ایاز امیر کو اپنی بہو کے قتل کیس میں کلین چٹ کیسے ملی؟

اپنی کینیڈین نژاد پاکستانی بہو سارہ انعام کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے سینئر صحافی اور سابق رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کو عدالت کی جانب سے کلین چٹ ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 27 ستمبر کو شاہنواز امیر کے ہاتھوں اپنی تیسری بیوی کے قتل کیس میں گرفتار سینئر صحافی ایاز میر کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث مقدمے سے ڈسچارج کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔ سینئر سول جج عامر عزیز نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پولیس کی جانب سے ایاز امیر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تفتیشی افسر نے کہا کہ رات کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ قتل سے پہلے اور بعد میں ملزم شاہنواز کا اپنے والد ایاز امیر سے رابطہ تھا لہذا مزید تفتیش کرنا ضروری ہے جس کے لئے ریمانڈ چاہیے۔ اس دوران ایاز امیر کے وکیل بشارت اللہ نے مؤقف اپنایا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے اس لیے کوئی تعلق نہیں کہ وہ تو قتل کے وقت اپنے گھر چکوال میں موجود تھے جبکہ سارہ والی واردات اسلام آباد میں ہوئی۔ اسکے علاوہ اپنی سابقہ بیوی کی جانب سے فون پر قتل کی اطلاع دیے جانے کے بعد ایاز امیر نے ہی اسلام آباد پولیس کو اس واقعے سے آگاہ کیا تھا لہٰذا انہیں اس قتل کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔
ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ابھی تک یہ نہیں بتا سکی کس ثبوت کے تحت ایاز امیر کو گرفتار کیا ہے، اس کے بعد سرکاری وکیل نے ریمانڈ مانگتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں ٹرائل سٹیج پر زیر بحث آ سکتی ہیں، کل مقتولہ کے والدین باہر سے آ گئے ہیں، انہوں نے بھی ایاز میر کو قتل میں برابر کا شریک قرار دیا ہے۔ ویسے بھی سینئر صحافی کے موبائل سے اپنے بیٹے کے ساتھ قتل سے پہلے اور بعد میں واٹس ایپ پر رابطوں کا ثبوت مل چکا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ہمیں لگا کہ وہ بے گناہ ہیں تو ہم انہیں ڈسچارج کر دیں گے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ایاز امیر کو قتل میں مقتولہ کے چچا نے نامزد کیا ہے، اس پر جج نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس بادی النظر میں ایاز امیر کے خلاف ثبوت کیا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ مقتولہ کے قتل کے بعد ملزم کا اپنے والد سے رابطہ ہوا تھا۔
اس پر ایاز امیر نے عدالت کو بتایا کہ قتل کی اطلاع میں نے خود پولیس کو دی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے بیٹے کی والدہ سے کہا کہ شاہ نواز کو بھاگنے نہیں دینا، ایسے کیسز میں تو لاشیں بھی غائب ہو جاتی ہیں لیکن میں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ جو کچھ اس کیس میں میرے ساتھ ہو رہا ہے آئندہ کوئی شریف آدمی تفتیش میں تعاون سے پہلے سوچے گا۔ سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ پولیس تسلیم کرتی ہے کہ ان کو اطلاع میں نے خود دی تھی، پولیس والے اکیلے میں مجھے سراہتے ہیں کہ آپ بڑے سچے آدمی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتے اور صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے اور یہ صدمہ کسی کو بھی نہ اُٹھانا پڑے۔ کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے ایاز امیر کا نام مرڈر کیس سے نکالنے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ادھر سارہ کے والدین بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں اور مقتولہ کی تدفین بدھ کو کی جائے گی، اس وقت سارہ کی میت اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کے سرد خانے میں موجود ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن اسلام آباد پولیس سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق مقتولہ قاتل کی تیسری بیوی تھیں اور انہوں نے چند ہفتے قبل ہی اسلام آباد کی ایک عدالت میں جا کر شادی کی تھی، ملزم کی اس سے قبل اپنی دو بیویوں سے طلاق ہو چکی ہے، ان کے مطابق جس فارم ہاؤس پر واقعہ ہوا وہ ملزم کی والدہ اور ایاز امیر کی سابقہ اہلیہ کے نام پر ہے اور ملزم اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے۔ یاد رہے کہ قاتل شاہ نواز کی والدہ ماضی میں معروف سیاست دان اور سابق وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کے عقد میں بھی رہ چکی ہیں۔
