کیا قاضی اور حافظ کو گالیاں دینے سے یوتھیے جنگ جیت پائیں گے ؟

معروف لکھاری اور کالم نگار عطاالحق قاسمی نے کہا ہے کہ عمران خان کے یوتھیوں کی جانب سے آرمی اور چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا پر مسلسل جو بیہودگی پھیلائی جا رہی ہے اس کا بنیادی مقصد فیصلہ سازوں کو دباؤ ڈال کر مجبور کرنا ہے کہ وہ جیسے ماضی میں قوم یوتھ کے قائد کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس تک لے گئے تھے اسی طرح ایک بار پھر وہ یہ کالک اپنے منہ پر ملیں۔ تاہم ایسا کوئی امکان دود دور تک نظر نہیں آتا۔

اپنی تازہ تحریر میں عطا الحق قاسمی بتاتے ہیں کہ مجھے پی ٹی آئی کے ایک دوست کی پوسٹ موصول ہوئی ہے جس میں ڈونٹس donuts کا ذکر تھا اور نیچے کچھ گالیاں درج تھیں۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ ڈونٹس اور گالیوں کا آپس میں کیا تعلق ہے، جب میں نے اس سے وضاحت مانگی تو موصوف نے بتایا کہ پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک بیکری پر اپنی بیٹی اور اہلیہ کیساتھ ڈونٹس خریدنے گئے تو سیلز مین نے پوچھا کہ کیا آپ قاضی فائز عیسیٰ ہیں۔ ان کے اثبات میں جواب دینے پر اس یوتھیے سیلز مین نے کہا ’’پھر آپ پر لعنت ہو‘‘۔

قاسمی صاحب بتاتے ہیں کہ پہلے تو مجھے یقین نہ آیا کہ کوئی شخص کسی وی آئی پی کے ساتھ ان کی اہلیہ ہی نہیں بلکہ ان کی بیٹی کے بھی سامنے یہ گندی حرکت کرسکتا ہے؟ مگر پھر مجھے تب یقین آ گیا جب میں نے قوم یوتھ کو اس ذلالت کا جشن مناتے دیکھا۔ ایک دم سے سارا سوشل میڈیا بدبو دار، گند نامہ بن گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم ایک گندی قوم ہیں جس کے چھوٹے انکے بڑوں نے گندی گالیوں کے سائے میں پال کر جوان کیے ہیں۔ ایک سانس میں فوج کے خلاف جنگ لڑنے اور دوسرے سانس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بھیک مانگنے والے کپتان کے یوتھیے قاضی فائز عیسیٰ جیسے خاندانی اور بطور جج نہایت اعلیٰ شہرت کے حامل انسان کو ویسی ہی گندی گالیاں دے رہے ہیں ،جیسی ان کے قائد نے انہیں سکھائی ہیں۔ یاد ہے کہ قومی یوتھ سے تعلق رکھنے والے ملاقات پر اپنے قریب ترین دوستوں کے لئے بھی گندی گالیوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور عمران خان کی بیعت کے بعد تو یہ سب کے سب مجسم گالی بن چکے ہیں۔

عطاالحق قاسمی کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کرنے اور اس کے لیے گالی بن جانے والے یوتھیوں کی جانب سے کسی باعزت شخصیت کے ساتھ بدتمیزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں تو عمران کی جانب سے ’’فضلو‘‘ قرار دیے جانے والے مولانا فضل الرحمٰن جیسی قابل احترام شخصیت بھی ان کی دشنام طرازی سے نہیں بچی تھی،  دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تمام یوتھیے اسی "فضلو” کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی ذلت اور عزت کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے اور یہ لوگ عزت کو آنی جانی چیز سمجھتے ہیں۔ ویسے ان کی زد سے آج تک بچا ہی کون ہے۔ عمران خان نے بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب و ملت تمام سیاست دانوں کو چور اور لٹیرے اتنی بار کہا جیسے وہ نفسیاتی طور پر اپنے اندر کے چور لٹیرے کو دھمکا رہا ہو۔ نعوذ باللہ اس نے بالواسطہ طور پر خود کو جس طرح نبی کہا، اس قسم کے نبی کے ’’صحابیوں‘‘ نے اپنے اقدامات سے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی پوری کوشش کی۔

نواز شریف خاموش کیوں ہیں اور عمران خان چپ کیوں نہیں کرتے؟

عطا الحق قاسمی کہتے ہیں کہ قومی یوتھ سے تعلق رکھنے والوں نے احسن اقبال اور خواجہ آصف کے علاوہ نواز شریف کو جلسہ عام میں اپنی ایک گھناؤنی حرکت کا نشانہ بنایا۔ یہ یوتھیے لندن میں قیام کے دوران نوازشریف کی رہائش گاہ کے باہر روزانہ ’’مجرا‘‘ کرتے تھے، لیکن آج اپنے سابقہ محسن جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے ذکر پر یہی یوتھیے توبہ استغفار کرتے ہیں، 9 مئی کو ان لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ایک مختصر سے طبقے کے ساتھ مل کر پاکستان کی ذلت کا جو سماں پیدا کیا وہ کسی بدترین دشمن نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔ دوسری طرف اندرون خانہ یہ ترچھی آنکھوں سے ان کے جوتوں کی گرد کی طرف بھی دیکھتے رہتے ہیں کہ کب بوٹ پالش کرنے کا موقع ملے۔ان لوگوں نے گھروں میں بھی فساد پیدا کئے، خاندان ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوگئے۔ جج بھی ’’فرقوں‘‘ میں تبدیل ہو کر رہ گئے اور یوں انہوں نے عدلیہ کو بھی اپنی لاج نہیں رکھنے دی۔ اور یہ سب تماشا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنے کاندھوں پر بٹھا کر وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر آئی تھی ایک دفعہ پھر وہ یہ کالک اپنے منہ پر ملے۔ مگر  یہ تو کسی کی امید پر بھی پورے نہیں اترے۔ سچا مومن تو ایک سوراخ سے ایک ہی بات ڈسا جاتا ہے۔ ویسے بھی عمران کے دعووں کے برعکس نہ تو ملک بھر کے گورنر ہاؤسز پر بلڈوزر پھیرے گئے، نہ پچاس لاکھ مکان عوام کو دیئے اور نہ ایک کروڑ نوکریاں عطا کی گئیں۔ اسی طرح کے پی کے میں بھی ساڑھے تین سو ڈیم بنا کر نہیں دکھائے۔ باتیں اور بھی بہت سی ہیں مگر میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کے حق میں تو کالم لکھتا رہا ہوں، عمران خان کے حوالے یہ میرا پہلا کالم ہے۔ غصہ تو بہت عرصے سے دل میں موجود تھا مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جس طرح ان کی بیٹی اور اہلیہ کے سامنے گالی دی گئی وہ بہت ساری دیگر وجوہ جو میں نے بیان کی ہیں، یہ وجہ اسی طرح فوری وجہ بن گئی جس طرح تاریخ کی کتابوں میں جنگ پلاسی کی فوری وجہ بیان کی جاتی ہے۔ میں جانتا ہوں ماضی میں بغیر کسی وجہ کے اس طبقے کی توپوں کا رخ میری طرف رہا ہے اور جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں جو انتہائی مضحکہ خیز الزام پیش کیے گئے تھے، ان میں وہ الزام تھا ہی نہیں جس کے حوالےسے میری کردار کشی کی گئی۔ اس دفعہ بھی ایسے ہی ہوگا مگر میں اس کے جواب میں راحت اندوری والا رویہ اپناؤں گا۔ ایک مشاعرے میں ایک سامع نے ان سے بدتمیزی کی انہوں نے جواب میں کہا برخوردار میں اس مقام تک بیالیس برس میں پہنچا ہوں اور تمہارے مقام تک پہنچنے کےلیے مجھے صرف ایک منٹ لگے۔گا۔

Back to top button