ہمارے قومی ہیروز کو عزت کروانے کے لئے مرنا کیوں پڑتا ہے؟


جو قوم اپنے محسنوں کو زندگی میں رسوائیاں اور مرنے کے بعد جعلی عزت دیتی ہے، اس سے بڑی محسن کش قوم کوئی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے معاملے میں ثابت ہوگیا ہے کہ ہم بھی ایک محسن کش قوم ہیں جو اپنے محسنوں کے دکھ پر جعلی سوگ مناتی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ کالم میں ارشاد بھٹی حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر چند لمحے مل جائیں تو ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ ضرور سوچئے گا کہ بھارت نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالکلام کے ساتھ کیا سلوک کیا، اور ہم نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وزیراعظم عمران خان سے تو گلہ ہی کیا کیونکہ ہزارہ برادری کی لاشیں، جنازے ہوں، نعیم الحق کا جنازہ ہو یا اے کیوخان کا جنازہ، نجانے کیوں وزیراعظم کسی میں بھی شریک نہ ہوئے۔ ارشاد بھٹی کے بقول جب پرویزمشرف دور میں افواہیں زوروں پر تھیں کہ ڈاکٹر اے کیو خان کیخلاف کچھ ہونے والا ہے، تب ڈاکٹر صاحب کا دفتر پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں تھا۔ ایک دن میں ان سے ملنے گیا۔ اسٹاف نے مجھے خلاف معمول ڈاکٹر صاحب کے دفتر سے ملحقہ کانفرنس روم میں بٹھا کر کہا، ڈاکٹر صاحب یہیں ملیں گے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب آگئے اور آتے ہی خلافِ معمول انہوں نے کانفرنس روم کے ٹی وی کی آواز اونچی کر دی، وہ کرسی گھسیٹ کر میرے قریب آ بیٹھے۔ میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب اتنی احتیاط کیوں، وہ آہستہ سے بولے کہ مجھ پر نظر رکھی جارہی ہے، میرا سب کچھ سنا جارہا ہے۔ پچھلے 5 دنوں سے مجھے تو کوئی ملنے ہی نہیں آیا بلکہ اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ نہ کوئی فون کرتا ہے نہ میرے فون کا جواب دیتا ہے کیونکہ سب کو پتا چل چکا ہے کہ پرویز مشرف میرے خلاف ہو چکا، اب بھلا کوئی مجھے مل کر، فون کرکے اپنا نقصان کیوں کروائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ یہ لوگ مجھے گرفتار کر لیں گے۔ ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ میں نے کہا، سر یہ کیسے ممکن کہ کوئی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کو گرفتار کرے؟ اس پر ڈاکٹر صاحب ایک قہقہہ مار کر بولے، جب کم ظرفوں کو طاقت مل جائے تو پھر سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے اور پاکستان میں بھلاکب کسی نے محسنوں کی قدر کی۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اس دن میں کوئی گھنٹہ بھر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رہا، انہوں نے ایسی ایسی باتیں، ایسی ایسی کہانیاں سنائیں کہ کانوں سے دھواں نکل آیا،،، اور پھر دو دن بعد وہی ہوا، ڈاکٹر صاحب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، ان کا دفتر سیل کر دیا گیا اور ان کے سٹاف سے تفتیش شروع ہوگئی، آگے جو کچھ ہوا، ٹی وی پر معافی منگوانا، انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کی کہانی، ظفراللہ جمالی کا کردار اور بہت کچھ یہ سب کو معلوم۔ یہی وجہ ہے کہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے جب ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ کو زندگی میں کوئی پچھتاوا ہے تو ڈاکٹر صاحب کا جواب تھا، اس قوم کے لئے کام کرنے کا پچھتاوا ہے، ڈاکٹر صاحب کی یہی محسن کش قوم آج انکی وفات کا جعلی سوگ منارہی، جب ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت تھا تب یہ قوم سوئی رہی۔ اس قوم کا حال یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے 2012 میں سیاسی جماعت ’تحریک تحفظ پاکستان ‘بنائی، پہلے تو کوئی اسکا ٹکٹ لینے کو تیار نہ ہوا، جو چند امیدوار ڈاکٹر صاحب نے کھڑے کئے ان کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔
ارشاد بھٹٰی کہتے ہیں کہ اب یہ چھوڑ یئے کہ ڈاکٹر قدیر خان کے جنازے میں وزیر اعظم، صدر، وزرائے اعلیٰ، اپوزیشن لیڈر، زرداری صاحب، بلاول بھٹو سمیت کوئی بڑا کیوں نہ آیا؟ اس بات کو بھی چھوڑیئے کہ پرویز مشرف کے قید کئے ڈاکٹر صاحب کو پی پی پی، ن لیگ، تحریک انصاف کی حکومتوں میں بھی کیوں آزادی نہ ملی، اس با ت کو بھی رہنے دیں کہ 17سال گھر میں نظر بند ڈاکٹر صاحب کو عدالتوں سے بھی انصاف کیوں نہ ملا، ملاحظہ یہ کریں کہ ہم کتنے بڑے جھوٹے، کتنے منافق، کتنے مردہ پرست ہیں کہ جب ڈاکٹر صاحب زندہ تھے تو قیدی رہے، مرے تو قومی پرچم سرنگوں کیا گیا، قومی سوگ کا اعلان ہوا، انکا تابوت پرچم میں لپٹا گیا، انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، یعنی اس ملک میں قومی ہیروز کو اپنی عزت کروانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔

Back to top button