ہاتھ جوڑ کر سری لنکن عوام سے معافی مانگتے ہیں
نامور عالم دین مولانا طارق جمیل نے فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے قتل پر سری لنکن قوم سے معافی مانگ لی، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی اور عالم دین مولانا طارق جمیل نے سری لنکن ہائی کمیشن جا کر ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ واقعے پر معذرت کرتے ہیں، ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اسلام کا نام سلامتی ہے اور ایمان کا نام امن ہے، اسلام پیغام محبت ہے اور محبت کا درس دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سود کھانے والا شدید سزا کا حق دار ہوگا اور بے گناہ کو قتل کرنے والا شدید سزا کا حق دار ہوگا، نامور عالم دین کا کہنا تھا ہم سری لنکن ہائی کمشنر سے معافی مانگنے آئے ہیں، ہم سری لنکا والوں سے شرمندہ ہیں، ہمارے لوگوں نے یہ کام کیا، ہاتھ جوڑ کر سری لنکن قوم سے معافی مانگتے ہیں۔
مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا اپنی قوم سے ہاتھ جوڑ کے کہتا ہوں کہ قرآن پڑھو، قرآن پڑھو ورنہ جانوروں سے بھی بدتر ہو، قرآن میں 89 دفعہ کہا گیا ہے، اے ایمان والو! اللہ کے سوا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کو جلائے۔
اس موقع پر حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، ہم سری لنکن ہائی کمشنر سے تعزیت کے لیے آئے ہیں، ہم معافی مانگنے آئے ہیں، ہم شرمندہ ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم نے مذہبی پوسٹر کی بے، حرمتی کے الزام میں بے دردی سے قتل کرنے کے بعد نعش کو آگ لگا دی۔
