کیا وفاق سندھ میں کوئی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں ہے؟

تحریک انصاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت ختم کرکے وہاں گورنر راج لگائے جانے کی بات پچھلے دو برسوں سے تواتر کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان اس لیے نہیں ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ایسا فیصلہ کرنے کے لیے امن عامہ یا کسی اور حوالے سے فی الحال کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود نہیں ہے۔ تاہم وفاقی حکومت صرف ایک طریقے سے سندھ میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ ہے صوبائی اسمبلی کے اندر وزیراعلی مراد علی شاہ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاکر انہیں ہٹایا جانا لیکن اگر سندھ اسمبلی میں نمبر گیم پر نظر ڈالی جائے تو موجودہ حالات میں اپوزیشن کی ایسی کسی تحریک کا کامیاب ہونا بھی ناممکن نظر آتا ہے۔
تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت کے قیام کے بعد سے ہی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہےلیکن ہمیشہ تبدیلی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ اسمبلی میں اکثریت کی وجہ سے وفاقی حکومت سندھ حکومت کو گرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر حکومتیں گرانے اور بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ماضی میں بھی سندھ کی اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی میں جوڑ توڑ کیساتھ سیاسی ’’اکثریت‘‘سے حکومت بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔۔2018ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ میں اکثریت حاصل کر کےحکومت بنائی۔ بعض وفاقی وزراء کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ سندھ میں سیاسی دائو پیچ کھیلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن کوششوں کے باوجود وفاق کو کامیابی حاصل نہ ہوئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں حاصل اکثریت کی وجہ سے سندھ حکومت کی تبدیلی کی خبریں سچ ہوتی نظر نہیں آتیں۔

سندھ اسمبلی میں اس وقت حکومتی جماعت پیپلزپارٹی کو 168 اراکین پر مشتمل ایوان میں سے 99نشستوں کیساتھ برتری حاصل ہے۔اس کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف 30اراکین صوبائی اسمبلی کیساتھ دوسرے ،متحدہ قومی موومنٹ 21 نشستوں کیساتھ تیسرے جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 14ایم پی ایز کیساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ تحریک لبیک پاکستان تین اور ایم ایم اے کا ایک ایم پی اے بھی اسمبلی اراکین میں شامل ہے۔ سندھ اسمبلی کے 168 اراکین پر مشتمل ایوان میں سے پیپلزپارٹی کی 99نشستیں نکال دی جائیں تو باقی 69نشستیں رہ جاتی ہیں اور اگر انہیں اپوزیشن اتحاد بھی سمجھ لیاجائے تو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے کم از کم 17ایم پی ایز کو پیپلز پارٹی سے ہٹ کر اپوزیشن کے نامزد وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینا پڑے گا۔

ماضی کے برعکس اکثریتی جماعت کو حکومت سے نکالنے کیلئے فارورڈ بلاک تشکیل دینے کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں کیونکہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک بنانے والے اراکین اسمبلی اپنی نشستیں کھو بیٹھیں گے۔ آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی قیادت کے فیصلوں سے انحراف ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پارٹی سربراہ کے فیصلے کے مطابق ووٹ نہ دینے یا وفاداری تبدیل کرنے کی صورت میں متعلقہ پارلیمینٹرین اپنی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پارٹی سربراہ کی ہدایت سے انحراف کرنے والے رکن کا سامنے آنا یقینی ہے جس بنا پرپارٹی کی طرف سے اس کی رکنیت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ قانون کے مطابق پارٹی پالیسی سے روگردانی کرنے والے رکن کے خلاف آئینی کاروائی عمل میں لائی جا تی ہے اور اس کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھجوایا جا سکتا ہے ،اسی طرح وفاداری تبدیل کرنے اور فارورڈ بلاک بنانے والوں کو آئینی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔پارٹی سربراہ کو آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنسز بھجوا سکتے ہیں۔ اس لئے مستقبل قریب میں سندھ حکومت کی تبدیلی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔
