کیا سلیکٹرزاورسلیکٹڈ سے اکٹھے ٹکر لینا غلط پالیسی تھی؟

باہمی اختلافات کے باعث اپوزیشن اتحاد کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا حزب اختلاف کی ایک ہی وقت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سلیکٹڈ کپتان دونوں کو نشانہ بنانے کی سٹریٹجی غلط تھی جس کی وجہ سے دونوں آخری وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے اور اب صورت حال یہ ہے کے پی ڈی ایم اتحاد ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کو ایک ہی وقت میں آرمی چیف اور اس کے سلیکٹڈ کپتان کو بریکٹ کر کے ٹارگٹ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ کسی بھی حکومت مخالف تحریک کے نتیجے میں بالآخر سیاسی تبدیلی کا عمل تو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے ہی شروع ہونا ہے لہٰذا فوجی قیادت کا نام لے کر ان پر حملے نہیں کیے جانے چاہیے تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سٹریٹجی نے فوجی قیادت کو اسٹیبلشمنٹ سے اور بھی دور کیا اور ا اسے مجبور کیا کہ وہ حکومتی اتحادی بن کر ہر صورت میں کپتان کا دفاع کریں۔
یہی وجہ تھی کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی فتح کے بعد عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دلوانے میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کھل کر حصہ ڈالا۔ یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد کی دو بڑی جماعتوں میں سے مسلم لیگ نواز نے زیادہ غیر محتاط رویہ اختیار کیا اور جنرل باجوا اور جنرل فیض حمید کے خلاف آخری حد تک چلے گئے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے درمیانی راستہ اختیار کیا اور فوجی قیادت کے نام لے کر ان پر الزام لگانے سے پرہیز کیا۔ جب کراچی میں مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا تو بھی بلاول بھٹو نے جذبات میں آکر جوش دکھانے کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئےجنرل فیض کو فون کیا جس کے بعد آرمی چیف نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی اور ذمہ داران کے خلاف ایکشن بھی لیا۔ دوسری جانب نواز لیگ کی قیادت نے بھی فوجی ترجمان کی جانب سے اپنے ادارے کے غیر جانبدار ہونے کے اعلان کے بعد فوج کے لیے کچھ گنجائش پیدا کی، لیکن جب حالیہ ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کے خلاف اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہوئی دکھائی دی تو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک مرتبہ پھر فوجی قیادت کا نام لے کر تنقید شروع کر دی جس کے بعد سے اپوزیشن کے لئے حالات مشکل ہونا شروع ہو گئے۔
شاید اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے بھی اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ نواز کی انتہا پسندانہ سیاست سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ایک ثبوت ان کے اسمبلیوں سے استعفے نہ دینا ہے۔ تاہم نواز لیگ کے جارحانہ رویے کے برعکس پیپلزپارٹی کا مفاہمانہ رویہ غیرمتوقع نہیں کیونکہ سندھ میں حکومت میں ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی پہلے سے ہی استعفوں کے معاملے پر الگ پالیسی اپنانے پر بضد تھی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پہلے یہ طے تھا کہ ہم لانگ مارچ کریں گے، پھر اس کے بعد یہ نئی ڈیمانڈ آئی کہ استعفے دے کر لانگ مارچ کیا جائے، ہم نے اس پر ٹائم مانگا ہے تاکہ اپنی پارٹی سے مشاورت کر سکیں۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کے ملک گیر جلسوں میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز لیگ کے دو ٹوک بیانیے سے یوں لگتا ہے کہ ملک میں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا عوامی مطالبہ ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ گیا ہے اور اب اس مقصد کے لئے پیش رفت ہو گی۔ لیکن ’پی ڈی ایم‘ کی طرف سے ’لانگ مارچ‘ میں کئی ہفتوں کے التوا کے اعلان کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ کوششیں تیز ہو گئیں، جس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ’لانگ مارچ‘ کے التوا سے عمومی طور پر منفی تأثر پیدا ہوا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے رابطوں کے باوجود ’پی ڈی ایم‘ سے علیحدگی کا فیصلہ کرنا مشکل سیاسی فیصلہ ہے۔ اگر واقعی پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایسے ”سبز باغ“ نظر آ رہے ہیں کہ جن کی تعبیر حکومتی شمولیت کے امکانات رکھتی ہو تو سیاسی تجربات کے پیش نظر ”سو جوتے سو پیاز“ کی صورتحال درپیش آنا بھی عین ممکن ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کو سرکاری، غیر سرکاری ذرائع سے ہلاک کیے جانے کی ایک تاریخ ہے۔ آصف زرداری کی طرف سے نواز شریف کی ملک واپس آ کر سیاسی جنگ لرنے نے کی بات فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی خواہشات سے ہم آہنگ ہے۔ یہ نواز شریف ہی تھے کہ جنہوں نے ’پی ڈی ایم‘ کے ملک گیر جلسوں میں، ملک پہ غاصب حاکمیت قائم رکھنے کے ذمہ داروں کے نام لیتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شدید دباؤ سے دوچار کر دیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اہنی ساتھی سیاسی رہنماؤں کو جیل جانے کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن وہ ایسا کوئی بھی بیان دینے سے مکمل گریز کرتے نظر آتے ہیں کہ جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کر دے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تو اسٹیبلشمنٹ کو گالی دینے سے پاکستان کے مسئلے حل ہونا ہوتے تو اب تک ایسا ہو چکا ہوتا۔ دوسری جانب نواز لیگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے فوجی قیادت مخالف بیانیہ اب زبان خلق بن چکا ہے جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اس کو اقتدار سے اور بھی دور کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button