کیا مولانا کی جماعت پرو طالبان موقف کی وجہ سے جیتی؟

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو شکست فاش سے دوچار کرنے والی جمعت علمائے اسلام کی کامیابی کو افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے اور مولانا فضل الرحمان کے پرو طالبان موقف کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام ف کی کامیابی کو اکثر مبصرین عمران حکومت کی بدتر کارکردگی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کے ہرو طالبان موقف کی وجہ سے ملنے والی عوامی مقبولیت کا سبب بھی قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کار ان انتخابابی نتائج کو افغانستان میں آنے والی سیاسی تبدیلی اور خیبر پختونخوا میں اس کے ممکنہ اثرات کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر اعجاز خٹک نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعت کی کامیابی افغانستان میں طالبان کی حکومت اور پاکستان کی خراب پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو  پاکستان میں جتنا سراہا گیا، اس سے عوامی سطح پر مذہبی جماعتوں کے لیے  پسندیدگی پیدا ہوئی اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ یہ ٹھیک ہے کہ جمعیت کے پاس مدرسوں کا ایک واضح ووٹ بینک ہے، لیکن صرف مدرسوں کا ووٹ پڑنے سے وہ نہیں جیت سکتے تھے۔ انہیں عام عوام نے بھی ووٹ دیا ہے۔ پروفیسر اعجاز  نے مزید کہا کہ جن سیاسی جماعتوں کو جے یو آئی کے جیتنے پر دھچکا لگا ہے، انہیں خود اپنی کیلکولیشنز نے دھوکہ دیا ہے، کیونکہ وہ اپنا مدمقابل کسی اور کو سمجھتے رہے۔
اس وقت خیبر پختونخوا میں عموماً تعلیم یافتہ اور قوم پرست طبقہ تحریک انصاف کی شکست پر خوش تو نظر آتا ہے لیکن جے یو آئی ف کی کامیابی پر کسی قدر ناراض بھی نظر آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی مقبولیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور کامیابی کی وجہ ٹیکنیکل ہے۔ ان کا کہن اہے کہ مثال کے طور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا شمار یہاں کے بڑی جماعتوں میں ہوتا تھا لیکن حالات کی خرابی کے بعد ان دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ نے خیبرپختونخوا کی سیاست میں جزوی حصہ لینے کی کوشش کی اور اس وقت حالانکہ یہ دونوں جماعتیں عوامی سطح پر پرانی مقبولیت نہیں رکھتی لیکن خاصا بڑا طبقہ اس وقت بھی ان دونوں جماعتوں کا ساتھ دے رہا ہے جو اگر کسی بھی جماعت کی حمایت کرے تو ان کو واضح کامیابی مل سکتی ہے اور ان انتخابات میں قریباً دونوں جماعتوں کی حمایت جے یو آئی کے ساتھ تھی۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک جمعیت علما اسلام کی کامیابی کی ایک اور بڑی وجہ امیدواروں کی سلیکشن تھی، جے یو آئی نے اکثر ان لوگوں کو امیدوار رکھا جو مالی لحاظ سے کافی مضبوط تھے۔ ٹانک شہر میں آخری لمحات میں مبینہ طور پر ایک ووٹ کی بولی سات سے دس ہزار تک پہنچی۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان، جہاں ابھی مئیر کے الیکشن ہونے ہیں، وہاں کے مئیر کی ٹکٹ راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک بڑی کاروباری شخصیت کو دی گئی ہے۔ پورے صوبے میں جے یو آئی کے امیدوار باہر سے نظر آرہے ہیں اور پارٹی کے اندر سے بہت کم لوگوں کو ٹکٹس جاری کیے گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں قصہ پارینہ بن چکی ہے لیکن یہاں کے عوام کا متبادل جے یو آئی نہیں بنی تاہم آنے والے دنوں میں قوم پرست جماعتوں کے لیے کافی جگہ بن سکتی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے جذباتی کارکن کے لیے نظریاتی طور پر سب سے مناسب جماعت قوم پرست جماعت ہی ہو سکتی ہے۔
خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما زاہد خان کہتے ہیں کہ نہ صرف کے پی کے میں مولانا کو جتویا گیا بلکہ اب بلوچستان بھی مولانا کے حوالے کردیا جائے گا کیونکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان برسراقتدرا آچکے ہیں اور مولانا اینڈ کمپنی ان کی ہمدرد ہے۔ بعض حلقوں میں سیاسی افق پر ایک مذہبی جماعت کا ابھرنا باعث تشویش بھی سمجھا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام ف کی کامیابی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متشدد پالیسیوں کے حامی لوگوں کو اقتدار ملنا حوصلہ کن بات نہیں ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کے آنے سے مایوسی ہوئی۔ اس طرح کی جماعتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے لوگوں کو اقتدار ملنا جو خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں، آزادیوں کے خلاف ہیں اور مذہبی طور پر متشدد پالیسیوں کے حامی ہیں، حوصلہ کن بات نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مولانا فصل الرحمان کا اقتدار میں آنا بدقسمتی ہے۔ تاہم دوسری جانب مولانا کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ فوج کی مدد سے گزشتہ 8 برس سے خیبر پختونخوا پر قابض تحریک انصاف کو عوام نے اٹھا کر اقتدسر سے باہر پھینکنے کا فیصلہ کیا ہے لہذا فواد چوہدری اور ان کے وزیراعظم کو عوام کی رائے کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہیے۔

Back to top button