کیا نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اب PIA کی ملکیت نہیں رہا؟

نیویارک میں واقع بیش قیمت پاکستانی روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے میڈیا میں متضاد اطلاعات آرہی ہیں جس کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تاریخی روزویلٹ ہوٹل اب پاکستان کی ملکیت نہیں رہا؟

واضح رہے کہ کان کنی سے وابستہ آسٹریلیا کی ٹیتھیان کاپر کمپنی نے حکومت پاکستان سے ہرجانہ کی رقم وصول کرنے کے کئے بیرون ملک واقع پاکستان کے اثاثے بشمول نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل اور پیرس میں واقع سکرائب ہوٹل منجمد کروانے کا کیس کیا تھا جسے ایک غیر ملکی عدالت نے منظور کرلیا تھا۔ تب حکومت پاکستان نے ہرجانے کی ادائیگی کرکے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ملکیتی تاریخی روزویلٹ ہوٹل کا قبضہ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔عدالتی حکم پر روزویلٹ ہوٹل کے ضبط ہو جانے کے بعد فروری 2021 میں حکومت پاکستان نے اس کا قبضہ واپس لینے کے لیے 3 کروڑ 55 لاکھ 80 ہزار ڈالرز یعنی تقریباً چھ ارب روپے کا بھاری بیل آؤٹ پیکج دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب تک رقم کی ادائیگی نہیں ہو سکی جس کے بعد باعث ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ روز ویلٹ پر اب پاکستان کا حق نہیں رہا۔

تاہم دوسری جانب اس معاملے کو دیکھنے والی حکومت پاکستان کی قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ ابھی اثاثوں میں پی آئی اے کے حصص منجمد کیے گئے ہیں، ان کی ملکیت منتقل نہیں ہوئی اور پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ تاہم حکومت پاکستان نے اس معاملے پر ایک پر اسرار خاموشی سادھ رکھی ہے۔

اسی دوران معروف آن لائن انسائیکلو پیڈیا وکی پیڈیا کے سکرین شاٹ کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک میسج بھی گردش کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ روز ویلٹ ہوٹل کا مقدر ہے، ریکوڈک مائننگ کمپنی اب اس کی نئی مالک ہے۔ اگر وکی پیڈیا پر روز ویلٹ کے پیج کو دیکھا جائے تو وہاں ہوٹل کے مالک کے آگے پی آئی اے کا نام ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ پھر یہ سکرین شاٹ کہاں سے آیا؟ اگر وکی پیڈیا پیج کی ہسٹری دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آٹھ مارچ کو پیج پر روز ویلٹ ہوٹل کی ملکیت تبدیل کر کے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے نام کی گئی تھی، جسے 30 مارچ کو دوبارہ تبدیل کرکے پی آئی اے کے نام کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وکی پیڈیا کے کسی بھی پیج پر کوئی بھی شخص تبدیلی کر سکتا ہے۔ کچھ معلومات کو تبدیل کرنے کے لیے آپ کے پاس معلومات کا ماخذ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وکی پیڈیا پر روز ویلٹ ہوٹل کی ملکیت کو دو دفعہ باآسانی تبدیل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی ایک آسٹریلین کمپنی ہے جسے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے لیے ٹھیکہ دیا گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس ٹھیکے کو غیر قانونی قرار دے کی منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد اس کمپنی نے بین الاقوامی عدالت میں قانونی جنگ لڑی اور پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کروانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس جرمانے کی ادائیگی کی مد میں پی آئی اے کی ملکیت میں موجود دو ہوٹلوں روز ویلٹ اور سکرائب کی ملکیت کے حصول کی کوششیں شروع کردیں۔واضح رہے کہ ٹیتھیان کمپنی نے ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت کی جانب سے 5.97 ارب ڈالر کی ادائیگی کے فیصلے کے نفاذ کے لیے برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایک عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور اسی کیس میں ان اثاثوں کے حصص منجمد کیا گیا ہے۔ اب 26 مارچ 2021 کو ٹیتھیان کاپر کمپنی نے نیو یارک کی ایک عدالت سے رجوع کیا ہے جس میں دو فرموں کی معلومات مانگی گئی ہیں۔ ٹیتھیان کے مطابق یہ دونوں فرمیں نارٹن روز اور وائٹ اینڈ کیس ممکنہ طور پر ان دو ہوٹلوں یعنی روز ویلٹ اور سکرائب کی مالیت کم کرنے میں حکومت پاکستان کی مدد کرسکتی ہیں۔ ٹیتھیان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں ان کمپنیوں سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں تاکہ اگر ان دو ہوٹلوں کی مالیت میں فرق ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اسے روکا جائے۔

پاکستان کی ملکیت یہ دونوں ہوٹل برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹس کے ایک فیصلے کے تحت عدالت کے پاس عبوری بنیادوں پر گروی ہیں اور مستقبل میں انہیں ٹیتھیان کاپر کمپنی کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ پی آئی اے کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق دونوں ہوٹلوں کو قرقی سے بچانے اور معاملہ عدالت سے باہر نمٹانے کے لیے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے۔ٹیتھیان کاپر کمپنی کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک سے تانبے اور سونے کی کان پر کام کرنے کا ٹھیکہ ملا تھا، تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2013 میں اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ بعدازاں ٹیتھیان نے معاہدے کی خلاف ورزی پر حکومت پاکستان کے خلاف کامیاب قانونی چارہ جوئی کی تھی، جس کے نتیجے میں جولائی 2019 میں ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت نے پاکستان کو کمپنی کو 5.97 ارب ڈالر دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ٹیتھیان نے پاکستان سے یہ رقم نکلوانے کے لیے ریاست پاکستان کے غیر ملکی اثاثوں کو ریکوری کے ساتھ جوڑنے کا عمل شروع کیا تھا، جس میں نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل اور پیرس میں سکرائب ہوٹل کو کیس کے ساتھ جوڑنے کی درخواست کی گئی تھی جو کہ منظور کر لی گئی تھی۔

ورلڈ بینک کے ریکارڈ کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے ورلڈ بینک کی ثالثی عدالت کے فیصلے کے خلاف حکومت پاکستان نے 16 مارچ 2021 کو نظرثانی کی درخواست کی تھی جو ابھی زیر سماعت ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ یہ دونوں ہوٹل اب پاکستان کی ملکیت ہیں یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button