کیا شبانہ اعظمی کے ساتھ حادثہ قتل کی کوشش تھی

بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے والی نامور اداکارہ شبانہ اعظمی کے ساتھ پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے حوالے سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ متنازعہ شہریت قانون کے خلاف مودی سرکار کو للکارنے والی شبانہ اعظمی اور ان کے شوہر جاوید اختر کی آواز دبانے کے لیے انہیں قتل کرنے کی سازش کی گئی۔
18 جنوری کو بھارتی ریاست مہاراشٹر سے خبر آئی کہ بولی وڈ کی لیجنڈری اداکارہ شبانہ اعظمی روڈ حادثے میں سخت زخمی ہوگئیں۔ شبانہ اعظمی اپنے شوہر فلم ساز اور لکھاری جاوید اختر کے ساتھ پونے سے ممبئی آ رہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ شبانہ اعظمی کی کار کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں شبانہ اعظمی سخت زخمی ہوئیں تاہم خوش قسمتی سے جاوید اختر اور ان کے ڈرائیور محفوظ رہے۔ شبانہ اعظمی کو فوری طور پر ممبئی کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں اب ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کی تمام رپورٹس کلیئر آئی ہیں۔ جاوید اختر نے بھی تصدیق کی ہے کہ اداکارہ کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے اور اداکارہ کو کوئی بڑی اندرونی چوٹ نہیں لگی۔ جاوید اختر کے مطابق شبانہ اعظمی کے تمام ٹیسٹس کلیئر آئے ہیں اور انہیں کوئی بھی بڑی اندرونی چوٹ نہیں لگی اور نہ ہی ان کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شبانہ اعظمی کو کئی گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا اور ان کی حالت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تاہم دوسری جانب شبانہ اعظمی کے حادثے کے بعد بھارتی خاتون صحافی، فوٹوگرافر، تنقید نگار اور بلاگر سنجکتا باسو نے اداکارہ کے حادثے سے متعلق سوالات اٹھا کر کئی لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ سنجکتا باسو جو بولی وڈ فلموں سمیت شوبز، فیشن، سیاست، ہندو انتہا پسندی، بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مظالم اور حال ہی میں بنائے گئے متنازع شہریت قانون پر کھل کر لکھتی ہیں انہوں نے بھارتی خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل کی جانب سے اداکارہ کے حادثے سے متعلق کی جانے والی ٹوئٹ پر سوال اٹھاکر کئی لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔ اے این آئی نے گزشتہ روز سب سے پہلے شبانہ اعظمی کے روڈ حادثے سے متعلق ٹوئٹ کی تھی جس پر سنجکتا باسو نے سوال اٹھایا تھا کہ ’کیا واقعے شبانہ اعظمی کی گاڑی کے ساتھ محض روڈ حادثہ پیش آیا؟’
سنجکتا کی جانب سے نکتہ اٹھائے جانے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ کہیں شبانہ اعظمی کو ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ شبانہ اعظمی وہ پہلی مسلمان اداکارہ ہیں جنھوں نے بھارت کے متنازعہ شہریت قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ پھر جب طلباء اور سول سوسائٹی اس قانون کی وجہ سے مودی سرکار کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور علامہ اقبال فیض احمد فیض، اور جالب کے گیت گائے تو ان طلبہ پر بھی غداری کے الزامات لگنے شروع ہوئے۔ گزشتہ دنوں جب فیض احمد فیض کے کلام،،، ہم دیکھیں گے،،، اور جالب کے کلام،،، میں نہیں مانتا،،،،،پر طرح طرح کے فتوے لگائے گئے تو شبانہ اعظمی کے شوہر جاوید اقبال نے بڑھ کر فیض، اقبال اور جالب کا دفاع کیا۔ بھارت میں بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید شبانہ اعظمی اور جاوید اختر کو خاموش کرانے کے لیے ریاستی عناصر نے انہیں ٹریفک حادثے میں پار لگانے کی مذموم کوشش کی ہو۔
خاتون صحافی کی جانب سے اے این آئی کی ٹوئٹ پر سوالیہ ٹوئٹ کرنے پر لوگوں نے جہاں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ افراد نے ان کی بات سے اتفاق بھی کیا اور کہا کہ واقعے کی تفتیش ہونی چاہیے۔ تاہم سنجکتا باسو نے خود اپنے سوال کے بعد خود کو ملنے والے جوابات کے حوالے سے ٹوئٹ کی اور بتایا کہ ان کے سوال پر 409 کمنٹس میں سے 400 کمنٹس میں انہیں گالیاں دی گئیں اور ان پر تنقید کی گئی۔ خاتون صحافی نے الزام عائد کیا کہ انہیں ہندو انتہا پسندو نے سوال اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد ممبئی پولیس نے شبانہ اعظمی کے ڈرائیور کے خلاف ٹیک اوور اور تیز رفتاری سمیت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ بھی دائر کردیا۔
