کیا عدلیہ ڈسکہ الیکشن پرحکومت کو ریلیف دے پائے گی؟


کپتان حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے اعلان کے بعد قانونی حلقوں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ کیا لاہور ہائیکورٹ اس معاملے میں حکومت کو ریلیف دے پائے گی یا نہیں؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت ڈسکہ میں دوبارہ نواز لیگ کی خاتون امیدوار کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی ہے اور اس معاملے کو لاہور ہائیکورٹ میں لے جانے کا رسک لے رہی ہے حالانکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال بہت کم ملتی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں نواز لیگ کی جانب سے عائد دھاندلی کے الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے ہوئے 18 مارچ کو پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے جسے حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں ہونے والی کھلی دھاندلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس حلقے کا رزلٹ کالعدم قرار دیا گیا ہے لہذا لاہور ہائیکورٹ سے پی ٹی آئی کو حکومت کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کی توقع بہت کم ہے خصوصا جب اسٹیبلشمنٹ بھی اپوزیشن اور حکومت کی آپسی جنگ میں نیوٹرل ہونے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ اپنے تاریخی فیصلے میں الیکشن کمیشن نے انتخاب کالعدم قرار دینے کی ٹھوس وجوہات بیان کی ہیں جو درصل پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے زیر سایہ دھاندلی کے ثبوتوں کا پلندہ قرار دی جا رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق انہیں ڈسکہ الیکشن کے دوران سنگین بے ضابطگیوں کے ثبوت سامنے آنے کے بعد ایسا ہرگز نہیں لگتا کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے کسی قسم کا کوئی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈسکہ این اے 75 کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دینے اور دوبارہ انتخابات کا فیصلہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ تو ہے ہی لیکن یہ فیصلہ کئی دیگر حوالوں سے بھی منفرد ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یاد رہے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں رواں ماہ 19 فروری کو ضمنی انتخابات کے دن 20 پولنگ سٹیشنز کے عملے کے 24 گھنٹے تک غائب رہنے پر نتائج کا معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا تھا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج روک کر جاری کی گئی وضاحت میں پولنگ سٹیشنز کے عملے کی جانب سے بلاوجہ تاخیر، اور پولنگ سٹاف کی بازیابی میں چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کی جانب سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ کیا گیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت 22 فروری کو شروع کی تھی۔ الیکشن کمیشن میں این اے 75 کے ریٹرننگ آفیسر نے رپورٹ بھی جمع کروائی۔ جس میں انتخابی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کی شکایات کی گئی تھیں۔الیکشن کمیشن میں ن لیگ کی امیدوار نے پورے حلقے کے انتخابات دوبارہ کرانے کی درخواست دی تھی جبکہ وزیر اعظم نے بھی بیان دیا تھا کہ وہ دھاندلی کے خلاف ہیں، لہذا اگر ن لیگی امیدوار کو شبہ ہے تو متنازع نتائج کے حامل 20 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے چاہییں۔ ن لیگ کی امیدوار کی جانب سے فارم 45 بھی جمع کروائے گئے اور ویڈیوز کے ساتھ دیگر شواہد بھی دیے گئے جن میں بدنظمی اور دھاندلی سے نتائج تبدیل کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی امیدوار نے بھی ریکارڈ جمع کرایا جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ جن 20 پولنگ سٹیشنز کے عملے کے غائب ہونے کا الزام ہے وہ دھند کے باعث بروقت ریٹرننگ آفیسر کے دفتر نہیں پہنچ پائے۔ ن لیگی امیدوار کے مطابق الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود پولیس آفیسر ذوالفقار ورک کو حلقے میں سکیورٹی کی ذمہ داریوں سے نہیں ہٹایا گیا، لہذا جو بھی انتخابی عمل کی سازش میں ملوث تھے ان کو سرکاری عہدوں سے ہٹایا جائے۔
چنانچہ ڈسکہ کے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا فیصلہ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے قرار دیا کہ فراڈ کے ذمہ دار افسران کو مثالی سزائیں دینے سے آئندہ انتخاب میں الیکشن کمیشن کی رٹ قائم رہے گی۔ اس کیس کی پیروی کے لیے مسلم لیگ ن کی امیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے جبکہ حکمران جماعت کی نمائندگی محمد علی بخاری اور بیرسٹر علی ظفر نے کی۔ نواز لیگی امیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ میں پولنگ کے دن بڑے پیمانے پر بد انتظامی اور بے ضابطگیاں دیکھی گئیں۔ پہلے ن لیگ کے اکثریتی ووٹرز پر مشتمل پولنگز سٹیشنز پر ہنگامہ آرائی کروا کر پولنگ روکی گئی اور پھر فائرنگ کر کے ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہوتی رہی، اس فائرنگ سے دو افراد بھی قتل ہو گئے۔ اس کے باوجود جب ن لیگی امیدوار کو شکست نہ دی جا سکی تو 20 پولنگ سٹیشنز کا عملہ ہی غائب کر دیا گیا اور انکے پاس موجود نتائج تبدیل کر دیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے اسکی ہدایت کے باوجود لاپتہ پولنگ عملے کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی، اسکے علاوہ الیکشن رولز کے مطابق افسران کے تبادلوں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ڈی ایس پی ذوالفقار ورک کو ذوالفقار علی کے نام سے دوبارہ تعینات کر دیا گیا جس سے کہ اس کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق 14 گھنٹے گہری دھند میں غائب ہونے کے بعد برآمد ہونے والے پولنگ عملے کے پاس موجود نتائج تبدیل ہو چکے تھے۔ اس بات کا ثبوت یہ تھا کہ ڈسکہ کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹ پڑنے کا تناسب تقریبا 35 فیصد رہا جبکہ دھند زدہ بیس حلقوں میں یہی تناسب دوگنے سے بھی زیادہ، یعنی 75 فیصد تک دکھایا گیا۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق 337 پولنگ سٹیشنز کے نتائج میں ن لیگ کی امیدوار کامیاب ہوئیں لیکن مارجن کم تھا جبکہ نتائج تبدیل ہونے کے بعد پی ٹی آئی امیدوار کی کامیابی جعلی ووتوں سے یقینی بنانے کی کوشش ہوئی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے ن لیگی امیدوار کے الزامات مسترد کر دیے۔ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کاسٹ کرنے سے کسی کو نہیں روکا گیا اور پولنگ عملے کے لیے نتائج جمع کرانے کا کوئی ٹائم فریم نہیں، ان کی تاخیر سے آمد کو دھاندلی کا موجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہون نے کہا کہ سیدہ نوشین افتخار نے پہلی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ 337 پولنگ سٹیشنز کا نتیجہ انہیں مل گیا تھا جو انہیں قبول بھی ہے جبکہ 23 پولنگ سٹیشن کے رزلٹ پر اعتراض کیا اور 23 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا۔ لیکن بعد میں پورے حلقہ میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کر دیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے اس تمام معاملے کی مکمل چھان بین اور سماعت کے بعد 25 فروری کو جاری کیے گئے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ پنجاب حکومت ڈسکہ میں شفاف اور پرامن انتخابات منعقد کروانے میں ناکام رہی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ فائرنگ سے ووٹرز کو خوفزدہ کیا گیا، نتائج میں بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں اور انتخابی ماحول کو خراب کیا گیا، اس لیے 19 فروری کو ہونے والے انتخاب کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلے پر وفاقی وزیر اظلاعات شبلی فراز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ اداروں کو آزاد رکھنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا، کسی ادارے پر دباؤ نہیں ڈالا۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ دھاندلی اور بدمعاشی کی سیاست کو فروغ دیا۔ یہ شکست ہے اس مائینڈ سیٹ کی جو اداروں کی بالادستی نہیں مانتے، پسند کے افسران بٹھا کر من پسند فیصلے لینے والوں کے لیے یہ ایک مثال ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی انتخابات تنازعات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ 1973 کے آئین کی منظوری کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات جو 1977 میں منعقد ہوئے تھے اتنے متنازع ہوئے کہ اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہو گئی اور ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا۔اس کے بعد نوے کی دہائی کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی بازگشت سنائی دیتی رہی مگر اس کا کوئی قابل ذکرنتیجہ نہیں نکلا۔ الیکشن کمیشن نے 2004 میں کراچی میں الیکشن کے دوران تشدد کے واقعات کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی نے دھاندلی کا الزام لگایا اور حکومت کے خلاف ایک زبردست تحریک چلائی تاہم اس تحریک سے بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور بالآخر منظم دھاندلی کے ثبوت نہ ملنے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کے نتائج کو تسلیم کر لیا گیا۔2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی تو اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تاہم الیکشن کمیشن نے سال 2013 کی طرح نتائج برقرار رکھے۔
سیاسی مبصرین اور الیکشن کمیشن کے سابق افسران کے مطابق کسی انتخابی تنازع میں ایک حکومت کے خلاف حالیہ سخت اور منصفانہ فیصلے کی مثال نہیں ملتی۔
الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق ماضی میں بھی شکایات آتی رہیں کہ کسی خاص حلقے میں بدانتظامی یا تشدد کے واقعات ہوئے تاہم اس صورت میں زیادہ تر چند پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا جاتا تھا۔ عام طور پر اس طرح کے کیسز میں الیکشن ٹربیونل فیصلہ دیا کرتا تھا کہ کسی حلقے میں امیدوار نا اہل ہو گیا تو وہاں دوبارہ پورے حلقے میں الیکشن ہوتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018 میں خواتین کے 10 فی صد سے کم ووٹنگ پر خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے صوبائی حلقے 23 وَن میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا تاہم وہ پہلے سے قانون میں طے شدہ تھا۔ تاہم ڈسکہ کیس اپنی مثال آپ ہے۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق شفاف الیکشن کے حوالے سے مستقبل میں اس فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں الیکشن کمیشن کے حکم پر ری الیکشن تو پہلے بھی ہو چکے ہیں مگر الیکشن کمیشن نے اس طرح کھل کر پہلی دفعہ ریمارکس دیے ہیں جن میں پوری صوبائی حکومت کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھائے ہیں۔کنور دلشاد نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 کے تحت الیکشن کمیشن کی حکم عدولی پر اب صوبائی چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور دیگر اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ الیکشن قوانین کے تحت کمیشن کو ہائی کورٹس کے ججوں کے برابر وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button