کیا کپتان فوجی قیادت کی حمایت برقرار رکھ پائیں گے؟

ایک طرف احتیاط سے ٹیسٹ میچ کھیلنے والی پیپلز پارٹی گیم میں ’اِن‘ رہتے ہوئے پانسہ پلٹنا چاہتی ہے، دوسری طرف ون ڈے کھیلنے والی مسلم لیگ (ن) بھی زیادہ جلدی میں گیم سے آؤٹ ہونا نہیں چاہتی، لیکن تیسری طرف ٹی 20 گیم کے چکر میں مولانا بے صبرے ہو رہے ہیں اور باؤنڈری سے باہر نکل کر کھیلنا چاہتے ہیں یعنی پارلیمنٹ سے استعفے دے کر۔ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ یہ کھیل کون جیتے گا اور بازی کس ہاتھ آئے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کہیں ایمپائر تمام فریقین کو انگلی دکھا کر گیم سے باہر ہی نہ کر دے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے حالیہ مسلسل بیانات کہ اپوزیشن فوج کو تختہ الٹنے پر اُکسا رہی ہے، اُس دباؤ کا واضح اشارہ ہے جو حالات کی سنگینی بتا رہے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کے امکان کو روکنے کے لیے وزیراعظم نے یہ بیان بھی داغ دیا ہے کہ اگر کسی نے اپوزیشن کو این آر او دیا تو وہ غداری کا مرتکب ہوگا۔ یہ بیان ان خبروں کے بعد آیا کہ کہ سینٹیر محمد علی درانی کی جیل میں شہباز شریف کے ساتھ ملاقات اسٹبلشمنٹ کے ایما پر ہوئی جو اب چھوٹے میاں کو باہر لاکر ان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ ان خبروں کا تجزیہ کرنے والے کہتے ہیں کہ معاملات بدلتے ہوئے لگ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ عمران خان کے اتحادی اب ایک ایک کر کے ان کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں۔ وزیراعظم کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر ان کا سب سے بڑا اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ جائے تو پھر اسکے بغل بچے یعنی ایم کیو ایم اور ق لیگ بھی ان کے ساتھ کھڑے نہیں رہیں گے۔ اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی پہلے ہی وزیراعظم کا ساتھ چھوڑ چکی ہے اور اب بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ یعنی اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
بڑے گھر کے زائچے کا حال سیاسی جوتشی لگائیں گے لیکن آصف زرداری نئے طریقوں اور نئے زاویوں سے موجودہ سیاسی پیش گوئی کر بیٹھے ہیں۔ گڑھی خدابخش میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی 13 ویں برسی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر پھینکا تھا اور ہم عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’ان لوگوں سے پاکستان نہیں چل رہا اور چلے گا بھی نہیں، یہ میرا دعویٰ ہے۔ یہ پاکستان نہیں چلا سکتے۔ یہ ملک چلانے والے نہیں ہیں۔ یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔ ملک چلانے والے کوئی اور لوگ ہیں، اس کے لیے کوئی اور سوچ چاہیئے۔‘انھوں نے کہا کہ فکرنہ کریں، یہ اپنے زور پر گریں گے۔ زرداری نے کہا کہ آج مشرف تڑپ رہا ہو گا مگر اب پاکستان آ نہیں سکتا۔ اسکی طرح ’آپ بھی نہیں رہیں گے، آپ بھی چلے جائیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ جس طرح مشرف کی بنائی ہوئی پارٹی ختم ہو گئی تھی اب یہ پارٹی بھی ختم ہو جائے گی۔ زرداری نے کہا کہ ’میں نے ایک جنرل کو صدر ہوتے ہوئے مکھی کی طرح ایوان صدارت سے نکال باہر کیا تو یہ نیازی کیا چیز ہے۔‘
آصف زرداری کی گڑھی خدا بخش میں تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ایک طرف مولانا استعفوں کا دباؤ بڑھانے کی جلدی میں ہیں تو دوسری جانب زرداری اپنے روایتی اطمینان کو ہتھیار بنانے کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ تو ہمیں ماننا ہی ہو گا کہ پرویز مشرف کی ایوان صدر سے رخصتی زرداری کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف ایوان صدر میں براجمان تھے اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ چکی تھیں۔ اسمبلیوں کے منتخب ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ پھر جیسے تیسے اجلاس طلب کیا گیا، وزیراعظم کا انتخاب ہوا اور پھر صدر کے انتخاب کی باری تھی۔ اُس وقت بھی جنرل مشرف کے پیچھے اسکا ادارہ کھڑا تھا مگر ایوان اقتدار میں صدارتی مواخذے کی بازگشت سُنائی دی جانے لگی، اور یہی وہ دن تھے جب فوج کی جانب سے دباؤ آیا اور مشرف کو ایوان صدر سے رخصت ہونا پڑا۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اب زرداری صاحب اپوزیشن کی جماعتوں کو ایک بار پھر سمجھا رہے ہیں کہ عمران خان بڑا مسئلہ نہیں، انہیں صرف اپنا طریقہ کار بدلنا ہو گا، یعنی پریشر بڑھانے کے لیے جیل بھرو تحریک جس کا عندیہ انہوں نے اپنی 27 دسمبر کی تقریر میں بھی دیا۔ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت گیم میں ’اِن‘ رہتے ہوئے پانسہ پلٹنا چاہتی ہے، مسلم لیگ (ن) گیم سے آؤٹ ہونا نہیں چاہتی اور مولانا گیم سرے سے کھیلنے کے ہی مخالف ہیں۔ پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر مکمل طور پر صاف میدان اسٹیبلیشمنٹ اور کپتان کے ہاتھ میں دینے کی مخالف تو ہے ہی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ استعفوں کا آخری آپشن کھیل کا پانسہ کسی بھی وقت پلٹ سکتا ہے۔
پی ڈی ایم کی سیاسی تحریک کو اب اگلے مرحلے میں کیسے داخل ہونا ہے؟ آصف زرداری جیل بھرنے کی حکمت عملی سے تحریک کو اگلے مرحلے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ اُدھر مولانا فضل الرحمن نے چیلنج کر دیا ہے کہ اُن کے خلاف الزامات یا گرفتاری جمیعت پر حملہ تصور ہو گا۔ مولانا غفور حیدری نے اپنے دھرنوں کا رخ جی ایچ کیو کی جانب موڑنے اور جنرل باجوہ کا نام لینے کا کہہ کر ایک واضح پیغام بھی دے دیا ہے اور یوں ہر طرف صرف تصادم ہی تصادم کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی عوامی طاقت احتجاجی تحریک کا اہم حصہ ہے۔ لہذا اگلے لانگ مارچ میں انکا کردار مزید واضح ہو کر سامنے آئے گا۔ مولانا نے پچھلے سال اکتوبر میں بھی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا جب انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ دوسری طرف لاہور میں مینار پاکستان پر مسلم لیگ نون کے جلسے کو حکومت کی جانب سے ناکام قرار دیے جانے کے بعد نواز لیگ کی قیادت بھی دباؤ میں ہے اور اسے بھی کسی بھی احتجاجی تحریک کی صورت میں اپنی بھر پور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اب تک اپوزیشن کے جلسوں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جوشیلی شرکت نے آنے والے دنوں میں سرگرم شمولیت کی جھلک ضرور دکھائی ہے۔ لیکن اگر لانگ مارچ کا آغاز سندھ سے ہوا تو پیپلز پارٹی کو اپنے جیالوں کو سڑکوں پر لانے کا چیلنج ضرور درپیش ہوگا۔ دودری جانب وزیرِ اعظم کے حالیہ بیانات کہ اپوزیشن فوج کو تختہ الٹنے پر اُکسا رہی ہے، اُس دباؤ کا واضح اشارہ ہے جو حالات کی سنگینی بتا رہے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کا خیال ہے کہ ان کا اب تک کا حکومت مخالف منصوبہ ان کی امیدوں کے مطابق ہی چل رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیش نظر عمران خان سے واضح دوری اختیار کرلے گی۔ چنانچہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ لانگ مارچ کے بعد استعفے دینے سے پہلے اپوزیشن اتحاد قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئے تاکہ لاٹھی توڑے بغیر ہی سانپ مارا جا سکے۔ ایسے میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے عمران حکومت بچانے کی کوشش کی تو پھر اپوزیشن جماعتیں استعفوں کی آپشن استعمال کر کے پاکستانی سیاست کو بحران کا شکار کرسکتی ہیں۔
