گھریلو صارفین کے بعد اب صنعتی صارفین بھی گیس سے محروم


ملک میں گیس کے بحران سے گھریلو صارفین تو پریشان تھے ہی لیکن اب صنعتیں بالخصوص ٹیکسٹائل کی صنعت، شدید مسائل کا شکار ہو چکی ہے جس کا پاکستان کی برآمدات میں 60 فی صد حصہ ہے۔ تاہم ایسے میں یہ سوال بھی غور طلب یے کہ اگر ملک میں گیس کا بحران پیدا ہو چکا ہے تو وافر بجلی پیدا ہونے کے باوجود صنعت کار اہنی فیکٹریاں گیس پر ہی کیوں چلانا چاہتے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایک جانب ملک میں گیس کے ذخائر نو فی صد سالانہ کی اوسط سے کم ہو رہے ہیں تو دوسری جانب نظام میں موجود گیس کی تقسیم پر بھی تنازعات کی وجہ سے صارفین کو اس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔حکومت کے طے کردہ میرٹ آرڈر کے مطابق سردیوں میں سی این جی سیکٹر، نان ایکسپورٹ جنرل انڈسٹری اور صنعتوں کے کیپٹو پاور پلانٹس، یعنی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں، کو گیس کی سپلائی منقطع کر دی جاتی ہے اور گیس کھاد بنانے والی فیکٹریز، ایکسپورٹ انڈسٹریز اور گھریلو صارفین کو فراہم کی جاتی ہے جہاں طلب تین سے پانچ گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ شعبے حکومت کی ترجیحی لسٹ میں دیگر شعبوں سے اوپر ہیں اور انہیں گیس کے گھریلو صارفین پر ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس وقت ملک بھر میں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔ لیکن اس پالیسی کے باوجود ملک بھر میں صنعتوں کو بھی گیس کے شدید بحران کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گیس کے گھریلو صارفین کے علاوہ کھاد بنانے والی فیکٹریز، سیمنٹ فیکٹریز، جنرل انڈسٹری، بجلی بنانے والے کارخانے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر شامل ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت نے گیس کے بجائے بجلی کے استعمال پر ایک رعایت کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق ایسے صارفین جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی کے اضافی یونٹس استعمال کیے۔ ان کی فی یونٹ قیمت 12 روپے 96 پیسے مقرر کی گئی ہے اور ان اضافی یونٹس پر کوئی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ یا سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ لاگو نہیں ہوگی۔
ملک میں صنعتی سیکٹر کے کیے بھی گیس کی کمی پر بات کرتے ہوئے معروف صنعت کار اور کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی سے صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل کی صنعت کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ اس سوال پر کہ صنعت کار قومی گرڈ میں موجود اضافی بجلی کے بجائے گیس لے کر اپنی بجلی بنانے پر کیوں انحصار کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں صنعت کاروں کو اس مقصد کے لیے ترغیب دی گئی۔ حکومت نے قرضے فراہم کیے اور کہا کہ وہ بجلی کے بجائے گیس حکومت سے حاصل کریں۔ کپیپٹو پاور پلانٹس لگائیں اور اس سے بجلی پیدا کرکے صنعتیں چلائیں۔ ان کے بقول اسی دوران ملک میں ٹرانسپورٹ بھی سی این جی پر چلائی جانے لگی۔ اب جب وہ باہر سے بھاری مشینری منگوا کر بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جس سے صنعتوں کو بلا تعطل بجلی بغیر کسی لائن لاسز کے مل رہی ہے، تو کہا جاتا ہے کہ بجلی پر منتقل ہو جائیں، جب کہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ زبیر موتی والا کے مطابق اس کی دوسری وجہ بجلی مہیا کرنے کے لیے بہتر ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر وہ صرف کراچی ہی کی بات کریں تو صنعتیں چلانے کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری کی ہی نہیں گئی جس میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کے انتظار میں صنعتیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ انکامکہنا تھا کہ تمام صنعتوں کو گیس کے بجائے بجلی پر چلانے کے لیے 700 سے 800 میگاواٹ بجلی اضافی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسی لیے صنعت کار بجلی کے بجائے گیس کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی سپلائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
صنعتی سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بھر کی صنعتوں کو اس وقت 400 ایم ایم سی ایف ڈی کے لگ بھگ گیس کی ضرورت ہے۔ جب کہ سندھ سے 2000 ایم ایم سی ایف ڈی گیس نکلتی ہے جس میں سے آدھی اسی صوبے کو فراہم کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں سوئی سے سوئی سدرن گیس کمپنی، جو سندھ بلوچستان کو گیس کی فراہمی کی ذمہ دار ہے، کو 125 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملتی ہے جب کہ وہاں سے سوئی ناردرن گیس کمپنی، جو پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کو گیس فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے، کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے۔
لہذا اگر گیس بلوچستان کے بعد سندھ کی صنعتوں کو فراہم کی جائے تو معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے سیلنڈرز اور باؤزرز کی مدد سے فراہم کی جا سکتی یے کیوںنکہ پائپ لائن سے گیس فراہم کرنے میں ریکوری، چوری اور لائن لاسز کی مد میں سالانہ اربوں روپے کے نقصانات ہو رہے ہیں۔ توانائی سیکٹر سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گیس کی لائن لاسز میں ہونے والے نقصانات ہی کو پورا کر لیا جائے تو صنعتوں کے کیپٹو پاور پلانٹس کو اب بھی گیس پوری کی جاسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صنعتوں کو چلانے کے لیے گیس فراہم کی جاتی تو ملک کو معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور آج ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اس قدر کم نہ ہوتی۔

Back to top button