قاسم سلیمانی پر حملے سے قبل امریکا نے سعودیہ سے مشاورت نہیں کی

سعودیہ عرب نے واضح کیا ہے کہ قاسم سلیمانی پر حملے سے قبل امریکا نے سعودیہ سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی روشنی میں کشیدگی کا باعث بننے والی تمام سرگرمیوں کو روکنے پر زور دیا اور کہا کہ اس کے نتائج سنگین مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حملے سے متعلق سعودی عرب کی حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی تھی
دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات پر ضرورت پر زور دیا۔
مقامی اخبار کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے چھوٹے بھائی اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ چند روز میں امریکا اور برطانیہ کا دورہ کریں اور کشیدگی روکنے پر زور دیں۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خالد بن سلمان وائٹ ہاؤس اور امریکی دفاعی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے۔
پینٹاگون سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’قاسم سلیمانی عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ سازی میں متحرک تھے‘۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملے میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی قتل کے بعد جمکران مسجد کے کنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا۔
واضح رہے کہ قدیم ایرانی تہذیب میں سرخ پرچم لہرنے کا مقصد ‘جنگ یا جنگ کی تیاری’ سمجھا جاتا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کے جنوبی صوبہ کرمان میں سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابوحمزہ نے دھمکی دی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے امریکی اہداف کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور ‘خطے میں 35 اہم امریکی اہداف ایران کے دسترس میں ہیں اور امریکا کا دل اور زندگی تل ابیب بھی ہماری پہنچ میں ہے’۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا لیڈر پر کیے گئے ڈرون حملے کے بدلے میں امریکیوں یا امریکی اثاثوں پر حملے کی جوابی کارروائی کرنے پر ایران کو 52 ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button