کیا جہاز کا بلیک باکس کراچی حادثے کی وجہ بتا پائے گا؟

کراچی میں پی آئی اے کے مسافر طیارے کی تباہی کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے بنائی گئی ائیرفورس افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کا تمام تر فوکس طیارے کا بلیک باکس ہے جس سے حادثے کی درست وجوہات کے تعین میں بنیادی مدد ملنے کا امکان ہے۔
کسی بھی فضائی حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران عمومی طور پر ترجیحی بنیادوں پر طیارے کے بلیک باکس کی تلاش پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتا لگایا جا سکے۔ بائیس مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا طیارہ جب لینڈنگ سے چند لمحے قبل آبادی پر گرکر تباہ ہوا تو امدادی کارروائیوں کے دوران بلیک باکس کی تلاش شروع کر دی گئی 6 روز کی محنت کے بعد بالآخر طیارے کا بلیک باکس ڈھونڈ لیا گیا۔ جہاز کا کاک پٹ وائس ریکارڈر ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹیگیشن بورڈ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ حادثے کے دن ہی مل گیا تھا جبکہ اس کا کاک پٹ ڈیٹا ریکارڈر سی وی آر 6 دن بعد 28 مئی کو ملا۔ ایف ڈی آر اور سی وی آر کسی بھی طیارے کے بلیک باکس کے 2 اہم عنصر ہوتے ہیں اس کیس میں سی وی آر مزید اہم ہے کیوں کہ اس میں پائلٹس کے درمیان بات چیت اور تمام آوازیں ریکارڈ ہوتی ہیں۔
پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن پالپا کے جوائنٹ سیکریٹری اور ایئر بس اے 320 کے پائلٹ قاسم قادر کے بقول جہاز کا بلیک باکس نام کی طرح کالا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ دو حصوں، ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیپٹن قاسم کے مطابق فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر میں اس پرواز کی تمام تکنیکی سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے۔ یعنی کس موقع پر انجن تھرسٹ کی پوزیشن کیا تھی؟ لینڈنگ گیئر کے استعمال، جہاز کے فلیپس اوپر نیچے کیے جانے تک کی تفصیلات اسی ڈیٹا کا حصہ ہوتی ہیں لیکن ان کے بقول یہ تمام معلومات کوڈ کی شکل میں موجود ہوتی ہیں جن کو ڈی کوڈ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیوں کہ ایئر بس کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے تو اسے بنانے والی کمپنی ہی اس کوڈ کو ڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ معلومات بہت اہم ہوتی ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف حادثے سے پہلے کی صورتِ حال کا پتا چلتا ہے۔ بلکہ اس گفتگو میں طیارے کو اس سے قبل پیش آنے والے تکنیکی مسائل کی بھی تفصیل ہوتی ہے جو تحقیقات میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کیپٹن کے مطابق ان معلومات کو اکٹھا کرنے کا مقصد ہرگز کسی پر الزامات لگانا یا حادثے کا ذمہ دار ٹھیرانا نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی مدد سے اس مخصوص طیارے کی تیاری میں ممکنہ نقص، اس میں کسی فنی خرابی کو دُور کرنا اور پائلٹس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوتا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر عابد راؤ کے مطابق بلیک باکس میں پہلے ریکارڈنگ اور ڈیٹا صرف آخری 30 منٹ کی پرواز تک محدود ہوا کرتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اس میں بہتری آئی اور اب اس میں زیادہ طویل ریکارڈنگز موجود ہوتی ہیں۔ لہذٰا یہ حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد دیتا ہے۔ عابد راؤ کا کہنا تھا کہ ڈی ایف ڈی آر اور سی وی آر کی مدد سے ماہرین ایک طرح سے پرواز کے دوران ہر گفتگو اور پائلٹس کے ہر اقدام کا ازسر نو جائزہ لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ تکنیکی تفصیلات درکار ہوتی ہیں جو بلیک باکس فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے بقول کاک پٹ وائس ریکارڈر میں اس گفتگو کی عام ریکارڈنگ ہوتی ہے جو کاک پٹ میں پایلٹس کے درمیان ہوتی ہے یا پھر جو ایئر ٹریفک کنٹرول روم سے کی جا رہی ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک باکس میں پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بھی مکمل طور پر موجود ہوتی ہیں۔ سی وی آر ہو یا ڈی ایف ڈی آر، دونوں کی مدد سے ماہرین ان وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے حادثہ پیش آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کے ذریعے معلومات کی فراہمی میں کئی ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بلیک باکس کی ساخت جہاز سے بالکل مختلف ہوتی ہے اور یہ آگ اور شدید دباؤ کو سہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی لئے طیارے میں آگ لگنے اور تباہ ہونے کے باوجود بلیک باکس محفوظ رہتا ہے لیکن طیارہ زیادہ بلندی سے زمین پر گرا ہو تو معلومات ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ پی آئی اے کا طیارہ کیوں کہ نچلی پرواز کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تو غالب امکان ہے کہ تمام ڈیٹا محفوظ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button