کیا عمران خان کا جلد کورٹ مارشل ہونے والا ہے؟

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی طرف سے سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران سے کوئی رایت نہ برتنے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے واضح اعلان کے بعد عمران خان کٰکلاف شکنجہ کستا نظر آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق نو مئی کو پاکستان میں عسکری تنصیبات، قومی اہمیت کے مقامات اور سرکاری و غیر سرکاری املاک کو بےدردی سے برباد کرنے اور سپرد آتش کا ملک دشمن جرم اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ سب کچھ کرنے والے اور ان کے پشتی بانوں کو ایسی سزا دی جائے جو اپنوں اور بیگانوں کے لئے نمونہ عبرت ہو۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو ، کور کمانڈرہاؤس ، فوجی چوکیوں سمیت بہت سی آرمی تنصیبات پر حملے اورجلاؤ گھیراؤ کے ماسٹر مائنڈ عمران خان کے آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے ذرائع کے مطابق تمام قانونی کارروائی ستمبر کے تیسرے ہفتے میں عمل میں لائی جائے گی جب اربوں روپے کے نقصان اور ریاست پاکستان کی ساکھ کو ملیامیٹ کرنے کے ذمے دار سابق وزیر اعظم کو عدلیہ کی جانب غیر معمولی اور بے مثال ریلیف فراہم کرنے کا امکان بھی لگ بھگ ناممکن ہو گا.
واضح رہے کہ عمران خان نے اپنی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کی جانب سے برپا کیۓ جانے والے فساد پر قوم سے معافی مانگنے کی بجاۓ سا ری صورت حال کا ذمہ دار پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہی قرار دیتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے عمران خان کی ان حرکتوں کے بعد اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان معاملات سلجھانے کی بجاۓ اپنے مذموم مقصد کے حصول کے لئے وطن عزیز کو خانہ جنگی کی بھٹی میں جھونکنے کے درپے ہے. اس کے بعد یہ تقریباً طے ہے کہ عمران خان کو زیادہ تاخیر کے بغیر جلد انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔ توشہ خانہ کیس میں پابند سلاسل عمران خان کو جلد امریکی سائفر، ممنوعہ فنڈنگ کیس اور 9 مئی کے الزامات پر بھی سزا سنائے جانے کا امکان ہے
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا دعویٰ ہے کہ سائفر کیس میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصافعمران خان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اگرچہ سیکریٹ ایکٹ کے تحت کچھ جرائم ایسے ہیں جن کا مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت چلایا جاتا ہے لیکن عمران خان کے جرائم کے معاملے میں ان پر عمومی عدالتی نظام کے تحت فوجداری نوعیت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
ایف آئی اے نے سائفر کا معاملہ مس ہینڈل کرنے پر حال ہی میں عمران خان کیخلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے تاہم میڈیا کو ایف آئی آر کی نقل فراہم نہیں کی گئی۔نامعلوم وجوہات کی بناء پر اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ فی الوقت، ایف آئی اے اس معاملے کی تحقیقات کے حتمی مراحل میں ہے۔ کچھ سینئر وکیلوں کو بھی مقدمے کی تیاری کے عمل میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کیس ایف آئی اے کی جانب سے دائر کیا جائے گا اور معاملہ عدالت میں لیجانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں کچھ ایسے جرائم کا بھی ذکر شامل ہے جن پر آرمی ایکٹ کے تحت فوجی حکام کیس چلاتے ہیں۔تاہم، عمران خان کے معاملے میں ذریعے نے یقین دہانی کرائی کہ ان پر فوجداری نوعیت کا کیس چلایا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کیس کی نوعیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ بظاہر استغاثہ کیلئے یہ ایک ٹھوس کیس ہوگا کیونکہ عمران خان نہ صرف خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ سائفر ان کے پاس تھا اور اس کے بعد کھو گیا، بلکہ عوام کے سامنے اس کا استعمال بھی کیا ہے۔ مزید برآں، کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا ایف آئی اے اور مجسٹریٹ کے روبرو بیان سے بھی عمران خان کیخلاف ایک ٹھوس کیس بنتا ہے۔
خیال رہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ میں جرم ثابت ہونے کے بعد سے عمران خان اٹک جیل میں قید ہیں، ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سائفر کیس میں ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔جرم ثابت ہونے سے پہلے بھی عمران خان سے پوچھ گچھ ہوتی رہی تھی اور چند روز قبل اٹک جیل میں بھی اُن سے سوالات کیے گئے تھے۔رواں ہفتے کے اوائل میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایف آئی اے نے عمران خان کیخلاف سائفر معاملے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ عمران خان کیخلاف سیکریٹ ایکٹ کی شق نمبر پانچ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
