کیا 20 نومبر کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی نہیں بدلی؟

ملکی سیاست پر کنٹرول رکھنے والی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلیجنس میں قیادت کی تبدیلی کے باوجود مسلم لیگ نواز کا اصرار ہے کہ 20 نومبر کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ کے پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی اور صورتحال جوں کی توں ہے۔
کیا کمانڈ میں تبدیلی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے حکومت اور اپوزیشن کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ہے اور کیا اب اسکے رویے میں توازن نظر آ رہا ہے، اس سوال پر مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 20 نومبر کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے یا نہیں، اس پر تاحال سوالیہ نشان ہے اور اگر حالات تبدیل ہونے ہیں تو انکا بھی آنے والے دنوں میں کوئی اشارہ مل جائے گا۔ تاہم ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہے۔ رانا ثناءاللہ کی گفتگو سے لگتا تھا کہ جیسے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بار بار ڈسے جانے والی نواز لیگ اب تک اسٹیبلشمنٹ سے ہی تبدیلی کے لیے آس اور امید لگائے ہوئے ہے حالانکہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا نشانہ بننے والے رانا ثنااللہ کو نواز لیگ کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ دھڑے سے جوڑا جاتا ہے۔
جیو ٹی وی پر جب شاہزیب خانزادہ نے رانا ثنااللہ سے پوچھا کہ تبدیلی لانے کے لیے اپوزیشن خود کوئی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کرتی، وہ کم از کم سینیٹ میں تحریکِ تو عدم اعتماد تو لا سکتی ہے۔ اس سوال پر رانا ثنااللہ کا جواب تھا کہ ہمیں اب تک یہ یقین نہیں ہے کہ ایسی کسی تحریک کا کیا نتیجہ نکلے۔ میں آپ کو بڑے واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ ممبران پارلیمنٹ کو زبردستی حالیہ مشترکہ اجلاس میں بلایا گیا۔ اگر پولیٹیکل انجینئرنگ کا یہ سلسلہ روک دیا جائے تو پھر تو سینیٹ میں تحریکِ عدم اعتماد کل صبح بھی آ سکتی ہے، لیکن جب ہم صاف دیکھ رہے ہیں کہ کسطرح حکومت کے نمبرز پورے کروائے جا رہے ہیں تو پھر سینیٹ میں کوئی تحریکِ عدم اعتماد لانے کا کیا فائدہ ہوگا۔ اسی لیے میں بار کہتا ہوں کہ صورتحال جوں کی توں ہے۔
اس موقع پر شاہزیب خانزادہ نے رانا ثناء اللہ خان کو یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تو آئی ایس آئی کی کمانڈ میں تبدیلی سے پہلے ہوا تھا اور 20 نومبر کے بعد تو معاملات بدل چکے ہوں گے۔ اس پر رانا ثنااللہ خان گڑبڑا گے اور کچھ واضح جواب دینے سے کتراتے ہوئے بولے کہ 20 نومبر سے پہلے کے معاملات ہوں یا 20 نومبر نمبر کے بعد کے، بہر حال ایک سوالیہ نشان تو موجود ہے۔ ہر بندے کی اپنی ایک رائے ہے۔ لیکن، چلیں۔۔۔ یہ بھی دیکھ لیا جائے گا۔ 20 نومبر کے بعد اگر کوئی صورتحال تبدیل ہوئی ہے تو اس کا بھی آنے والے دنوں میں بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔
پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کروانے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن کسی قیمت پر بھی مشین کے ذریعے انتخابات نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی ترجمان دوٹوک کہتے ہیں کہ الیکشن مشین کے ذریعے ہی ہوں گے تو ہمارا بھی یہ اٹل فیصلہ ہے کہ ہم EVM سے الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ اس سوال پر کہ اپوزیشن حکومت کو کیسے روک پائے گی کیونکہ حکومت تو اب تک ہر معاملے میں اپنا مؤقف منواتی چلی جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن نے جو احتجاج کیا، اسکا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ممبران پارلیمینٹ کی تعداد بھی اس وقت حکومت کے پاس زیادہ ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا مطلب یہ نہیں کہ فائنل فیصلہ و گیا ہے۔ اگر حکومت نے زور زبردستی یہ قانون سازی کر لی ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس پر عملدرآمد بھی کروا لے گی اور اپوزیشن کچھ نہیں کر پائے گی۔ ہمیں نظر آ گیا ہے کہ یہ حکومت سننے کے لئے تیار نہیں لہذا اگر ہمیں بھی تحریکِ لبیک کی طرح کے احتجاج پر مجبور کیا گیا تو ہم ایسا کر گزریں گے چونکہ لگتا ہے کہ یہی واحد زبان ہے جس میں کی گئی بات اس حکومت کو سمجھ آتی ہے۔
لیکن شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ احتجاج کا یہ طریقہ کار کسی طرح مناسب نہیں ہے، اس سے نہ تو ملک کا فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی سیاست اور جمہوریت کسی بہتر سمت میں جاتی ہیں۔ اس پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہمیں اس کا بخوبی علم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اب تک کوشش کر رہے ہیں کہ یہ حکومت طریقے سے بات سن لے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس پھر اور کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا کہ لاتوں کے بھوت سے باتیں کرنا بند کر دیں اور اسخے ساتھ اسی زبان میں بات کریں جو وہ سمجھتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ احتجاج کرنے اور خاموشی سے بیٹھنے کے درمیان بھی اپوزخشن کے لیے کئی راستے موجود ہیں، مثال کے طور پر آپ حکومت کے اتحادیوں سے بات کر سکتے ہیں لیکن آپ ایسا نہیں کرتے۔ اس پر مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن یہ کام کر رہی ہے اور کر کے دیکھ بھی چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مشترکہ اجلاس سے پہلے حکومت کے اتحادیوں نے ہم سے کہا تھا کہ اب چاہے ہمیں فون کر کے کہا جائے کہ حکومت کا ساتھ دینا ہے تو بھی ہم نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ 23 حکومتی جماعت کے اپنے اراکین نے بھی کہا تھا کہ وہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے اور اجلاس میں ہی شریک نہیں ہوں گے،
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مشعل خان موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟
لیکن پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے اور انہیں فون کالز آنا شروع ہو گئیں۔ رانا ثناءاللہ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کو دھمکی دی گئی کہ اگر آپ لوگ عزت سے جانا چاہتے ہیں تو گاڑی بھیج دیتے ہیں ورنہ لانے کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ لہذا میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ صورتحال اب بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی طرح اب بھی اپوزیشن تبدیلی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی جانب ہی دیکھتی رہے گی یا اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر اس سے غیر سیاسی ہونے پر مجبور کرے گی۔
