ہر سیاسی پتلا اپنے خالق کے لیے چیلنج کیوں بن جاتا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں پچھلے 74 برسوں میں بہت سارے دولے شاہ کے چوہے اور رنگ برنگے پتلے بھی لائے گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس پتلے میں اسکا خالق جان ڈالتا ہے، کچھ عرصے بعد وہ پتلا اپنے خالق کے لیے ہی ایک چیلنج بن جاتا ہے اور پھر دونوں ایک دوسرے کے مدِمقابل آ جاتے ہیں۔ لیکن خالق تو خالق ہے۔ وہ کبھی اپنے تمام گر پتلے کے دماغ میں نہیں ڈالتا۔ چنانچہ پتلا بالآخر مات کھا جاتا ہے۔ خالق پھر ایک تازہ اُمنگ کے ساتھ نیا پتلا تیار کرتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب دوبارہ سے وہی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔

بی بی سی کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ شاید اس کشمکش سے بچنے کا یہی طریقہ ہو کہ پتلے کو صرف خالی کھوپڑی عطا کی جائے۔ مگر پھر یہ مشکل آن پڑے گی کہ پتلا ساکت رہے گا یا جدھر منھ اٹھے گا، ادھر کو ہی بلا مقصد چلتا رہے گا۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پائے گا اور نہ ہی سمجھا سکے گا۔ یونہی رہے گا تو مزید پتلے بنانے کا کیا فائدہ؟ پھر تو ایک ہی کافی ہے۔ یا یوں ہو کہ دماغ تو ہو مگر مکمل تابع رکھنے والی وائرنگ سے بنا ہوا ہو۔ یا پھر اسکی پروگرامنگ ایسی ہو کہ پتلا جبلی وظائف ہی انجام دے اور خالق کے لیے کبھی مسئلہ نہ بنے۔

وسعت کہتے ہیں کہ مگر جس طرح عقل نہ ہونے کے اپنے مسائل ہیں، اسی طرح مکمل اطاعت زدگی کی بھی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ اب دیکھیے ناں۔ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کتنی محنت سے طرح طرح کے پتلے تیار کرتی ہے۔ ان کی پروگرامنگ کرتی ہے۔ انھیں ڈھول تاشے کے ساتھ منظرِ عام پر لاتی ہے۔ انھیں ایک خاص انداز میں سوچنا سمجھنا سکھاتی ہے۔ ان کی چھوٹی موٹی مادی و ذہنی رپیئرنگ کے لیے کاریگر بھی فراہم کرتی ہے۔ انھیں محدود فیصلہ ساز آزادی بھی عطا کرتی ہے تاکہ دیکھنے والے انھیں نرا پتلا ہی نہ سمجھ لیں۔وسعت بتاتے ہیں کہ بونزائی علمِ نباتیات میں ایک جاپانی اختراع ہے۔ اس فن کے ذریعے برگد کو بھی گملے میں اُگایا جا سکتا ہے۔ دیکھنے میں وہ ہر طرف سے برگد ہی لگتا ہے مگر اس کی جڑیں گملے سے باہر نہیں نکلتیں اور وہ ایک بونے قد کا برگد ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں مشکل یہ ہے کہ بونزائی کے فن کو سراہا تو جاتا ہے، مہنگے مہنگے بونزائی پارے متمول گھروں میں بھی نظر آتے ہیں۔ مقامی طور پر بھی یہ فن سیکھنے کے کچھ دلدادہ دیکھنے کو ملتے ہیں پر جانے کیوں ہاتھ میں وہ صفائی نہیں پیدا ہوتی جو جاپانیوں کا خاصا ہے۔جاپانیوں نے تو خیر کچھ سوچ سمجھ کر اس فن کو نباتات تک محدود رکھا ہے۔ ہم چونکہ وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں لہذا ہم نے سوچا کہ صرف نباتات ہی کیوں سیاست، نظریے اور ذہن کو بونزائی کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب جب بھی کوشش کی پودے نے جڑ پکڑتے ہی مزید پھیلنے کی کوشش میں گملا پھاڑ دیا۔

وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ ہمارے پتلا سازی کے ماہرین نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ اگر بونزائی کا اصول قابلِ عمل ہوتا تو جاپانی ضرور نباتات سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں بھی اس کے تجربے کرتے۔ غلامی کا ادارہ ہزاروں برس میں ایک بھی بونزائی پیدا نہ کر سکا۔ بالآخر جسمانی غلامی کو اپنی ہیئت بدلنا پڑ گئی۔ یہی کچھ نظریات و عقائد کے ساتھ ہوا۔ وہ پیدا ہوئے، پنپے، وقت نے یا تو شکل صورت بدل دی یا پھر ختم کر دیا مگر ذہنی غلاموں کو بھی دائمی بونزائی نہ کیا جا سکا۔

وسعت کہتے ہیں کہ ہم نے دولے شاہ کے چوہے تو بنائے جو دور سے پہچانے جاتے ہیں اور بغیر نگراں کے ایک قدم نہیں بڑھا پاتے۔ ہم نے پتلے بھی بنائے مگر ہم معیاری ریگولیٹر نہ بنا سکے چنانچہ ان پتلوں میں ضرورت سے کم یا زیادہ جان پڑ گئی۔ تاہم سیاست کو بونزائی کرنے کے سب تجربات ناکام رہے۔ بھٹو، جونیجو، بے نظیر، نواز شریف وغیرہ وغیرہ کی جانب سے گملا توڑ کوشش کے باوجود ہمارے ماہرین پتلا سازی نے ہمت نہیں ہاری۔ اور اب انھیں عمران خان نامی پتلا درپیش ہے۔

وسعت کہتے ہیں کہ مجھے اطالوی ڈرامہ نگار لوئیگی پراندیلو کا سو برس پرانا کھیل ’چھ کردار مصنف کی تلاش میں‘ ان دنوں بے طرح یاد آ رہا ہے۔ چھ کردار جنھیں مصنف نے تخلیق کیا مگر کہانی کو نامکمل چھوڑ کے چلا گیا۔ اب یہ کردار کسی ایسے مصنف کی تلاش میں ہیں جو کہانی کو آگے بڑھا کے مکمل کرے تو یہ کردار بھی جینا شروع کریں۔ یہ کھیل کئی زبانوں میں سینکڑوں بار سٹیج ہو چکا ہے۔ ہمارے ہاں بھی چوہتر برس سے درشا رہا ہے۔ بہت سے مصنفوں نے اس کی تکمیل کے لیے جان بھی لڑائی۔ منظر اور مکالمے تک بدلنے کی کوشش کی۔ مگر اب تک اس کھیل کے کردار اپنے ادھورے پن سے جان نہیں چھڑا پائے۔

Back to top button