بالوں سے بنی شال اوڑھی؟


پاکستانی سوشل میڈیا پر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیٹے جنید کی شادی کے فنکشنز کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے جس کی بنیادی وجہ قیمتی ہرن کے بالوں سے بنی شاہ توش نامی ایک شال ہے جو جنید نے اپنی شادی پر اوڑھی تھی۔ 16 دسمبر کو جنید کی شادی کی تقریبات ختم ہو جانے کے بعد بھی سوشل میڈیا صارفین کبھی ان کے ملبوسات پر بات کر رہے ہیں، تو کبھی مہمانوں کو کھلائے جانے والے پکوانوں کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن اب یہ بحث جنید صفدر کی شال پر آ کر رک گئی ہے۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی مہندی کی تقریب میں جنید نے سنہرے رنگ کی ایک قیمتی شال اوڑھ رکھی تھی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ’شاہ توش‘ سے بنی ہوئی شال تھی جس کی قیمت کئی لاکھ روپوں میں ہوگی۔ شاہ توش کا دھاگا ایک خاص نسل کے ہرن کے بالوں سے بنایا جاتا ہے جو پاکستان میں پایا ہی نہیں جاتا بلکہ یہ صرف چین کے خودمختار علاقے تبت کے ایک خاص پہاڑی سلسلے میں پایا جاتا ہے۔ تاہم وہاں بھی اس ہرن کے شکار پر پابندی عائد ہے۔
’نیشنل جیوگرافک‘ کے مطابق شاہ توش کا دھاگا تبت کے علاقے ’چینگٹنگ‘ میں پائے جانے والے ہرن کے بالوں سے بنتا ہے۔ شاہ توش کی ایک شال بنانے میں تقریباً چار ’تبتن ہرنوں‘ کے بال استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ہرن چونکہ جنگلی جانور ہے اور اسے گھروں میں پالا نہیں جاتا اس لیے لوگ پہلے اس کا شکار کرتے ہیں پھر ان کی کھال اتار کر سمگلروں کو بیچ دیتے ہیں جہاں سے یہ انڈیا پہنچتی ہے اور وہاں اس سے شالیں اور دیگر ملبوسات تیار ہوتے ہیں۔ اس ہرن کی کھال سے تقریباً سارا کپڑا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بنایا جاتا ہے۔ تبت میں پائی جانے والی ہرن کی یہ نسل دنیا بھر میں اس کے بالوں سے بننے والے کپڑے کی ڈٰیمانڈ کے سبب معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک بشمول امریکہ، انڈیا، نیپال اور چین میں تبت کے اس ہرن کے بالوں سے بنے کپڑے کی تجارت پر پابندی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کے جانب سے اس ہرن کی حفاظت کے لیے جانے والے اقدامات کے باوجود بھی اس جانور کی تعداد 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے بیچ ہے۔ صرف امریکہ میں معدوم ہوتے اس ہرن کے بالوں سے بنے کسی بھی قسم کے کپڑے کی تجارت پر ایک سال کی سزا ہو سکتی ہے اور ایک لاکھ سے 2 لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ تبت کے اس ہرن کی تجارت پر ’کنونشن آن اینٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ سپیشیز‘ کے تحت بھی پابندی ہے اور پاکستان میں بھی اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں اس ہرن کے بالوں سے بنی شال یا دیگر ملبوسات کہاں ملتے ہیں یہ جاننا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ دکاندار اسے دکانوں پر تو نہیں بیچتے۔ لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق چند سالوں پہلے تک پاکستان میں اس کی قیمت 4000 ڈالر تھی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جنید صفدر کو یہ شال کسی نے تحفے میں دی یا انہوں نے خود خریدی؟

Back to top button