کیا 2021 افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کا سال ہوگا؟


دو دہائیوں پر محیط تھکا دینے والی افغان جنگ کے بارے میں نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کہنا ہے کہ وہ اس ’طویل جنگ سے تنگ‘ ہیں لیکن وہ اسے ذمہ داری کے ساتھ ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کو اس سے دوبارہ کبھی خطرہ نہ ہو۔ دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد جنوری کے وسط تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد یہ تعداد ڈھائی ہزار تک رہ جانے کا امکان ہے۔ یہ فوجی محض کابل کی سکیورٹی یقینی بنانے کےلیے کافی ہوں گے باقی افغانستان اور افغان بظاہر شدت پسند تنظیموں اور افغان فورسز کے رحم و کرم پر ہوں گے جس وجہ سے اس بات کا خدشہ ہے کہ 2021 کے خاتمے تک افغان طالبان دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے۔
رواں دسمبر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہوا۔ جنگ کے دوران یہ فریقین کے مابین پہلا تحریری معاہدہ ہے۔ امریکا نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تشدد کو روکنے کےلیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔ دوسری جاب افغانستان کےلیے 2020 کئی پہلوؤں سے بہت ہی غیر معمولی سال رہا لیکن ان 365 دنوں میں سے دس دن ایسے تھے جب کوئی پرتشدد کارروائی نہیں ہوئی۔ پورے سال میں شاید یہ دس روز کوئی بڑی تعداد نہیں لیکن افغانستان کے حملوں اور دھماکوں سے لبریز کلینڈر کےلیے یہ غیر معمولی بات ہے۔ افغان طالبان چند برسوں سے عید پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے آئے ہیں لیکن اس سال انہوں نے دوحہ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے سے قبل ایک ہفتہ ’تشدد میں کمی‘ کا بھی منایا۔ اس طرح یہ اتنی چھوٹی سی پیش رفت بھی پسے ہوئے افغانوں کےلیے شاید اچھی خبر تھی۔ سال کی دوسری بڑی پیش رفت افغان مسئلے کے دو اہم فریقوں امریکہ اور طالبان کے درمیان سال ہاسال سے چلے آ رہے خفیہ مذاکرات بالآخر رنگ لے آئے۔ 29 فروری کو دنیا کے سامنے دوحہ کے ایک ہوٹل میں دونوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اگرچہ اس معاہدے کے بعد کے دس ماہ میں افغان عوام کےلیے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور افغانوں کا خون آج بھی کافی ’سستا‘ ہے لیکن یہ ایک طویل مصالحتی عمل اور قومی مفاہمت کی جانب شاید پہلا بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دوحہ معاہدے کے تحت چند اعتماد سازی کے اقدامات کے بعد دو اصل فریق افغان حکومت اور طالبان ستمبر سے آمنے سامنے بیٹھ کر دائمی امن کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ پیش رفت سست ہے لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ جاری ہے۔ یہ بعض مبصرین کے خیال میں امریکہ کے ساتھ بات چیت سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔
طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ایک اہم پیش رفت دو دسمبر 2020 کو سامنے آئی جس کے تحت ’وے فارورڈ معاہدے‘ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے نے بین الافغان بات چیت کا فریم ورک مہیا کر دیا۔ اس سمجھوتے کی یہ اہمیت ہے کہ طالبان نے کابل حکومت کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر ایک جائز فریق تسلیم کر لیا ہے۔ ماضی میں طالبان نے کابل میں حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیا۔ اس 2020 کی افغانستان کےلیے تیسری اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 2020 سے زیادہ اہم افغانستان کے لیے 2021 کا سال ہوگا اور امن اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب طالبان اور کابل حکومت اپنے موقف میں نرمی دکھاتے ہوئے، ایک دوسرے کو جگہ دے سکیں، دوحہ عمل کو کسی مثبت منتقی انجام تک پہنچائیں۔ عالمی برادری ان کی مدد کرنے کےلیے پہلے سے تیار ہے۔ 24 نومبر کو جنیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، یورپی ریاستوں، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے کچھ دیگر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اگلے چار سالوں میں افغانستان کو چار ارب ڈالرز فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
افغانوں کےلیے یہ تب ہی مفید ثابت ہوگی جب فریقین کوئی اپنے موقف میں غیرمعمولی لچک دکھائیں اور تشدد میں کمی لائیں۔ اب انہیں سب سے زیادہ کھلے دل اور دماغ کے ساتھ اس فتح کو افغان عوام کی کامیابی بنانا ہے۔ افغان عوام اس ساری بات چیت اور مذاکرات سے کوئی زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔ جس افغان سے بات کرو تو وہ زمینی حقائق و واقعات کی جانب اشارہ کرکے الٹا سوالیہ منہ بنا لیتا ہے۔ درجنوں افغانوں کی روزانہ اموات کے علاوہ صحافی بھی محفوظ نہیں۔ اس سال نومبر اور دسمبر خونی ترین ماہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کے علاوہ محض نومبر اور دسمبر میں تین جب کہ پورے سال میں سات صحافیوں کو اپنی جانیں کھونی پڑیں۔
کابل میں افغان صحافی اور مصنف ببرک درویش کے مطابق طالبان کو ایک سیاسی پتہ دیا گیا۔ ان پر بعض پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ اسے ہم ایک بڑی پیش رفت کہہ سکتے ہیں لیکن دوسری جانب اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سال عام لوگوں اور سرکاری اہداف پر حملے زیادہ ہوئے ہیں جو مذاکرات کی اہمیت کو کم ان کی نفی کرتے ہیں۔ قطر معاہدے کے بعد تشدد میں اضافہ کئی سوال اٹھاتا ہے۔‘ ببرک درویش کہتے ہیں کہ ان کی ذاتی رائے میں پیش رفت ہوئی لیکن بہت کم۔ ’سیاست اور جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر لڑائی جاری ہے تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی فائدہ کچھ نہیں ہوا ہے۔‘
2019 میں وزیر اعظم عمران خان کا بھی دورہ امریکہ ہوا اور افغانستان سے نکلنے کی جلدی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناصرف پاکستان کو افغانستان کے مصالحتی عمل میں کردار دینے پر آمادہ ہوگئے بلکہ انہوں نے اسے ڈرائیونگ سیٹ میں بھی بٹھا دیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی ہی کوششوں سے طالبان پہلے امریکہ اور اب افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ لیکن پاکستان کےلیے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ بیک وقت افغان حکومت اور طالبان کا اعتماد کیسے برقرار رکھے۔ اس سال ایک طویل عرصے کے بعد افغان حکومت کے اعلی عہدیداروں جن میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ شامل ہیں کے اسلام آباد کے سفارتی دوروں سے اشارے ملے کے کابل بھی پاکستان سے قدرے خوش ہے۔ دوسری جانب طالبان بھی اسلام آباد آئے اور رابطے جاری رکھے۔ مہمانوں کی آمد محض افغانستان سے آنے والوں پر محیط نہیں تھی بلکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی کابل کا دورہ کیا اور اپنی حکومت کی حمایت کا یقین دلایا۔
دوحہ معاہدے کے تحت مئی 2021 تک کاغذوں میں تمام امریکی فوجی مئی 2021 تک چلے جائیں گے لیکن امریکی کوشش ہے کہ کچھ فوجی باقی رہیں۔ لیکن کابل انتظامیہ کے ساتھ طالبان کے کسی سمجھوتے تک پہنچنے سے قبل ایسا ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے پہلے دوحہ معاہدے کی باقی کئی تاریخی مہلتیں بھی پوری نہیں ہوسکی تھیں۔ اسلیے خدشہ ہے کہ کسی بین الافغان معاہدے کے بغیر امریکی انخلا افغانستان میں خطرناک خلا کا سبب بن سکتا ہے جسکے نتیجے میں کابل سے دو دہائیوں پہلے نکالے جانے والے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button