گلگت بلتستان انتخابات، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا سلسلہ جاری

گلگت بلتستان کے تخت پر کس کا راج ہوگا؟ اس کیلئے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، اب تک موصول ہونے والے غیرسرکاری نتائج میں تحریک انصاف نے6 نشستیں جیت کر انتخابی میدان مار لیا ہے، انتخابات میں آزاد امیدوار 5 ، پیپلزپارٹی 3، اور مسلم لیگ ن فی الحال صرف ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
گلگت بلتستان کے الیکشن میں ایک بجے تک موصول ہونے والے نتائج کے تحت پاکستان میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے کو 6 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 3 نشستوں پر آگے ہے، اسی طرح پیپلزپارٹی 3 نشستیں جیت گئی جبکہ مزید پر آگے جارہی ہے۔ آزاد امیدوارں نے 5 نشستیں جیت لی ہیں۔مسلم لیگ ن 1نشست، جے یوآئی ف، اور مجلس وحدت المسلمین نے بھی ایک ایک نشست حاصل کی۔تاہم یہ نتائج حتمی نہیں ہیں۔ بہت سارے علاقوں میں سرد موسم اور برف باری ہوئی جس کے باعث ابھی تک گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان سرکاری طور پر کیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنرگلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پورے گلگت بلتستان میں مثالی الیکشن ہوا ہے، انتخابات صاف شفاف اور غیرجانبدار ہوئے ہیں۔ جی بی کے عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند جماعتوں کے سربراہان شکوک وشبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔غیرذمہ درانہ اور غیر ضروری بیانات سے گریز کیا جائے۔ان رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ الزامات لگانے اور شکوک شبہات پیدا کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہبازخان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا الیکن آزاد ،صاف اور شفاف تھا۔ گلگت کے کچھ علاقوں میں بارش اور برفباری ہوئی۔انتخابی نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ پولنگ ایجنٹس کے سامنے تمام نتائج تیار ہوں گے۔ غیر ذمہ درانہ اور غیر ضروری بیانات سے گریز کیا جائے۔ ابھی تک کسی بھی حلقے کا حتمی نتیجہ ابھی تک موصول نہیں ہوا۔ دور دراز علاقوں کے انتخابی نتائج میں وقت لگے گا۔
انتخابی نتائج سے متعلق مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں دھاندلی کے ذریعے ہرانے کا پوراپلان کیا گیا، ہمارے امیدوار جن حلقوں میں جیت رہے تھے، وہاں پر پولنگ کا عمل ہی سست رکھا گیا۔یہی پریکٹس الیکشن2018ء میں کی گئی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے سب سے بڑے جلسے کیے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ گنتی کے وقت مبصرین کا نہ ہونا دھاندلی کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن نوٹس لے۔ خواتین کی ووٹنگ پر دانستہ پابندیوں پر گہری تشویش ہے۔ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی کوششیں ناقابل قبول ہے۔ یہ واقعات انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی جیت رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پی ٹی آئی پر اظہار اعتماد کیا، جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے آج گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے 24 میں سے 23 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے، اب تمام حلقوں کے پولنگ اسٹیشنز میں ووٹوں کی گنتی اورنتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
234666 3192586 updates
گلگت بلتستان کے انتخابات میں حکمران جماعت تحریک انصاف21، پیپلزپارٹی 23 اور مسلم لیگ ن کے21 امیدواروں سمیت الیکشن میں190آزاد امیدواروں نے بھی حصہ لیا، اسی طرح مسلم لیگ کے 14، جے یوآئی ف 11، اسلامی تحریک7 اور پی ایس پی کے4، ایم کیوایم 3، مجلس وحدت المسلمین 3 اور جماعت کے 2 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ الیکشن میں 7 لاکھ 45 ہزار361 رجسٹرڈووٹرزنے حق رائے دہی استعمال کیا۔ان میں 4 لاکھ سے زائد مرد ووٹرز اور 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا۔ ضلع دیامر 4، ضلع گانچھے 3، ضلع غذر3، ضلع گلگت3،ضلع ہنزہ، اسکردو میں انتخابی حلقوں میں عوام میں انتخابی امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کیے۔
234666 9043158 updates
الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔
پولنگ سٹیشن کے 100 میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے اور چار سو میٹر کے اندر انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنانے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام تر انتظامات مکمل کئے تھے۔
234666 3706848 updates
اس سلسلے میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے خصوصی دستوں نے بھی یہاں خدمات سر انجام دیں۔انتخابات کیلئے ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور مقامی پولیس کے دس ہزار اہلکارڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پیراملٹری فورسز نے بھی فرائض انجام دیے۔
234666 8233305 updates
سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی، پی پی اور نواز لیگ نے جلسے، ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں خوب جان ماری۔ امیدواروں نے کامیابی کے دعوے بھی کئے۔
کرونا صورتحال کے پیش نظر تمام پولنگ سٹاف، سکیورٹی اہلکاروں اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ عملے کو حفاظتی سامان کے آٹھ ہزار بیگ تقسیم کئے گئے تھے۔ حفاظتی سامان میں ماسک، گلوز، ہیڈ سینی ٹائزر، معلوماتی پوسٹر اور پلاسٹک فیس کور شامل تھے۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ووٹرز ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر رکھا گیا۔کچھ مقامات پر پولنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
download

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button