کے پی کے میں میٹرک پاس وزیر تعلیم لگانے پر تنقید

خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ روز صوبائی کابینہ میں کچھ وزارتوں کے وزرا کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ نئے وزرا میں وزیر تعلیم کو بھی تبدیل کر دیا گیا اور میٹرک پاس اکبر ایوب خان کو نیا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا، جس کےبعد اس تقرری پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر خوب تنقید ہورہی ہے۔
تمام تر تنقید کے باوجود صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی اس انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر تعلیم میٹرک پاس ضرور ہیں لیکن ان کی انگلش بہت اچھی ہے اور جو لوگ بیرونی ممالک سے تعلیم کے شعبے میں پیسہ لگانا چاہتے ہے ان کے ساتھ وہ اچھی انگریزی میں بات کر سکیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پہلے بھی پرائمری پاس لوگ وزیر تعلیم رہے ہیں۔
شوکت یوسف زئی کے بیان کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا خیبر پختونخواہ کی تاریخ میں پہلے کوئی میٹرک پاس وزیر تعلیم رہ چکے ہیں؟
ضیااللہ خان بنگش 2018 تا جنوری 2020
Zia ullah bangashصوبائی حکومت کی جانب سے اکبر ایوب کووزیر تعلیم بنائے جانے سے پہلے ضیا اللہ بنگش مشیر برائے ثانوی تعلیم تھے۔ اسمبلی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق ضیا اللہ بنگش پولیٹکل سائنس میں ماسٹر ڈگری کر چکے ہیں۔

محمد عاطف خان 2013 تا 2018
Atif Khanپاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے پچھلے دور حکومت میں محمد عاطف خان وزیر برائے ثانوی تعلیم تھے۔ عاطف خان نے نثار شہید کالج رسالپور سے میٹرک اور کیڈٹ کالج کوہاٹ سے انٹر کی تعلیم حاصل کی ہے۔ 2013 میں عاطف کو وزیر برائے ثانوی تعلیم مقرر کرنے پر بھی حکومت کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ ایک انٹر پاس وزیر کو تعلیم جیسی اہم وزارت دے دی گئی۔

سردار حسین بابک 2008 تا 2013
Sardar Husain babakسردار حسین بابک 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی کے سیٹ پر الیکشن جیت کر بعد میں صوبائی وزیر برائے ثانوی تعلیم مقرر کیے گئے۔ سردار بابک نے ابتدائی تعلیم آبائی گاوں میں مکمل کرکے انٹر کےلیے سائنس سپیرئیر کالج پشاور میں داخلہ لیا۔ سردار بابک نے بی اے کی ڈگری صوبے کے تاریخی اسلامیہ کالج اور شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ میں ماسٹر کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔

مولانا فضل حق حقانی 2002 تا 2007
Molana fazal haq haqqaniسابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں مولانا فضل حق حقانی تعلیم کے وزیر تھے۔ فضل حق حقانی مدرسہ حقانیہ سے فارغ التحصیل تھے اور ماسٹرز لیول کی تین ڈگریاں حاصل کر چکے تھے۔

امتیاز حسین گیلانی 1999 تا 2002
Gilaniصوبے کے چند اعلٰی تعلیم یافتہ وزرائے تعلیم میں ایک نام امتیاز حسین گیلانی کا ہے۔ امتیاز حسین 1999 سے 2002 تک پرویز مشرف کے دور حکومت میں سابقہ صوبہ سرحد کے وزیر تعلیم تھے۔ پشاور کے انجینئرنگ یونیورسٹی سے انہوں نے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے انجئنیرنگ کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری بنکاک کے ایشین انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی۔ امتیاز حسین 2004 سے 2013 تک ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چئیر مین بھی رہے۔

پروفیسر ہاشم خان 1997 تا 1999
Hashim Khanپروفسیر ہاشم خان پیشے کے لحاظ سے استاد تھے اور پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ نوازشریف کے دور حکومت میں صوبہ سرحد کے وزیر تعلیم تھے۔

افتخار خان جھگڑا 1993 تا 1997
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما افتخار خان جھگڑا 1993 سے 1997 تک صوبائی وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ افتخار جھگڑا نے بیچلر ڈگری حاصل کی تھی۔

محمد یوسف ترند 1988 تا 1993
1988 میں جب خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو پرائمری پاس یوسف ترند کو وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔
1988 سے 1990 کے زمانے میں صوبے میں خواجہ محمد خان ہوتی اور ولی محمد خان بھی وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ ولی محمد خان پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے جب کہ خواجہ محمد خان نے بیچلر ڈگری حاصل کی تھی۔

میاں جعفر شاہ 1951 تا 1955
Jaffar Shahایک تحقیقی مقالے کے مطابق تقسیم ہند کے بعد میاں جعفر شاہ کو 1951 میں خیبر پختونخواہ کا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ کالج سے حاصل کی تھی لیکن باقاعدہ طور پر کوئی ڈگری ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ ان کا تعلق نوشہرہ کے کاکاخیل قبیلے سے تھا۔

سر سعداللہ خان اپریل 1937 تا اگست 1937
سر سعد اللہ خان چارسدہ کے عمرزئی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو مسلم لیگ کے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کے دور میں وزیر تعلیم بنایا گیا تھا۔ سر سعداللہ خان کولکتہ کالج سے بیچلر ڈگری حاصل کر چکے تھے۔

بیرسٹر قاضی عطااللہ 1937
قاضی عطااللہ کانگریس کے سرکردہ رہنما تھے جو 1937 میں اس وقت صوبہ سرحد کے وزیر تعلیم مقرر کیے گئے جب خان عبدالجبار خان جو ڈاکٹر خان صاحب کے نام سے جانے جاتے ہیں، وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔
قاضی عطااللہ کو ڈاکٹر خان صاحب ہی کی حکومت میں 1946 میں دوبارہ وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔ قاضی عطااللہ نے علی گڑھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button