کیا رمضان المبارک میں سگریٹ سے دوری مستقل ترک کرناممکن ہے

ماہرین کاکہنا ہے کہ رمضان المبارک میں سگریٹ سے دوری اسے مستقل ترک کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے
تمباکونوشی کے نقصانات معلوم ہونے کے باوجود لوگ اسے ترک کرنے میں مکمل کامیاب کیوں نہیں ہوپاتے؟ کیا اسے چھوڑنا واقعی مشکل ہے؟
آکسفورڈ یونیورسٹی نے 2014 کے لیے ’ویپ‘ کو ’ورڈ آف دی ایئر‘ قرار دیا تھا جو ای سگریٹ سے متعلق لفظ ہے مگر اس کے باوجود تمباکو نوشی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کینسر، فالج اور امراض قلب کا سبب بنتی ہے اور اس لت سے پیچھا چھڑانا مضبوط ترین قوت ارادی کے مالک افراد کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی۔
سگریٹ میں کیمیکل نیکوٹین استعمال کیا جاتا ہے جو ایک قسم کا نشہ ہے اور پینے والے کو اپنا عادی بنا دیتا ہے۔
آئرلینڈ کی کینسر سوسائٹی اور امریکا میں پھیپھڑوں کے امراض پر تحقیق کرنے والی امریکن لَنگ ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق انسان جب سگریٹ پیتا ہے تو اس کے جسم میں سگریٹ سے داخل ہونے والے کیمیائی مادوں کی تعداد تقریباً 7 ہزار تک ہوجاتی ہے۔
ایک بار ایسا کرنے کی کوشش کریں اور پھر دیکھیں صحت پر کس حد تک ڈرامائی انداز میں مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، درحقیقت بغیر سگریٹ کے اولین 24 گھنٹے ہی سے دل کے دورے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
تو پھر کیا آپ اس عادت سے چھٹکارا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ چند مفید نکات اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔
کوشش کریں کہ ہفتے میں کسی ایک دن سگریٹ سے دور رہیں، یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں کہ آپ اسے ممکن نہ کرسکیں، اگر آپ رمضان میں 15 گھنٹے کے لیے سگریٹ چھوڑسکتے ہیں تو عام دنوں میں ایک دن کے لیے اسے ترک کرنے کی کوشش کریں۔
2013 کی ایک گوگل سرچ تحقیق کے مطابق جو افراد کاروباری ہفتے کے آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔
لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سگریٹ نوشی کو اچانک ترک نہ کریں، تحقیق کے مطابق اچانک سگریٹ چھوڑنے والوں میں سے 96 فیصد ایک سال کے اندر اندر دوبارہ اس موذی لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
