کیا سعودیہ سے پاکستانیوں کی ملک بدری روٹین کی کارروائی ہے؟

ترک صدر طیب اردگان کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے اور پھر ملک بدر کرنے کی خبریں وائرل ہیں۔ پاکستانی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں مسلمان ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے چند روز میں 400 کے قریب غیر قانونی پاکستانیوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا گیا ہے اور یہ ایک روٹین کی کارروائی ہے۔
یادرہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں چل رہی ہیں کہ مکہ ریجن میں سینکڑوں پاکستانیوں کو گرفتار کرکے شمسی جیل بھیجا جا رہا ہے اور سعودی عرب سے نکالا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس طرح کی خبروں کی تشہیر نے پاکستانی کمیونٹی میں غیر ضروری اضطراب اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ پاکستانی حکام کو متعلقہ سعودی حکام سے رابطہ کرنے پر بتایا گیا ہے کہ وہ تمام قومیتوں کے غیر قانونی تارکین وطن کو روٹین میں گرفتار کرکے ملک بدر کرتے ہیں۔ یہ مشق سال بھر میں مختلف اوقات میں جاری رہتی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور ہر ملک سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی شہری سعودیہ سے ملک بدر کیے جارہے ہیں لہذا یہ کہنا کہ صرف پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے غلط ہوگا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کو سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ مہم کا آغاز ایسے افراد کے خلاف کیا گیا ہے جو اقامے پر لکھے گئے پیشےکی جگہ دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور یوں قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں 400 کے قریب پاکستانیوں کو شمسی ڈیپورٹیشن مرکز لایا گیا ہے اور پکڑ دھکڑ کی یہ مشق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے جس میں کبھی شدت اور کبھی نرمی کی جاتی ہے۔
جدہ کے قونصل خانے کے مطابق واٹس ایپ، فیس بک اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع میں چلائی جانے والی ان افواہوں سے پاک، سعودی تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تاہم پاک سعودی برادرانہ تعلقات کے مفاد میں اس طرح کے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ہر قیمت پر گریز کیا جائے۔ سعودی ھکام کے مطابق پکڑ دھکڑ کی حالیہ مہم کسی خاص ملک کے شہریوں کے خلاف نہیں نہ ہی اس کا ہدف پاکستانی شہری ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ مہم صرف پاکستانیوں کے لیے مخصوص ہے، بالکل غلط ہے۔ مکہ ریجن میں مقیم پاکستانیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور اس من گھڑت سوشل میڈیا مہم پر توجہ نہ دیں۔
یاد رہے کہ سعودی پبلک پراسیکیورٹر نے ایسی جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں پر 30 لاکھ ریال جرمانہ اور 5 سال قید کی سزا کا اعلان کر دیا ہے۔
