کیا فلم ’’کھل نائیک‘‘ کا سیکیوئل بنایا جا رہا ہے؟

30 سال قبل بھارتی سینمائوں میں دھوم مچانے والی سنجے دت کی فلم ’’کھل نائیک‘‘ کے سیکیوئل بنائے جانے کی افواہیں سوشل میڈٰیا پر خوب گرم ہیں لیکن فلم کے ہدایتکار سبھاش گھئی نے اس حوالے سے افواہوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے وضاحت دی کہ ابھی صرف فلم کے سکرپٹ پر کام جاری ہے، فلم کی شوٹنگ کے لیے کسی اداکار سے معاہدہ نہیں ہوا ہے۔سنجے دت، مادھوری اور جیکی شروف کی فلم ’کھل نائیک‘ 1993 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس فلم کو آج تک کلاسِک کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم کے سیکوئل کے حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے افواہیں گردش کر رہی تھیں، فلم کے ہدایت کار سبھاش گھائی نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ ’میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے برعکس میں یہ وضاحت دینا چاہوں گا کہ مُکتا آرٹس نے کھل نائیک 2 کے لیے کسی اداکار سے معاہدہ نہیں کیا۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم گزشتہ تین سال سے اس فلم کے سکرپٹ پر کام کر رہے ہیں لیکن اس فلم کی فوری شوٹنگ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ’کھل نائیک‘ فلم کی ریلیز کے 30 سال مکمل ہونے کے حوالے سے انڈین ہدایت کار نے لکھا کہ فلم کی پوری کاسٹ 4 ستمبر کو ممبئی میں جمع ہوگی اور تین دہائیاں مکمل ہونے پر جشن منایا جائے گا۔اس سے قبل رواں سال جون میں فلم کے مرکزی کردار سنجے دت نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ساتھی اداکاروں اور سبھاش گھائی کو ’کھل نائیک‘ فلم کے 30 سال پورے ہونے پر مبارک باد دی تھی، انہوں نے لکھا تھا کہ ’30 سال ہوگئے ہیں لیکن اب بھی لگتا ہے جیسے یہ فلم کل ہی بنائی گئی ہو۔واضح رہے کہ "کھل نائیک” کو عموماً نیکی بدی کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے جہاں نیکی، بدی پر غالب آ جاتی ہے، سبھاش گھئی کی اس فلم کو بھی ان کی دیگر فلموں کی مانند حب الوطنی ابھارنے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فلم ہیرو، ہیروئن، اینٹی ہیرو اور ایک ولن کے گرد بنائی گئی ہے، اینٹی ہیرو بلّو بلرام (سنجے دت) تحریکِ آزادی ہند کے ایک سیاسی کارکن کا بیٹا ہے جو ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا رکن بن جاتا ہے۔ اس گروہ کا سرغنہ روشن مہانتا (پرمود موتو) بھارت میں دہشت گردی کروا کر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا خواہش مند ہے۔روشن کو ناکام بنانے کی ذمہ داری ایک پولیس انسپکٹر رام سنہا (جیکی شیروف) کے کندھوں پر ہے۔ رام بڑی جانفشانی سے بلو بلرام کو گرفتار کرتا ہے مگر بلو جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بلو کا فرار ہونا رام کی پیشہ ورانہ زندگی پر دھبہ بن جاتا ہے۔ رام کی محبوبہ گنگا (مادھوری ڈکشت) جو خود بھی ایک پولیس انسپکٹر ہے، رام پر لگا دھبہ دھونے کے لیے بلو بلرام کو دوبارہ پکڑنے کے مشن پر نکل جاتی ہے۔ یہاں سے فلم ایک ٹرائنگل لو اسٹوری میں داخل ہو جاتی ہے۔

Back to top button