کپتان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دوبارہ سے کھول دیا گیا

سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کپتان ور ان کی جماعت کے خلاف دائر فارن فنڈنگ کیس سرد خانے کی نذر ہو گیا تھا جسے اب مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی جانب سے دائر کردہ ایک تازہ درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں احسن اقبال کو 2 جون کو طلب کیے جانے کے فیصلے کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے زیر التواء پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں سابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کے مدت ملازمت کے آخری ایام میں تیزی سے پیشرفت سامنے ہوئی تھی۔ تاہم 6 دسمبر 2019 کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد الیکشن کمیشن مسلسل اس کیس کے حوالے سے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھا لیکن اب الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سیکریٹری احسن اقبال کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں تمام شواہد اور ثبوت اسکروٹنی کمیٹی کو پیش کریں۔ یہ بھی کہا گیا یے کہ اگر وہ الیکشن کمیشن میں 2 جون صبح 11 بجے پیش نہ ہوئے تو ان کی غیر حاضری میں ہی ان کی درخواست کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے 29 مئی کو جاری نوٹس میں احسن اقبال کو واضح کیا کہ وہ خود یا اپنے وکیل کے ذریعے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت میں پیش ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ احسن اقبال نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پانچ سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو بیرون ممالک سے ہونے والی بھاری غیر قانونی فنڈنگ کی طرف توجہ مبذول کرائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس میں اسٹیٹ بینک سے آنے والا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل نے اس کے علاوہ عمران خان کے دستخطوں سے کھولے گئے پارٹی کے 23 ودد خفیہ اکاونٹس کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں آپ ی سابقہ قیادت کیخلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس میں آتے تھے، انہیں الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں اپنے بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017 کے تحت کوئی غیر ملکی شہری یا غیر ملکی کمپنی کا سیاسی جماعت کو فنڈز فراہم کرنا ممنوعہ ہے۔ اس شق کے حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف مشکل کا شکار ہوتی نظر آتی ہے کیونکہ اس کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے اکبر ایس بابر نے الزام لگایا یے کہ اس جماعت کو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور انڈیا سے بھی فارن فنڈنگ کی گئی جسے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے لاکر پاکستانی بینکوں میں خفیہ رکھا گیا اور الیکشن کمیشن کو اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ قانونی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر مذکورہ شق کو استعمال کیا گیا تو تحریک انصاف کا بطور جماعت قائم رہنا مشکل ہوجائے گا۔.
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ۔ قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے مطابق شق 15 کا استعمال کرتے تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف اگر اس کیس میں خود کو کلیئر نہ کروا سکی تو نہ صرف بطور جماعت اس کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی، قومی اور سینیٹ بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کا یکلخت خاتمہ ہوسکتا ہے۔
