ہالی ووڈ فلم ’’باربی‘‘ کی پاکستان میں ریلیز موخر کیوں ہوگئی؟

ہم جسن پرستی اور ٹرانسجینڈر کے فروغ پر مبنی ہالی ووڈ فلم ’’باربی‘‘ کی پنجاب بھر میں ریلیز موخر کر دی گئی ہے، سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کا جائزہ لینے کے بعد اس کی ریلیز کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب فلم سینسر بورڈ کے سیکریٹری فرخ محمود نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فلم کا مکمل جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد جہاں ضروری ہوگا اسے سینسر کر دیا جائے گا۔
ہالی ووڈ کی نئی فلم ’باربی‘ 21 جولائی کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی، فلم میں مشہور باربی گڑیا کا کردار ہالی وڈ اسٹار مارگٹ روبی ادا کررہی ہیں اور باربی کے بوائے فرینڈ ’کین‘ کا کردار رائن گوسلنگ ادا کر رہے ہیں
فرخ محمود کہتے ہیں کہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد فلم کو نمائش کے لیے کلیئر قرار دیا جائے گا تاہم سینسر بورڈ نے فلم میں ’قابل اعتراض‘ مواد کی وضاحت نہیں کی۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ فلم میں ممکنہ طور پر ہم جنس پرستی اور ٹرانسجینڈرز کو فروغ دینے یا ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔
فاکس نیوز نے کرشچن فلم ریویو سائٹ ’مووی گائڈ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’فلم کے ریویو میں نئی فلم ’باربی‘ پر تنقید کی گئی ہے کہ اس فلم میں ہم جنس پرستوں اور اٹرانسجینڈر کی کہانیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
فلم کو21 جولائی کو اسلام آباد اور سندھ کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا تھا، جہاں اسے متعلقہ سینسر بورڈز نے کلیئر کر دیا تھا، لاہور کی رہائشی نوشین سعد کہتی ہیں کہ میں کئی مہینوں سے باربی دیکھنے کے لیے انتظار کر رہی ہوں، اس بات کی کوئی تُک نہیں بنتی کہ اسے کراچی یا اسلام آباد میں دکھایا جانا ٹھیک ہے لیکن لاہور میں نہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ سینسر بورڈ کی جانب سے کسی فلم پر پابندی لگائی گئی ہو اس سے قبل کانز ایوارڈ یافتہ اور آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئی پاکستانی فلم جوائے لینڈ پر بھی حکومت نے ’معاشرتی اقدار کے خلاف‘ قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔
بعدازاں فلم کو حکومت کی جانب سے جائزے کے بعد کلئیر قرار دیا گیا تھا، اس کے باوجود پنجاب سینسر بورڈ نے اس پر پابندی برقرار رکھی تھی، 2019 میں فلم ’زندگی تماشا‘ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی جب اس فلم کے ڈائریکٹر پر ایک انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت کی طرف سے فلم میں ایک مذہبی آدمی کی تصویر کشی کے لیے توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا۔
