ہمیشہ سویلین ہی آئین شکنوں کے ہاتھوں غدار کیوں ٹھہرتا ہے؟


پاکستان کے متفقہ آئین کے مطابق ہر وہ شخص غداری کا مرتکب قرار پاتا ہے اور سزائے موت کا مجرم ٹھہرتا ہے جو آئین پاکستان کو سبوتاژ کرتا ہے یا اسے معطل کرتا ہے۔ تاہم اس کے برعکس پاکستان میں آج دن تک ہمیشہ سویلین سیاستدان ہی غدار قرار پائے ہیں اور وہ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں جو کہ پچھلے 72 برسوں سے بار بار پاکستانی آئین توڑ کر غداری کی مرتکب ہو رہی ہے۔ جناح کے پاکستان میں آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی سویلین سیاستدان کسی ادارے کے خلاف کوئی سچی بات کر دے تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فوری طور پر غدار قرار دے دیاجاتا ہے۔ گزشتہ سات عشروں میں کتنے ہی جمہوریت پسندوں اور قوم کے محسنوں کو غدار قرار دیا جاچکا ہے لیکن ملک کے واحد سرٹیفائیڈ غدار پرویز مشرف کو آئین شکنی پر عدالت کی جانب سے غدار قرار دیئے جانے کے باوجود پھانسی کے پھندے پر نہیں لٹکایا جاسکا۔
آئین و قانون کے برعکس ہمارے ملک میں الٹا ہی چلن ہے۔ یہاں قوم کے سویلین محسنوں کو ہی غدار قرار دیا جاتا ہے جبکہ آئین توڑنے والے نان سویلین غداری کے یہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا پہلا غدار قائداعظم کا مخلص ساتھی متحدہ بنگال کا وزیراعظم حسین شہید سہروردی تھا جسے مرنے کے بعد یہاں دفن ہونے کی اجازت بھی نہ مل سکی۔ دوسرا غدار پاکستان کا نام تجویز کرنے والا چوہدری رحمت علی تھا جسے پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا اور آج تک اس کے جسد خاکی کو برطانیہ سے پاکستان منتقل نہیں کیا جاسکا۔ ‏تیسرا غدار پاکستان کو گوادر پورٹ دلوانے والا وزیراعظم فیروز خان نون تھا جسے پنجاب کا پانی انڈیا کو بیچنے سے انکار پر ایوب غدار نےمارشل لا لگا کر گھر بھیج دیا تھا۔ چوتھی غدار تحریک پاکستان میں قائداعظم کے شانی بشانی کھڑی یونے والی ان کی ساتھی اور بہن فاطمہ جناح تھیں، جنہیں فوجی آمر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے دھاندلی کرکے نہ صرف صدارتی الیکشن ہرا دیا بلکہ ‏اسے انڈیا اور امریکہ کا ایجنٹ بھی قرور دے دیا۔ پاکستان کا پانچواں غدار ملک کا پہلا منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھا جس نے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ پھر اسے ایک جھوٹے الزام پر پھانسی دے دی گئی۔ یہ اور بات کے تاریخ میں بھٹو کو شہید کا درجہ ملا اور اس کی پھانسی کو جوڈیشل مرڈر یا عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں غدار قرار دیا جانے والا چھٹا شخص ڈاکٹر عبد القدیر خان تھا جس نے ملک کے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور پھر چاغی کے دھماکے کئے۔ قوم کے اس محسن کو عزت دینے کی بجائے سرکاری ٹی وی پر بلاکر قوم سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ مشرف نےامریکہ کو ‏خوش کرنے ڈاکٹر قدیر کو انکے گھر پر نظر بند کر دیا اور ان کی نظر بندی آج دن تک جاری ہے۔
پاکستان کا ساتواں غدار نوازشریف تھا جس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے۔ اسے مشرف کا طیارہ ہائی جیک کرنے کے الزام میں سزائے موت سنا کر جلا وطن کردیا گیا۔ پھر جب نواز شریف دوبارہ منتخب ہوا تو کچھ ہی عرصہ بعد اسے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عدالتوں کے ذریعے نااہل قرار دلوا کر اقتدار چھین لیا اور جیل میں ڈال دیا۔
یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ ‏میں جن سیاست دانوں کو عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا وہ سب کے سب غدار اور ملک دشمن ٹھہرے۔ اور سب ڈکٹیٹر جنہوں نے جمہوریت پر شب خون مارا اور اقتدار پر قبضہ کیا، ملک کو دولخت کیا، امریکہ کو ملک کے ہوائی اڈے بیچے، اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کےخلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے دیا، ملک کا امن تباہ کیا، عوامی رائےکو مسترد کیا، وہ سب فوجی آمر محب وطن قرار پائے۔
‎دوسری جانب آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔ یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔ ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ’غداری‘ کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔ جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ ’آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا۔ ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا شخص‘ آئین کے مطابق غداری کی تعریف کے اندر نہیں آتا۔ وہ قومی سلامتی کے زمرے میں آتا ہے جس کی کئی ذیلی دفعات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ’فوج میں بغاوت کی ترغیب دینا، امن و عامہ کی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر سازش کرنا‘ شامل ہیں۔ وی کیتے ہیں ان سب پر آئین کا آرٹیکل 6 نہیں لگ سکتا، جب تک کہ یہ تمام چیزیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں کہ آئین کو منسوح کر رہی ہوں۔‘
بیشتر قانونی ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ غداری کے آئینی تصور کا تعلق آئینی معطلی سے ہے۔ یعنی اگر آئین کو معطل یا منسوخ کیا جائے۔ اس کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اس آئین سے قبل کیونکہ فوجی آمر جمہوریت پر شب خون مارنے کے بعد آئین معطل کرتے تھے چنانچہ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کیا گیا۔ اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی عدالت غداری کے عمل کی توثیق نہیں کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ غداری کا تعین کرنا اور اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ اس بات کی تحقیق کے بعد وفاقی حکومت شکایت کا آغاز کرتی ہے۔ قانون کے مطابق غداری کی کارروائی کا آغاز وزیرِ داخلہ کر سکتے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کرتی ہے۔ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کرنے کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ کوئی غداری کا مرتکب ٹھہرا ہے یا نہیں۔اس کے بعد ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کرے گی۔
کچھ ایسا ہی جنرل پرویز مشرف کے معاملے میں ہوا جس نے دو بار پاکستانی آئین کو سبوتاژ کیا۔ آئین و قانون کے مطابق یہ ایک فوجداری مقدمہ ہوتا ہے جس کی سزا موت یا عمر قید ہے تو اس میں اسی طرز کی شہادتیں اور گواہان درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح بارِ ثبوت بھی الزام لگانے والے پر یعنی حکومت پر ہو گا۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ غداری کے آئینی تصور کی صورت میں ثبوت سامنے ہوتے ہیں۔ اگر آنے والی حکومت نے جانے والی حکومت کا تختہ آئینی طریقے سے نہ الٹایا، اس کا مطلب ہے کہ آئین تحلیل ہوا۔ دوسرا یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں آئے اور کہے کہ ہم نے آئین تحلیل کر دیا تو یہ دوسری شہادت ہوتی ہے۔
آئین تحلیل کرنے والے کے خلاف اس کے اعمال کی بنیاد پر بہت سی مثالیں موجود ہوتی ہیں جیسا کہ کبھی مارشل لا لگایا جاتا ہے تو کبھی ایمرجنسی لگائی جاتی ہے۔
تاہم آئین کو بوٹوں تلے روندنے والے غداری کی اس تعریف کو ماننے سے کھلم کھلا انکار کرتے ہوئے مشرف کو پھانسی کا فیصلہ سنانے والے جج کو ملعون و مطعون کرتے ہیں اور اداروں کو آئینی حدود میں رہنے کا مطالبہ کرنے والوں کو غدار کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستانی تاریخ میں باقاعدہ طور پر عدالت کے ہاتھوں غدار وطن قرار پانے والا پرویز مشرف آج بھی ملک سے فرار ہے اور اس کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو پایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button