گلشن اقبال کراچی میں دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مسکن چورنگی کے قریب دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جب کہ 20 زخمی ہوگئے۔
دھماکہ گلشن اقبال میں مسکن چورنگی کے قریب ایک عمارت میں ہوا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد پولیس، رینجرز، امدادی ٹیمیں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے کر امدادی کام شروع کردیا۔ ایدھی حکام نے دھماکے میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے جب کہ 20 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، جنہیں قریبی واقع نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ادھر زخمیوں کو پٹیل اسپتال جب کہ جاں بحق افراد کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا، جس کے بارے میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا اب تک ایک لاش کو جناح اسپتال لایا گیا ہے۔ دھماکے سے متعلق اسٹیش ہاؤس افسر (ایس ایچ او) مبینہ ٹاؤن نے ابتدائی طور پر بتایا کہ بظاہر یہ سلینڈر دھماکہ لگتا ہے لیکن بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں جو دھماکے کی نوعیت کی تصدیق کریں گی۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مسکن چورنگی کے قریب ہونے والے دھماکے کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی سے واقع کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جب کہ زخمیوں کےلیے فوری طبی امداد کا بندوبست کرنے کی ہدایت کردی۔ مراد علی شاہ نے گلشن اقبال میں ہونے والے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔
ادھر آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر نے مسکن چورنگی کے قریب دھماکے پر ایس ایس پی شرقی سے واقع کی تمام تفصیلات اور پولیس اقدامات پر مشتمل رپورٹ طلب کرلی۔ علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیر علی زیدی نے دھماکے کے متاثرین کےلیے دعائیں اور ہمدردی کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے حکام سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز 20 اکتوبر کو کراچی کے علاقے شیریں جناح کالونی میں ریموٹ کنٹرول دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ایس ایس پی جنوبی شیراز نذیر نے بتایا تھا کہ دھماکہ ایک دکان کے باہر بس ٹرمنل کے قریب ہوا تھا جس میں 5 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا تھا کہ دھماکہ بس ٹرمینل کے گیٹ پر ہوا جب کہ تقریباً ایک کلو دھماکہ خیز مواد ممکنہ طور پر سائیکل میں نصب تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران شہر قائد میں دستی اور کریکر بم کے دھماکوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
5 اگست کو کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے قریب جماعت اسلامی کی کشمیر ریلی میں دستی بم حملے میں 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایس ایس پی شرقی ساجد سدوزئی نے کہا تھا کہ ریلی میں 2 نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے آر جی ڈی ون گرینیڈ پھینکا اور فرار ہوگئے، جب کہ یہ پلانٹڈ بم دھماکہ نہیں تھا۔ اسی روز کورنگی کے علاقے میں کریکر حملے کے دوسرے واقعے میں 3 افراد زخمی ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button