کیا صدر جو بائیڈن پاکستانی توقعات پر پورا اتریں گے؟


نئے امریکی صدر جو بائیڈن سے امریکی عوام ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا اور پاکستان کو بھی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ 77 سالہ جو بائیڈن ان امیدوں پر کس حد تک پورا اترتے ہیں اور ان کے عہد صدارت کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

گزشتہ برس تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے 77 سالہ جوبائیڈن 20 جنوری 2021 کو امریکا کے 46 ویں صدر بنے۔جوبائیڈن نے اپنے حریف ریپبلکن پارٹی کے 74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی جو اس وقت 45 ویں امریکی صدر تھے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس جوبائیڈن کا خاندان بڑا ہے اور وہ دادا اور نانا بھی بن چکے ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ساتھ صدارتی ہاؤس میں اہلیہ سمیت اور کون کون مکین بنے گا۔ دنیا بھر کے لوگوں کی طرح پاکستانی عوام بھی نئے امریکی صدر اور اس کے اہل خانہ سے متعلق جاننا چاہتے ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جوبائیڈن اور ان کے اہل خانہ سے متعلق انٹرنیٹ پر معلومات کو تلاش کرنے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان نے جو بائیڈن کے دور کو پاک امریکہ تعلقات کے لیے ایک اچھا آغاز قرار دیا ہے کیونکہ نئی امریکی انتظامیہ میں اہم عہدوں کے لیے نامزد اہم شخصیات میں سے بہت اس سے قبل اوباما انتظامیہ کا حصہ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن، فارن ریلیشنز کمیٹی کے بہت متحرک اور فعال رکن رہے تھے۔ وہ پاکستان کا دورہ بھی کرچکے ہیں اور جنوبی ایشیائی خطے اور پاکستان کے حوالے سے واضح رائے رکھتے ہیں۔ انہیں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ اس کی وجہ جو بائیڈن کے جنرل مشرف کو اقتدار سے ہٹانے یعنی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوششیں تھیں۔اب پاکستان کی بائیڈن سے کئی معاملات پر توقعات ہیں جن میں افغان تنازعہ، مسئلہ کمشیر، معاشی اور فوجی تعاون اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں پاکستان کی مدد ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان مسئلے کے حل کے لئے جو بائیڈن کو وہیں سے سلسلہ جوڑنا ہوگا جہاں سے ٹوٹا ہے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جو بائیڈن انتظامیہ کو بطور ثالث اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کو معاشی اور فوجی امداد کے حوالے سےبھی بائیڈن انتطامیہ سے کئی توقعات وابستہ ہیں۔ سب سے بڑھ کر عالمی سطح پر معاشی پابندیوں سے بچنے کے لئے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے ہر صورت نکلنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ پاکستان کی بھرپور مدد کرسکتا ہے۔

امریکا کے 46 ویں صدر جو بائیڈن نے ایسے وقت میں ملک کی قیادت سنبھالی ہے جب امریکا کورونا وائرس کی وبا کا سامنا کر رہا اور اسکے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیل چکی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ امریکا کو نسلی امتیاز، سیاسی انتہاپسندی، سفید فام بالادستی اور اندرونی دہشتگردی کے چیلنجز درپیش ہیں۔ایک طرح سے امریکا دوراہے پر کھڑا ہے اور اسے فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کس سمت جانا ہے اور ملک کو درست سمت پر ڈالنے کے لیے الفاظ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ اس کا اظہار صدر بائیڈن نے اپنے پہلے خطاب میں بھی کیا۔ بائیڈن نے اس موقع کو اپنی ترجیحات اور مسائل کا حل تجویز کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قوم کو امید دلانے اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد کرنے کی کوشش کی۔ مسائل کے حل کے لیے تجاویز اور منصوبوں سے آگاہی کے لیے ان کی ٹیم نے پہلے ہی 17 اقدامات کی فہرست جاری کردی تھی، جن میں امیگریشن، ماحولیات اور صحت سمیت اہم امور شامل ہیں اور بائیڈن نے ان امور پر اوول آفس میں پہلے ہی دن صدارتی احکامات جاری کردیے۔ سابق صدر ٹرمپ نے جنوری 2017 میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے سات دن بعد جن سفری پابندیوں کا اعلان کیا تھا، نئے صدر جو بائیڈن نے ان کا خاتمہ کر دیا ہے۔ابتدائی طور پر ان پابندیوں کا نشانہ سات مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک بنے تھے تاہم بعد میں عدالتی احکامات کے بعد ان پابندیوں میں کچھ تبدیلیاں بھی لائی گئی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، وینزویلا اور شمالی کوریا کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

تاہم دوسری جانب عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ جاتے جاتے جو بائیڈن کے لئے کئی نئے مسائل کھڑے کر گئے ہیں اور بائیڈن کے لئے پہلا چیلنج اپنے گھر کو ٹھیک کرناہوگا۔ خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ نے آخری دنوں میں امریکی حکام اور تائیوان کے سرکاری نمائندوں کے درمیان رابطے پر عائد پابندی ہٹالی جو چین کے ساتھ نیا محاذ کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ یمن کے حوثی باغیوں کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا، کیوبا کو دہشتگرد ملکوں کی فہرست میں ڈالا اور چین پر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام لگایا۔ ٹرمپ کے ان سارے اقدامات کو صرف ایگزیکٹو آرڈر سے واپس کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ دنیا بھر میں امریکا کے دوست اور حریف ممالک کو یہ اندازہ ہے کہ بائیڈن کو اندرونی طور پر مسائل کے انبار کا سامنا ہے۔ پیرس معاہدے میں واپسی، عالمی ادارہ صحت کی دوبارہ رکنیت جیسے صدارتی فرمان امریکا کی پرانی عالمی حیثیت بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔4 سالہ ٹرمپ کا دور اور کورونا وائرس وبا کے سبب بدلی بین الاقوامی صورتحال میں امریکا کا قائدانہ کردار ہوگا یا نہیں؟ اور ہوگا تو کس حد تک؟ اس سوال کا جواب ابھی دوستوں اور دشمنوں کو نہیں مل پایا۔ بائیڈن خارجہ پالیسی واضح کرنے میں جتنا وقت لیں گے امریکا کے حریف قیادت کے اس خلا کو پُر کرنے کی اتنی ہی کوشش کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button