نواز دور میں کس میڈیا گروپ کو کتنے کے اشتہارات ملے؟

ماضی میں کچھ ٹی وی چینلز کے سرکاری اشتہارات روکنے بارے مریم نواز کی لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ کے بعد حکومت کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کے پانچ سالہ دور حکومت میں جنگ اور جیو گروپ کو سب سے زیادہ یعنی 3 ارب بارہ کروڑ روپوں کے اشتہارات دیے گئے۔ حکمراں جماعت کے سینیٹر فیصل جاوید کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میڈیا اداروں کو کسی پالیسی کے تحت اشتہارات نہیں دیے گئے بلکہ من پسند نیوز چینلز کو مرضی سے نوازا گیا ہے۔
انفارمیشن منسٹری کی تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف دور میں سال 2013 سے لے کر 2018 اور سال 2018 سے نومبر 2021 تک ذرائع ابلاغ کے اداروں کو دیے گئے سرکاری اشتہارات میں سب سے بڑا حصہ جنگ اور جیو گروپ کو دیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق کے مطابق جنگ گروپ کو 2013 سے 2018 تک تین ارب 12 کروڑ 32 لاکھ روپے کے اشتہارات دیے گئے جبکہ دنیا گروپ کو ایک ارب 11 کروڑ 12 لاکھ روپوں کے سرکاری اشتہارات دیے گئے۔ اسی طرح ایکسپریس گروپ کو ایک ارب 17 کروڑ 70 لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے۔ نیو نیوز کو 11 کروڑ 68 لاکھ روپوں کے سرکاری اشتہارات ملے۔ سما نیوز کو 18 کروڑ 86 لاکھ روپے اور اے آر وائی کو ساڑھے آٹھ کروڑ کے اشتہارات دیے گئے۔ سرکاری دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے 16 دیگر اداروں کو مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں آٹھ ارب 94 کروڑ 20 لاکھ کے سرکاری اشتہارات دیے گئے۔
سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کو مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور حکومت میں 21 کروڑ 84 لاکھ روپے کے اشتہارات دیے گئے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں پیش کی جانے والی سرکاری دستاویز کے مطابق موجودہ دور حکومت میں سات جولائی 2018 سے لے کر 28 نومبر 2021 تک جنگ گروپ کو ایک ارب آٹھ کروڑ 84 لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیے گئے جبکہ ایکسپریس گروپ کو 99 کروڑ 20 لاکھ روپے کے سرکاری اشتہارات دیے جا چکے ہیں۔ دنیا گروپ کو 56 کروڑ 93 لاکھ روپے کے اشتہارات، سما نیوز کو 12 کروڑ روپے کے اشتہارات جبکہ ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کو تین ارب 67 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے۔ پی ٹی وی کو موجودہ دور حکومت میں 11 کروڑ روپے کے اشتہار دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:فی تولہ سونا 200 روپے مہنگا
اس حوالے سے وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ سرکاری اشتہارات کا ڈیٹا بتا رہا ہے کہ ایک ٹیلی فون کال میں جن چینلز کو سرکاری اشتہارات دینے سے روکا جا رہا تھا ان کو واقعی کم اشتہارات دیے گے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ 2013 سے 2018 تک ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی۔لگتا ہے اس دوران نہ تو ملک میں کوئی نظام تھا نہ کابینہ تھی۔ اس دوران ملک میں بادشاہت تھی اور بادشاہوں کے بچے بھی امور سلطنت چلا رہے تھے۔‘ تاہم دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر سرکاری اشتہارات کی انکوائری کرنی ہے تو 1999 سے شروع کی جائے تاکہ علم ہو سکے کہ اس دور میں کس کو کتنا نوازا گیا۔
