کیا شیر جوان فورس کا حلف نامہ بغاوت کی ترغیب دیتا ہے؟

حال ہی میں تشکیل دی جانے والی ن لیگ کی ذیلی تنظیم شیر جوان فورس اپنے ممبران کےحلف نامے میں ریاستی اداروں کے حوالے سے درج ایک شق کی وجہ سے حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے جس میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ووٹ کی عزت کی خاطر ریاستی اداروں کے خوف کو پسِ پشت ڈال کر ٹکراؤ سے بھی گریزنہیں کیا جائے گا۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ شیر جوان فورس کے حلف نامے کی یہ شق براہ راست عوام کو ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی ترغیب دیتی ہے جو کہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
شیر جوان فورس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کپتان کی ٹائیگر فورس کے مقابلے کے لئے بنائی گئی ہے۔ تاہم شیر جوان فورس کے حلف نامے سے لگتا ہے کہ اس کا مقصد صرف نواز شریف کے بیانیے کی ترویج ہے اور اس کے اغراض و مقاصد ٹائیگر فورس سے یکسر مختلف ہیں۔ یکم نومبر کے روزن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے لاہور کی شیر جوان فورس کی تعارفی تقریب کے بعد سے اس تنظیم کے حلف نامے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں جس میں ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی بات کی گئی ہے۔ تاہم ن لیگ کے کچھ رہنما اس حلف نامے سے اظہار لاعلمی کر رہے ہیں جبکہ کچھ نے اس حلف نامے کو جعلی قرار دے کر اس سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ نے دراصل تحریک انصاف حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی ملک گیر رضاکار ٹائیگر فورس کے مقابلے میں نون لیگ نے شیر جوان فورس قائم کی ہے۔ ن لیگ کا استدلال ہے کہ چونکہ شیر ان کی جماعت کا انتخابی نشان ہے اس لیے ٹائیگر شیر جوان فورس بنانے کا حق صرف انہیں حاصل ہے۔ لیکن جب سے شیر جوان فورس وجود میں آئی ہے تب سے اس کی ماہیت اور اغراض و مقاصد سے زیادہ اس تنظیم سے منسوب حلف نامہ زیر بحث ہے جس میں نواز شریف اور مریم کے باغی بیانیے کے تناظر میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ووٹ کی عزت کی خاطر ریاستی اداروں سے خوف کو پسِ پشت ڈال ڈالے ٹکراؤ سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شیر جوان فورس کی افتتاحی تقریب میں ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی جس پر مریم نواز نے کارکنان کو فوج مخالف نعرے لگانے سے روک دیا۔ اس حلف نامے کی کئی نکات ایسے ہیں جو عملی طور پر ن لیگ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اس لئے بعض حلقے اس حلف نامے کو اصلی قرار دیتے ہوئے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر نواز شریف اور ان کی بیٹی نے کھلے عام یہ بیانیہ پہپے ہی اپنا رکھا ہے تو پھر اس حلف نامے کو تسلیم کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔
سات نکات پر مبنی شیر جوان فورس کے اقرار نامے کی پہلی شق کے مطابق اس فورس کا ہر رکن ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے قیادت کے ہر پروگرام میں حاضر ہونے کا پابند ہوگا اور مقاصد کے حصول تک قیادت کی ہر آواز پر ہمہ وقت تیار رہے گا۔ دوسری شق میں ریاستی اداروں سے ڈرے بغیر ووٹ کی عزت کو یقینی بنانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ شق نمبر 3 میں یہ حلفیہ اقرار کیا ہے کہ ہر پروگرام میں نظم و ضبط کو پاکستانی قانون کے مطابق ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ شیر جوان فورس کے اقرار نامے کی چوتھی شق میں ہر رکن سے یہ حلف لیا گیا ہے کہ وہ قیادت کی ہر فیصلے پر بغیر کسی حیل و حجت سر تسلیم خم کرے گا۔ پانچواں نکتہ مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے ہے جس میں یہ حلف لیا گیا ہے کہ بیرون ملک بھر سے مقیم قیادت کو زبردستی پاکستان لانے کے لیے اقدامات کیے گئے تو شیر جوان اس کی مخالفت میں جیل جانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چھٹی شو میں شیر جوان فورس کے اراکین سے حلف لیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر قیادت کے بیانیے کی تشہیر کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔ ساتویں اور آخری شق میں شیر جوان فورس کا ہر رکن میں حلفیہ اقرار کرتا ہے کہ کسی بیانئے یا فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا اختیار صرف مسلم لیگ نون کی قیادت کے پاس ہوگا اور شیر جوان فورس کے اراکین ہر فیصلے کا خیر مقدم کریں گے۔
اس حلف نامے میں شامل بعض شقوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خود نواز شریف لندن میں بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف ابھار رہے ہیں۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی ن لیگی قیادت اس حلف نامے میں شیر جوان فورس کے اراکین کو پابند کرر ہی ہے کہ وہ ہر صورت قیادت کے احکامات کو تسلیم کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی اقرار کروایا کہ بیانیئے پر یوٹرن لینے کا حق صرف لیگی قیادت کو حاصل ہے، ورکرز کو ہر صورت سر تسلیم خم کرنا ہوگا۔ تاہم دوسری جانب ن لیگ ایسے کسی بھی حلف نامے کو جعلی قرار دے کر بری الذمہ ہوچکی ہے۔
مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کا شیر جوان فورس سے متعلق کہنا ہے کہ شیر جوان فورس نوجوانوں کے سیاسی شعور میں اہم کردار ادا کرے گی۔ جبکہ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شیر جوان فورس دراصل ن لیگ کے طلبہ ونگ ایم ایس ایف کا حصہ ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فورس کا مقصد مریم ناز کی سیکیورٹی اور لیگی رہنمائوں کی گرفتاریوں کی صورت میں سڑکیں بند کرکے انتشار پھیلانے کے سو اکچھ نہیں۔
