گھریلو استعمال کے دوران بجلی کی بچت کیسے کی جائے؟

موجودہ مہنگائی کے طوفان میں بجلی کی بڑھتی قیمتیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھریلو استعمال کی دوران بجلی کی بچت کیسے کی جائے؟ اس میں کچھ بڑی بنیادی باتیں شامل ہیں جیسا کہ آپ کمرے سے جاتے وقت بتی بجھا دیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ تصور کہ کمرے میں ہر وقت روشنی جلتی رہنے سے بجلی کا بل زیادہ آتا ہے ایک دھوکہ ہے۔شاید یہ بات عام سے محسوس ہو لیکن اگر آپ کے گھر کی کھڑکیاں اچھی طرح بند ہیں اور اس پر اچھے موٹے پردے لگے ہیں تو یہ آپ کے گھر کی بہت سے بجلی بچانے اور بل کو کم کرنے میں کارآمد ہیں، ذہن میں یہ خیال ہمیشہ رہتا ہے کہ گھر میں ائیر کنڈیشنز یا ہیٹرز سب سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔سپینش تنظیم گارشیا کے ماہرین توانائی کے مطابق سردیوں میں گھر کا درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے، اسی طرح گھروں کے دروازے بند رکھنے سے بھی آپ اپنا بجلی کا بل کم کر سکتے ہیں، موسم گرما میں جہاں کھڑکیوں کو بند کر کے گرم ہوا کا گزر روکنا یا ان کے آگے پردے کر کے دھوپ روکنا، گھر کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں باہر کے درجہ حرارت کے مقابلے میں گھر میں اے سی کے درجہ حرارت کو آٹھ ڈگری کم پر رکھیں۔مثال کے طور پر اگر باہر کا درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تو آپ اپنے اے سی کا تھرموسٹیٹ 18 ڈگری پر رکھنے کی بجائے 25 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھیں یہ آپ کی بجلی کی کھپت کو کم کرے گا، اے سی کے تھرموسٹیٹ کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ پر لے جانے سے بجلی کی بہت بچت ہوتی ہے۔ موسم گرما یا سرما میں ایک ڈگری بڑھانے یا کم کرنے سے آپ دس فیصد قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ گارشیا تنظیم کے ماہر توانائی انرک کا کہنا ہے کہ’ توانائی کی بچت کا دوسرا اہم حصہ، جو گھروں میں بجلی کی کھپت کا تقریباً 55 فیصد حصہ ہے، گھریلو برقی آلات اور ان کے استعمال کا طریقہ ہے، توانائی کی کھپت کے لحاظ سے، گھروں میں سب سے زیادہ بجلی ریفریجریٹر استعمال کرتا ہے، جس کیلئے ہمیں احتیاطی تبدابیر اپنانی چاہئیں کہ فریج کے اوپری خانے (فریزر) میں برف نہ جمنے پائے۔ اس کے پچھلے حصے کو دیوار سے تھوڑا ہٹا کر رکھیں تاکہ وہاں ہوا کا گزر ہو اور دھول بھی نہ جمے، اسی طرح واشنگ مشین اور گیزر کا سمجھداری سے استعمال آپ کے بجلی کے بل کو بہت حد تک کم کر سکتا ہے۔توانائی ماہر انرک کا کہنا ہے کہ میں تجویز کروں گا کہ آپ گھریلو برقی آلات کو ان کے ایکو پروگرامز پر چلائیں، اسی طرح ڈرائر بھی وہ گھریلو اپلائنس ہے جو بہت زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات اس کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، اسی طرح مائیکرو ویو اوون یا الیکٹرک اوون کے استعمال میں یہ تجویز کیا جاتا ہے الیکٹرک ہیٹنگ پلیٹس یا اوون وغیرہ کو کھانے کے پکنے کے مقررہ وقت سے کچھ پہلے بند کر دیں۔ ٹی وی پر چلنے والی وہ چھوٹی سی لال بتی بھی بجلی استعمال کرتی ہے، اور یہ تھوڑا تھوڑا کر کے روزانہ کی بنیاد پر آپ کی بجلی کے بل میں اضافہ کر رہی ہے، اگر آپ اس کا سوئچ بند کر دیں یا اس کی تار بجلی کے سوئچ سے نکال دیں تو آپ خاطر خواہ بجلی بچا سکتے ہیں۔گھروں میں لگے روایتی بجلی کے بلب زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں ، لہٰذا انھیں نئے اور کم بجلی استعمال کرنے والے بلبوں سے تبدیل کرنا چاہئے، روایتی بلبوں کے مقابلے میں ہیلوجن بلب یا ایل ای ڈی بلب 25 سے 80 فیصد کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور تین گنا سے 25 گنا زیادہ چلتے ہیں، گرمی میں باہر کی لو سے نجات اور سردیوں میں گرما گرم پانی سے جسم کی تھکان دور کرنا کون نہیں چاہے گا مگر اگر بجلی بچانی ہے تو لمبے وقت کے لیے باتھ روم ٹب میں نہانے کی بجائے شاور لینا ہے، اور اپنے باتھ روم میں شاور لگاوائیں تاکہ پانی کی بچت ہو سکے، گارشیا کے توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے اندازے کے مطابق ان تمام ہدایات پر عمل کر کے آپ اپنے بجلی کے بل میں 30 فیصد تک بچت کر سکتے ہیں۔
