دمشق : فرانسیسی صدر کے ہوٹل کے قریب بم دھماکے

 

 

 

شام کے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورے کے دوران اس ہوٹل کے قریب دو بم دھماکے ہوئے جہاں وہ قیام پذیر تھے۔

دمشق میں بم دھماکوں کے بعد سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، تاہم فرانسیسی حکام کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون محفوظ رہے اور ان کے سرکاری پروگرام معمول کے مطابق جاری رہے اور انہوں نے بعد ازاں شامی صدر احمد الشراع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔

ذرائع کےمطابق دھماکے فرانسیسی صدر میکرون کے ہوٹل کے قریب ہوئے،تاہم اس وقت تک فرانسیسی صدر ہوٹل سے روانہ ہوکر صدارتی محل پہنچ چکے تھے، جہاں انہوں نے شامی صدر احمد الشراع سے ملاقات کی۔

دھماکوں کےبعد علاقے کو گھیرے میں لےلیا گیا، سڑکیں بند کردی گئیں اور سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔

شامی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک بم کچرے کے کنٹینر میں جب کہ دوسرا ہوٹل کے قریب کھڑی ایک گاڑی میں نصب کیاگیا تھا۔

ازبک سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے قریب منشیات بردار ڈرون پکڑ لیا

یاد رہے کہ 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کےبعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔ان کےدورے کے دوران ہونےوالے یہ دھماکے شام کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

Back to top button