شہباز شریف واقعی خادم اعلیٰ ہو توپٹرول 150 پر لائو

چیئرمین تحریک انصاف اورسابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ شہباز شریف کے دور میں عالمی منڈی میں قیمتیں ہمارے دور کے حساب سے بھی کم ہو گئی ہے، شہباز شریف آپ اگر واقعی خادم اعلیٰ ہو تو پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لٹر پر واپس لاؤ۔
لیہ میں پنجاب کے 20 حلقوں میں 17جولائی کو ہونیوالے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ واقعی خادم اعلیٰ ہو تو آج ہی تیل کو واپس 150 روپے لٹر پر لاؤ۔ ہم نے ڈیزل اور پٹرول کے ساتھ بجلی کی قیمت بھی 5 روپے کم کی تھی، ہم نے نہ صرف قیمتیں نیچے رکھیں بلکہ ساتھ ساتھ ہیلتھ کارڈ بھی دیا، ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس دی، نوجوانوں کو سستے قرضے دیے، سستے گھروں کی اسکیم شروع کی، ہمارا احساس پروگرام نچلے طبقے کو اٹھاتا تھا جسے دنیا نے سراہا۔
انکا کہنا تھاہم اڑھائی سال آئی ایم ایف پروگرام میں تھے ہم نے تو قیمتیں نہیں بڑھائیں، دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپرجارہی تھیں، ہم نے لوگوں کو مہنگائی سے بچایا، ہم نے مہنگائی کو روک رکھا تھا اور ہمارے دور میں پاکستان سب سے سستا ملک تھا، لیکن شہباز شریف بتاؤ اب تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ہمارے دور سے بھی کم ہوگئی ہے۔ ہمارے دور میں ایکسپورٹس بڑھیں، ریکارڈ ترسیلات زر آئیں، ٹیکسٹائل میں ریکارڈ پروڈکشن ہوئی، زراعت کے شعبے میں ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کی پالیسی بنائی، قانون بناکر کسانوں کو شوگر مافیا سے پوری رقم دلوائی، جب معیشت آگے بڑھ رہی تھی تو بیرونی سازش کرکے حکومت گرائی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا عالمی مہنگائی ہے تیل کی قیمتیں اوپر تھیں، ہمیں گندم اور گیس کی ضرورت تھی، جب میں روس گیا تو اس سے گیس اور گندم کی بات کی لیکن یہاں انھوں نے امریکا کیساتھ مل کر سازش کی، جب ہماری حکومت گرائی تو یاد رکھیں سب سے زیادہ ترقی ہمارے دور میں ہوئی، معاشی سروے کے مطابق گزشتہ 17 سال کے دوران پچھلے 2 سال میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی۔ ہماری اوپر جاتی معیشت کیساتھ وہ کیا جو دشمن بھی نہ کرے، بیرون ملک پاکستانی ترسیلات بھیجتے تھے آج وہ بھی کم ہورہی ہیں، یہ لوگ ملک کو سری لنکا کی طرف لیکر جارہےہیں، سری لنکا میں عوام نے صدارتی محل پر حملہ کردیا، سری لنکن صدر نے باہر جانے کی کوشش کی تو ایئرپورٹ پر روک لیا گیا، سری لنکا کا حکمران خان بھی زرداری اور شریفوں کی طرح تھا ان بھی باہر گھر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا یہ وزیراعظم بھکاری بنا ہوا ہے کہ مجھے پیسے دے دیں اگر نواز، شہباز اور زرداری اپنا آدھا پیسہ بھی واپس لے آئیں تو کسی سے بھی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن یہ تو وہ لوگ ہیں جو پیسے کیلیے ملکی نظریے، غیرت اور عزت کو بیچ دینگے۔ قوم چوروں کیخلاف کھڑی ہوگئی ہے، انشااللہ 17 جولائی کو ہم دیکھیں گے، یہ چور ایک طرف اورتھوڑے سے ہیں اور ساری قوم دوسری طرف ہے، چور دھاندلی سے نہیں جیت سکتے اس لیے یہ دھاندلا کرینگے، آپ نے پولنگ اسٹیشنز کا پہرہ دینا ہے، ہر پولنگ اسٹیشن پر 10 دلیر نوجوانوں کو کھڑا کرنا ہے، ہماری خواتین نے پولنگ اسٹیشنز پر پہرہ دینا ہے اور ملک کا مستقبل بچانے کیلئے ہمیں ان چوروں کو کبھی نہیں جیتنے دینا کیونکہ یہ چور مسلط ہوگئے تو یاد رکھیں نوجوانوں، بہنوں، بچوں کا کوئی مستقبل نہیں۔
انکا کہنا تھا جن کے پاس طاقت ہے ان کو پیغام دینا چاہتاہوں، یہ پرامن لوگ کھڑے ہیں یہ نقصان پہنچانے نہیں ملک بچانے نکلے ہیں، صاف اور شفاف الیکشن نہ ہونے دیے تو کوئی شک نہیں ملک سری لنکا کی طرف چلا جائیگا اور اگر ملک سری لنکا کی طرف نکل گیا تو سب کے ہاتھ سے کھیل نکل جائے گی، اگر کسی کو ملک کی فکر ہے تو شفاف الیکشن کرائیں آپ کا پہلا ٹیسٹ 17 جولائی کو ہوگا، اس دن پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی عوام کہاں کھڑی ہے۔
عمران خان نے کہا ہر دور میں یزید ہوتے ہیں جو خوف ،دہشت پھیلا کر عوام کو غلام بناتے ہیں، سب سے بڑا بت خوف کا ہے، قوم سے کہتا ہوں اسے توڑنا ہے کسی سے نہ ڈرنا، ہم کسی کی غلامی نہیں کرنا چاہتے لیکن اپنی آزادی کیلیے آزاد خارجہ پالیسی کے تحت پوری دنیا سے دوستی چاہتے ہیں، میں امریکا کو جانتا ہوں ہم امن میں آپ کے ساتھ ہیں جنگ میں نہیں، دوستی کیلیے تیار ہیں مگر غلامی کیلیے کبھی کھڑے نہیں ہونگے۔
دریں اثنا پی پی 90 بھکر میں خطاب کے دوران عمران خان نےکہا ہمارے لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،ان کی کوشش ہے کہ ہم ان چوروں کو تسلیم کرلیں لیکن ہم کبھی ان کو تسلیم نہیں کریں گے،ہزاروں ایف آرز کٹ جائیں، چاہے جان چلی جائے، چوروں کو تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتے، اتنی بڑی تعداد میں آنے پر دریا خان کے لوگوں کا مشکور ہوں، ثناء اللہ مستی خیل کو لوٹا بنانے کی پوری کوشش ہوئی مگر وہ نہیں ہوئے، دریا خان سے جو بھی ایم پی اے بنتا ہے وہ ہر بار کیوں لوٹا ہو جاتا ہے، اس گرمی میں دریا خان کے لوگ آئے آپ کو سلام پیش کرتا ہوں، جب انسان کا کوئی قبلہ نہ ہو تو وہ لوٹا ہو جاتا ہے، جہاں فائدہ نظر آتا ہے لوٹے کا منہ اس طرف ہو جاتا ہے، قبلہ نہیں ہوتا تو جہاں سے پیسہ دھمکی ملتی ہے لوٹا وہیں چلا جاتا ہے، جب لوٹوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو وہ ملک تباہ کر دیتے ہیں۔
انکا کہنا تھا نوجوانوں آپ سب نے لوٹوں کو شکست دینی ہے، میں نے آپ کی ڈیوٹی لگانا ہے آپ نے گھر گھر جانا ہے، امریکی سازش کے تحت ہم پر چوروں اور ڈاکوؤں کو مسلط کیا گیا ، سیاست میں 26 سال سے ان چوروں کا مقابلہ کر رہا ہوں، یہ الیکشن نہیں بلکہ جہاد ہے، یہ چور 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں ہم ان امریکی غلاموں کو تسلیم کریں، ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ہمارے لوگوں کو فون آتا ہے کہ تمہیں اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیں گے، صحافیوں پر ایف آئی آرز کٹ رہی ہیں، مجھ پر بھی ایف آئی آرز درج ہیں، ہزاروں بھی درج ہوں اور میری جان بھی چلے جائے تو چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا۔
عمران خان نے کہا امریکا کے ایک غلام کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، غلام وزیراعظم کہتا ہے ہم مجبور اور بھکاری ہیں اس لیے امریکا کی غلامی کرنی ہے، ان کا وزیر خواجہ آصف کہتا ہے ہم زندہ ہیں تو امریکا کی وجہ سے ہیں، ہم ان کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ اور جدوجہد کرنی ہے، ان کو تسلیم کر لیا تو ہم ساری زندگی امریکا کی غلامی کرتے رہیں گے، شریف اور زرداری خاندان 32 سال سے حکومت کر رہا ہے، 32 سال بعد بھی کہتے ہیں ہمارا ملک غریب ہے، یہ مہنگائی کم کرنے آئے تھے، چوروں نے آتے ہی مہنگائی مزید بڑھا دی۔ یہ چوری ختم کرنے نہیں بلکہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرنے آئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم کاکہنا تھا یہ کراچی کا پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں، کراچی ملک معاشی حب ہے، ان چوروں اس شہر کا کیا حال کر دیا، ان چوروں کی مہم چلانے والی جھوٹوں کی شہزادی ہے، 8 سال پہلے کہتی تھی میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی جائیداد نہیں ہے، سلیمان شہباز کک بیکس اسپیشلٹ کو بھی آپ نے سن لیا ہے، پاناما پیپرز آتے ہیں پتہ چلتا ہے ان لوگوں نے دولت چھپائی ہوئی تھی، پاناما پیپرز میں پتہ چلا لندن میں چار محلات مریم نواز کے ہیں، انکشاف کے بعد مریم کا بھائی کہتا ہے الحمد للہ میرے اپارٹمنٹس ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا غیر آئینی طور پر وزیراعلیٰ حمزہ شہباز بھی چور ہے، اس ملک کی سب سے بڑی بیماری بھی آپ کے ساتھ ملا ہوا ہے، سلیمان شہباز کہتا تھا جس پرپارٹی کی بات کر رہے ہیں لا کر دکھائی،چیف الیکشن کمشنر کتنی بار مریم اور حمزہ کے پاس گئے تھے، چیف الیکشن کمشنر بتاؤ کس طرح دھاندلی کر رہے ہو، انہوں نے دھاندلی کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا، پاکستانیو! تیار ہو جاؤ اب یہ چور دھاندلی کے لیے اُتر رہے ہیں، ایک مسٹر ایکس ہے مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے مسٹر وائی کے ساتھ مل کر دھاندلی کی تیاری کی ہوئی ہےاور مسٹر وائی کو ملتان پہنچا دیا ہے۔ دھاندلی کے تیاری کے ساتھ وہ لوگوں میں خوف پھیلا رہے ہیں، دھاندلی کی کوشش کی گئی تو بتانا چاہتا ہوں عوام پھینٹی لگائیں گے۔
دریں اثنا ایک ویڈیو پیغام میں انکا کہنا تھانوجوانوں کے لیے خاص پیغام دینا چاہتا ہوں، 17 جولائی کو 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب حقیقی آزادی کے لیے جہاد ہے، ملک پر بیرونی سازش کے تحت چوروں کو مسلط کیا گیا، چوروں نے اقتدار میں آ کر اپنی چوری بچانے کے لیے 11 سو ارب کا ڈاکہ مارا۔
انہوں نے کہا امپورٹڈ حکومت نے ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا اور معیشت تباہ کردی، سب نوجوانوں کو خود بھی نکلنا ہے اور عام عوام کو بھی نکالنا ہے، یہ چور صرف ایک طرح الیکشن جیت سکتے ہیں اور وہ دھاندلی ہے۔ ہمیں مل کر دھاندلی کو شکست دینی ہے اور انشاءاللہ ملک کو حقیقی طور پر آزاد کرنا ہے۔
قبل ازیں ایک ٹویٹر پیغام میں عمران خان نے کہا بارشوں نےایک مرتبہ پھر سندھ میں زرداری اورخاندان کے 14سالہ کرپٹ دورِاقتدار کی حقیقت بےنقاب کردی ہے۔ کرپشن کیسےگورننس کو تباہ کرتی ہے، یہ اسکی مثال ہے۔ کراچی کو دیاجانےوالا پیسہ جعلی اکاؤنٹس کی نذر ہوا یا دبئی کی جائیدادوں میں لگا دیا گیا۔ شر کے اس گٹھ جوڑ کاخاتمہ اب لازم ہے۔
