کیا مندر پر حملے کی ذمہ دار ہندو برادری ہے؟

پاکستان میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ حال ہی میں ایک ہندو مندر پر حملہ کر کے اسے تباہ کرنے والوں نے اب ہندو برادری کو ہی اس افسوس ناک واقعے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ یہ الزام لگانے والوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سال 31 دسمبر کو کرک میں مندر پر حملہ کرنے والوں کو منت سماجت کرنے پر معافی دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ویسی ہی سوچ رکھنے والوں نے پانچ ماہ کے اندر ہی صادق آباد میں ایک اور ہندو مندر پر ہلہ بول دیا اور اسے تباہ کر دیا۔ لہذا ایسے واقعات میں حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ ہندو برادری بھی برابر کی قصور وار ہے کیونکہ یہ انہیں سزا دلوانے کی بجائے ہر بار معاف کردیتی ہے۔
یعنی پاکستان کا دانشور طبقہ ایسے واقعات میں متاثرہ ہندو برادری کو بھی اس لئے قصوروار ٹھہراتا ہے کہ آخر ہر بار یہ ظالم کا مقابلہ کرنے کی بجائے اسے معاف کیوں کردیتی ہے حالانکہ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس معافی کا مطالبہ بھی ریاست پاکستان کے طاقتور لوگوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردراوں کا کہنا ہے کہ اصل غلطی حکومت کی ہے جس نے صلح کے لیے جرگہ بنوایا اور حملہ آوروں اور متاثرین میں افہام و تفہیم کروادی۔ خیال رہے کہ اس واقعے میں 121 افراد کو گرفتار کیا گیا بشمول مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے رہنما کے جس نے ہجوم کو مندر پر حملے کے لیے اُکسایا۔ 13 مارچ کو فریقین کے درمیان جرگے کے ذریعے تصفیہ ہوا جس کے بعد ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی منت سماجت پر ہندو برادری نے انہیں معاف کر دیا۔ منت سماجت صرف اس لیے کی گئی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے از خود نوٹس لیا اور سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ تباہ ہونے والی املاک کی بحالی کی رقم ملزم مولوی شریف اور ان کے گروہ سے وصول کی جائے۔ بہرحال مارچ میں منت سماجت کر کے معافی مانگنے والوں کی سوچ رکھنے والوں نے پانچ ماہ کے اندر ہی ایک اور مندر پر ہلہ بول دیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں مشتعل ہجوم نے بھونگ میں واقع مندر پر دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی اور وہاں نصب مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ وجہ ایک آٹھ سالہ ہندو بچہ تھا جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا اور
اس نے ایک مقامی مسجد کی گراونڈ میں پیشاب کردیا تھا۔ انتہا پسندوں نے اس کا بدلہ مندر پر حملہ کر کے لیا۔ اس معاملے کا بھی چیف جسٹس گلزار احمد نے از خود نوٹس لیا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ نامعلوم ملزمان نے مندر پر حملہ کرنے سے پہلے اس سے ملحقہ امام بارگاہ کے علم کو جلایا اور اس کے بعد مندر پر حملہ کیا۔ مسجد، امام بارگاہ اور مندر ایک ہی جگہ پر واقع ہیں اور ہندو جب بھی وہاں سے گزرتے تھے تو وہ احتراماً علم کو ہاتھ لگاتے تھے۔عدالت نے سماعت کے دوران مندر پر حملے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مندر کی بحالی کے اخراجات بھی انہی ملزمان سے لیے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے واقعات کے باعث پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔ جناب عالی بدنامی تو گذشتہ ڈیڑھ سال میں کئی بار ہو چکی ہے۔بدنامی تو اس وقت بھی ہوئی تھی جب کراچی کے علاقے لیاری میں تقسیم ہند سے قبل کا ہنومان مندر ایک بلڈر نے مسمار کر دیا تھا۔ پھر گذشتہ سال اکتوبر میں صوبہ سندھ کے علاقے ننگرہار میں مندر کے اندر پڑی مورتیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہندو برادری نے اس مندر میں نوراتری کی پوجا کی۔ نامعلوم حملہ آوروں نے ہنگلاج ماتا کا سر توڑ دیا اور شیر کو بھی نقصان پہنچایا۔ گذشتہ سال جنوری میں ہجوم نے تھرپارکر کے علاقے چھاچھرو میں واقع ماتا رانی بھٹیانی دیوی کے مندر میں توڑ پھوڑ کی اور ہندؤں کی مذہبی کتابوں کو آگ لگا دی۔ حملہ آوروں نے مندر میں پڑی مورتی کو نقصان پہنچایا اور چہرے پر کالا رنگ پھیر دیا۔ اور گذشتہ سال ہی لوگوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے مندر کو اس وقت نقصان پہنچایا جب مندر کے لیے الاٹ کی گئی جگہ کے ارد گرد دیوار کھڑی کرنے کا کام شروع کیا گیا۔
پھر رواں سال ہی راولپنڈی کے علاقے پرانا قلعہ میں واقع ایک سو سالہ قدیم مندر پر ایک درجن سے زائد افراد نے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ اس مندر میں مرمت کا کام جاری تھا جس کے باعث اس میں نہ تو ہندو برادری عبادت کرتی تھی اور نہ ہی اس میں مورتیاں پڑی تھیں۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس وقت صرف 20 مندر فعال ہیں جن میں سے چار پنجاب میں، 11 سندھ میں، تین بلوچستان میں اور دو خیبر پختونخوا میں۔ حال ہی میں آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کی جانب سے ایک سروے جاری کیا گیا تھا جس میں چونکا دینے والے اعداد و شمار دیے گئے۔ اس سروے میں کہا گیا کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں 428 ہندو مندر موجود تھے ان میں سے 408 مندروں کو ریسٹورنٹس، کھیلوں کی دکانوں، سرکاری دفاتر اور سکولوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے صرف واضح طور پر ایسے واقعات کی مذمت کرنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ان واقعست میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ ہر ایسے واقعے کی پوری طرح اور تیزی سے چھان بین ہونی چاہیے۔ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی مذہبی رہنما یا علاقے کا اثرو رسوخ رکھنے والا شخص لوگوں کو اکسانے سے باز رہے۔
