کیا IMF شرائط کے باوجود اسحاق ڈار کامیاب ہو جائیں گے؟


مفتاح اسمعیل کی جگہ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنائے جانے کی خبر آتے ہی امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں دس روپے گر گیا ہے جسے سابق وزیر خزانہ کی واپسی سے منسوب کیا جا رہا ہے اور حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اب پاکستانی معیشت سنبھل جائے گی۔ دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کی اسحاق ڈار سے توقعات بہت زیادہ ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی میں ان امیدوں کا پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

لندن میں نواز شریف کی جانب سے نئے وزیر خزانہ نامزد کیے جانے کے بعد اسحاق ڈار پاکستان پہنچ چکے ہیں اور مفتاح اسماعیل نے بطور وزیر خزانہ استعفیٰ دے دیا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار قوم کے محافظوں سے ڈیل کرنے کے بعد واپس آ گیا ہے حالانکہ اسے جیل جانا چاہیے تھا۔ خان صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف بھی واپس آجائیں تو ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی کیونکہ چور ملک کو لوٹنے سے باز نہیں آ سکتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی شہبازشریف حکومت کے لیے بڑا امتحان ہے کیونکہ اگر وہ بھی معیشت کو سنبھال نہ پائے تو نواز لیگ کا اگلے الیکشن میں دھڑن تختہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت میں وزارت خزانہ کا قلمدان مفتاح اسماعیل کو ملا تھا۔ پانچ ماہ سے زائد وزیر خزانہ رہنے والے مفتاح اسماعیل کے بعد اب یہ قلمدان اسحاق ڈار کو دے دیا گیا ہے جو اس پہلے نواز شریف کے دوسرے اور تیسرے وزارت عظمیٰ کے دور میں وفاقی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ اسحاق ڈار ایک ایسے وقت میں وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنے جا رہے ہیں جب پاکستان میں ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کی سطح 27 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں تیل، بجلی، گیس اور خوردنی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کی وجہ سے موجودہ حکومت تنقید کی زد میں ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہونے کے باعث اسے سخت معاشی فیصلے کرنے پڑے ہیں۔

اس وقت امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ لیکن اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے ساتھ ہی امریکی ڈالر دس روپے گر گیا ہے جسکے بعد امید کی جارہی ہے کہ روپیہ مضبوط ہوگا اور ڈالر مزید نیچے آئے گا۔ تاہم معاشی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق موجودہ بدحال معاشی صورتحال میں اگر اسحاق ڈار کے پاس کوئی ’آوٹ آف دی باکس‘ حل ہے تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں ورنہ ان کا سابقہ معاشی ماڈل موجودہ صورت حال میں کارگر ہوتا نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ معیشت اس وقت بدترین صورت حال کا شکار ہے اور مہنگائی کی وجہ سے عام فرد کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔پانچ ماہ میں معاشی طور پر لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا اور اس کے ساتھ تجارتی اور کاروباری حلقے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کاروباری حلقوں نے لندن میں نواز شریف سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ آپکی موجودہ معاشی ٹیم سے معاملات نہیں سنبھل رہے۔ چنانچہ نواز شریف نے اسحاق ڈار کو یہ ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ ان کی ماضی میں خراب صورتحال میں کارکردگی تھی۔ یاد رہے کہ 1998 میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک پر معاشی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں لیکن پھر اسحاق ڈار نے معیشت کو سنبھالا تھا۔ دوسری بار 2013 میں نواز لیگ کو معیشت بری حالت میں ملی تھی۔

نواز لیگ کے سینئر رہنما محمد زبیر نے اسحاق ڈار کی واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کی جانب سے انھیں تین سال تک پاسپورٹ نہ دینا ان کے پاکستان نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ اس سال مئی میں انھیں پاسپورٹ ملا تو تب سے ان کی واپسی کی بات شروع ہو گئی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس وقت نواز لیگ کی حکومت کو دن بدن خراب ہوتی معاشی صورتحال کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے اور پنجاب میں جولائی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں شکست کی وجہ بھی مہنگائی کی بلند شرح کو قرار دیا جاتا ہے۔

محمد زبیر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسحاق ڈار معاشی صورت حال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ایک سیاسی جماعت کی معیشت اور عوام دونوں پر نظر ہوتی ہے کیونکہ یہ پولیٹیکل اکانومی ہے اور ایک خاص حد سے زیادہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔محمد زبیر کے مطابق اسحاق ڈار کی واپسی اور معیشت میں بہتری سے نواز لیگ کو یقینی طور پر سیاسی فائدہ حاصل ہو گا۔

لیکن ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے خیال میں اس وقت وزیر خزانہ کسی کو بھی بنا دیا جائے، اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کا وزیر خزانہ صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتا اور اسے آئی ایم ایف شرائط کے تحت ہی ملکی معیشت کو چلانا پڑے گا۔ ڈاکٹر فرخ نے بتایا کہ نواز لیگ کی حکومت اسحاق ڈار سے دو کام چاہے گی۔ ’ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں وہ مقامی کرنسی کو نیچے لائیں اور دوسرا وہ مالیاتی سپیس یعنی گنجائش پیدا کریں کیونکہ اگلے سال انتخابات کا سال ہے اور مالیاتی گنجائش کے بغیر انفراسٹرکچر جیسے ترقیاتی منصوبوں کو شروع نہیں کیا جا سکتا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اسحاق ڈار کا ماڈل روپے کا اوور ویلیو اور ہارڈ انفراسٹرکچر یعنی پل اور سٹرکیں بنا کر معیشت کو چلانے کا رہا ہے تاکہ اس سے ملازمتیں بھی پیدا ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کرنسی کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک یا حکومت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی جبکہ سیلاب کی وجہ سے انفراسٹرکچر پر کام نہیں ہو سکتا۔انھوں نے کہا کہ ’نواز لیگ کی اسحاق ڈار سے توقعات زیادہ ہیں لیکن ان امیدوں کا آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی میں پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button