مریم کی ہراسانی پر یوتھیوں اور عمرانڈوز کی چھترول جاری

سعودی عرب کے بعد لندن میں بھی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ تحریک انصاف کے عمرانڈوز اور یوتھیوں کی بد تمیز اور ہراسانی کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کپتان کے تربیت یافتہ عمرانڈوز اور یوتھیوں کی جنونیت تمام حدیں کراس کرتی جا رہی ہے اور اب ان کے شر سے خواتین بھی محفوظ نہیں رہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک موجود تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے ایسی گری ہوئی حرکتیں پاکستان کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں کیونکہ اب بات نعرے بازی سے بڑھ کر گالم گلوچ اور بد تہذیبی تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر ایسی درجنوں ویڈیوز وائرل ہیں جن میں تحریک انصاف کے بے شرم عمرانڈوز اور یوتھیے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو پہلے سڑک پر اور پھر ایک ریسٹورنٹ میں ہراساں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس واقعے میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ ڈھیروں خواتین بھی ملوث تھیں جنہوں نے نہ صرف مریم اورنگزیب کو گندی گالیاں دینے بلکہ میگا فون پر ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اِن افراد نے تحریک انصاف کے پارٹی پرچم گلے میں پہنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اپنے موبائل فونز سے ہراسانی کی ویڈیو بنا رہے ہیں، کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں میگا فون بھی موجود تھے جن کے ذریعے وہ اونچی آواز میں نواز لیگ کی قیادت کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے تھے۔ ویڈیوز کے پہلے حصے میں مریم لندن کے ایک فٹ پاتھ پر چلتی ہوئی جا رہی ہیں اور اس دوران ان کے خلاف نعرے بازی ہو رہی ہے۔
لیکن اس تمام تر بدتمیزی اور ہراسانی کے باوجود مریم اورنگزیب اپنے حواس پر قابو رکھتی ہیں اور بغیر کوئی جواب دیئے خاموشی سے ایک کیفے میں داخل ہوتی ہیں۔ مگر یہ گروہ اپنے میگا فون، کیمروں اور نعروں کے ساتھ اُن کا وہاں بھی پیچھا کرتا ہے۔ کیفے کے اندر بھی یہ گروہ اپنا کام جاری رکھتا ہے مگر مریم اورنگزیب جواباً مسکراتے ہوئے کوک پیتی رہتی ہیں۔ ان کے اس عمل کو بھی وہاں موجود ایک چول قسم کی عمرانڈو خاتون شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔
مریم کو یہ بھی کہتے سُنا جا سکتا ہے کہ ہر چیز کا طریقہ کار ہوتا ہے، اگر کوئی آپ کی اپنی ماں یا بہن کو اس طرح سڑکوں پر ہراساں کرے گا تو کیا آپ کو اچھا لگے گا؟ وہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ یہاں پی ٹی آئی کے لوگ مائیک لے کر مجھے مختلف ناموں سے پکار رہے ہیں لیکن میں نے کوئی ردِعمل نہیں دیا، مریم یہ بھی کہتی ہیں کہ آپ لوگ اس طرح مجھے ہراساں کرتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ میرے صبر کے مظاہرے سے میرے قد میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ طریقہ کار ہمارے ملک کے تشخص کے لیے خراب ہے۔
یہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر جو ردِعمل دکھایا اس سے ان کی متانت جھلکتی ہے۔ اپنے پُرسکون اور باوقار طرز عمل سے انھوں نے ہراساں کرنے والوں اور ایسے رویے کو فروغ دینے والوں کے بدصورت چہروں کو بے نقاب کیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ہمیں مریم اورنگزیب پر فخر ہے، مریم اورنگزیب نے خود ان واقعات کے بعد ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’نفرت اور تفرقہ بازی کی سیاست کے ہمارے بھائیوں اور بہنوں پر زہریلے اثرات دیکھ کر دُکھ ہوا، سیاستدانوں سے لے کر عام افراد تک سبھی مریم اورنگزیب کو اس طرح لندن کی سڑکوں اور کیفے میں ہراساں کرنے کی مذمت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’یہ احتجاج نہیں سراسر ہراسانی ہے۔
یاد رہے یہ پہلا واقعہ نہیں جب مریم اورنگزیب یا ن لیگ کے کسی رہنما کو سیاسی کارکنوں کی جانب سے بیرونِ ملک ہراساں کیا گیا ہو، رواں سال اپریل کے اواخر میں جب وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل وفد سعودی عرب کا دورہ کر رہا تھا تو چند افراد نے مسجد نبوی ؐکے احاطے میں انھیں ہراساں کیا، اُن سے بدسلوکی کی اور ان کے خلاف ’چور چور‘ کے نعرے لگائے۔ سینئر صحافی مبشرر زیدی نے رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ مریم نے جس طرح لندن میں ہراساں ہونے کے باوجود غنڈوں کو ہینڈل کیا، وہ دیکھ کر میرے دل میں ان کے لیے احترام کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ ایک اور صحافی ماہم نے ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا برطانیہ کے قوانین کے مطابق یہ ہراسانی نہیں ہے؟ سینئر صحافی طلعت حسین کا کہنا تھا کہ مریم نے دلیرانہ انداز میں اس کا مقابلہ کیا۔ ہراساں کرنے والوں کے لیے شرم کا مقام ہے،اس دوران سلمان شہباز کی اہلیہ زینب سلمان نے مریم کو ہراساں کرنے والی خواتین میں سے ایک کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے اسکا پتہ مانگ لیا تا کہ اتوار کے روز اس کے گھر بھی جلوس لے کر جایا جا سکے۔
