"ہم ٹی وی پر قبضے کی جنگ "

ان دنوں ہم نیٹ ورک لمیٹڈ کے پلیٹ فارم سے چلنے والے ہم ٹی وی کے انتظامی کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے۔ اختیاراتی محاذ کسی اور کے مابین نہیں بلکہ معروف کاروباری شخصیت جہانگیر صدیقی اور ان کی بہن سلطانہ صدیقی کے درمیان ہے جس میں سلطانہ صدیقی نے وقتی سبقت لیتے ہوئے اپنے نمائندگان کو بورڈز آف ڈائریکٹرز منتخب کروالیا اور جہانگیر صدیقی گروپ کے نمائندگان کو غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے نمائندگان کے طور پر بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات سے بالکل باہر کردیا ہے تاہم سلطانہ صدیقی کی یہ کامیابی حتمی نہیں بلکہ عدالتی فیصلے سے منسلک ہوچکی ہے کیونکہ عدالت نے ہم نیٹ ورک انتظامیہ کو حالیہ بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات میں کامیابی کا نوٹس واپس لینے سے روک دیا ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ حالیہ انتخابات میں کامیاب قرار دی جانے والی مہتاب اختر راشدی کی درخواست پر ہوا ہے لیکن دوسری طرف بورڈز آف ڈائریکٹرز کے لیے نااہل قرار دیے جانے والے مبینہ جہانگیر صدیقی گروپ کے امیدواروں نے پورے انتخابی عمل کو چیلنج کردیا ہے اور ایس ای سی پی کو دوبارہ شفاف انتخابات کرانے کی استدعا کرڈالی ہے۔
دستیاب عدالتی دستاویزات کے مطابق مس مہتاب اختر راشدی نے 25 صفحات پر مشتمل درخواست میں جہانگیر صدیقی گروپ اور دیگر کو فریق بنایا اور 6 کمپنیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم نیٹ ورک میں Kingsway Capital Partners Limited, Stiching General Holdings, Acacia Indstitutional Partners LP, Ccacia Conservation Fund (Offshore)LP اورAcacia II Partners LP غیر ملکی سرمایہ کاری رکھنے والے شیئر ہولڈرز ہیں جو کہ مجموعی طور پر 41کروڑ 47 لاکھ 36ہزار 700شیئر رکھتے ہیں جس کا تناسب 43.887 فیصد ہے جبکہ تین کمپنیاں جہانگیر صدیقی اینڈ کو لمیٹڈ، جے ایس بنک اور جہانگیر صدیقی ایند سنز لمیٹڈ جہانگیر صدیقی گروپ سے تعلق رکھتی ہیں اور مجموعی طور پر 9 کروڑ 40 لاکھ 5 ہزار 5سو شیئرز کے ساتھ 09.94 فیصد کی مالک ہیں۔
مہتاب اختر راشدی کا کہنا ہے کہ جے ایس بنک اور جہانگیر صدیقی ایند سنز لمیٹڈ ہم نیٹ ورک کے لائسنس کے وقت بورڈز آف ڈائریکٹرز یا اس کے بعد کبھی بھی بورڈز آف ڈائریکٹرز کا حصہ نہیں رہے جبکہ ہم نیب ورک کی موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر پاکستانی منجمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں اور مجموعی طور پر 30 فیصد شیئرز ہولڈرز کے ساتھ واحد بڑا گروپ ہے، مہتاب اختر راشدی کا کہنا ہے کہ پیمرا قوانین کے مطابق کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری رکھنے والی کمپنی کو کسی بھی چینل کا لائسنس فراہم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے چینل کے اختیارات سونپے جا سکتے ہیں کیونکہ چینل کی ملکیت اور اختیارات ایک حساس معاملہ ہے اور بیرونی سرمایہ کاری رکھنے والے گروپ کو اختیارات سونپ کر سیکیورٹی رسک کے خدشات بڑ ھ جاتے ہیں۔
اپنے وکیل کے توسط سے مہتاب اختر راشدی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حیدر علی ہلالی، شاہد حسین جتوئی، جنید عمران، محمد خاور اقبال، زاہد اللہ خان، محمد بابر دین، سید ظہیر علی اور اطہر وقار عظیم کبھی بھی ہم نیٹ ورک کے بورڈز آف ڈائریکٹرز نہیں رہے اور اب تک ان افراد کی پیمرا نے سکیورٹی کلیئرنس بھی منظور نہیں کی، مہتاب اختر راشدی کہتی ہیں کہ انہیں معلوم ہوا کہ 27جولائی 2020کو ایک میگزین نے ایک آرٹیکل شائع کیا کہ کیا سلطانہ صدیقی ہم ٹی وی کا اختیار کھو بیٹھیں؟، رپورٹ میں بتایا گیا کہ Kingsway Capital Partners Limited اور جہانگیر صدیقی گروپ ملکر ہم نیٹ ورک کے شیئرز بڑھا رہے ہیں جس کا مقصد ہم نیٹ ورک کی منیجمنٹ کا کنٹرول تبدیل کرنا اور بورڈآف ڈائریکٹرز میں اکثریت حاصل کرنا ہے۔
مہتاب اختر راشدی کے مطابق اس آرٹیکل کے بعد انہوں نے ہم نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کچھ عرصے سے ہم نیٹ ورک کے شیئرز کی منتقلی کی غیر معمولی سرگرمیاں ہورہی تھیں جس کے بارے میں ایس ای سی پی کو عمل تھا اور نہ ہی ہم نیٹ ورک کی منجمنٹ کو ان سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا تھا، مہتاب اختر راشدی اپنی درخواست میں کہتی ہیں کہ Kingsway Fund-Frontier Comsumer Franchises اور Kingsway Fund-Frontier Consumer Franchises Extoba جو کہ Kingsway Capital Parters Limited کے ماتحت ہیں بڑے پیمانے پر شیئرز کی خرید و فروخت کر رہی ہیں، جس کا مقصد ہم نیٹ ورک کے شیئرہولڈرز کو بتدیل کرکے اس کی انتظامیہ پر کنٹرول حاصل کرنا تھا لیکن شیئرز کی منتقلی سے متعلق ایس ای سی پی کوآگاہ کیا جا رہا تھااور نہ ہی شیئرز کی تبدیلی ہم نیٹ ورک کے علم میں لائی گئی۔
مہتاب اختر راشدی نے عدالت کو بتایا کہ مئی 2020 میں ایک پرائیوٹ کمپنی Aitenstuast Pakistan نے 3کروڑ 87لاکھ شیئرز حاصل کیے اور مئی ہی میں 7 کروڑ 90 لاکھ 30 ہزار 3 سو 3 شیئرز جے ایس بنک کو فروخت کردیے اور اس ٹرانزیکشن سے بھی ہم نیٹ ورک اور ایس ای سی پی کو لاعلم رکھا گیا۔
مہتاب اختر راشدی کہتی ہیں کہ 2 فیصد سے زائد شیئرز کی تبدیلی کا عمل ایس ای سی پی اور پیمرا کے علم میں لانا ضروری ہے تاہم ہم نیٹ ورک میں ہونے والے شیئرز کی تبدیلی سے ان دونوں اداروں کو لاعلم رکھا گیا، مہتاب اختر راشدی کہتی ہیں کہ 22 اگست کو ہونے والے بورڈز آف ڈائریکٹرز میں انہوں نے حصہ لیا جبکہ حیدر علی ہلالی، شاہد حسین جتوئی، جنیدعمران، محمد خاور اقبال، زاہد اللہ خان، محمد بابر دین، سید ظہیر علی اور اطہر وقار عظیم کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا کیونکہ حیدر علی ہلالی، شاہد حسین جتوئی، جنید عمران، محمد خاور اقبال، زاہد اللہ خان، محمد بابر دین کا بلواسطہ یا بلا واسطہ تعلق جے ایس بنک سے تھااورجے ایس بنک ہم نیٹ ورک کا 9.94فیصد شیئرہولڈرز ہے جبکہ Kingsway Capital Partners Limited, Stiching General Holdings, Acacia Indstitutional Partners LP, Ccacia Conservation Fund (Offshore)LPاورAcacia II Partners LP نامی کمپنیاں غیر ملکی سرمایہ کاری رکھتی ہیں جس کا تناسب 43.88 فیصد ہے اور حیدر علی ہلالی، شاہد حسین جتوئی، جنیدعمران، محمد خاور اقبال، زاہد اللہ خان، محمد بابر دین غیر ملکی سرمایہ کار شیئرز ہولڈز کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں پیمرا قوانین کے مطابق چینل کا اختیا ر سونپا جا سکتا ہے اور نہ ہی لائسنس تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ پیمرا قانون کے مطابق کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری والے ادارے کے نمائندے کو بورڈز آف ڈائریکٹرز بنایا جا سکتا ہے۔
مہتاب اختر راشدی نے مطابق مذکورہ بالا افراد کے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد وہ بلامقابلہ منتخب ہو چکی ہیں اور اب بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات سے متعلق کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ مزید کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ ہم نیٹ ورک کے 13اگست 2020کے نوٹس کو برقرار رکھا جا ئے جس میں انہیں 3سال کے لیے منتخب کیا گیا، ہم نیٹ ورک کو نتائج کی تبدیلی سے روکا جائے اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری رکھنے والی کمپنیوں کے مابین ہونے والے شیئرز کی خرید وفروخت کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور بیرونی سرمایہ کاری رکھنے والے گروپ کے نمائندگان کو ووٹ کے حق سے روکا جائے۔
دوسری جانب بورڈز آف ڈائریکٹرزکے حالیہ انتخابات میں مبینہ بے ضابطگی اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی زیر نگرانی شفاف انتخابات کرانے سے متعلق شاہد حسین جتوئی اور محمد خاور اقبال نے درخواست میں چیئرمین پیمرا، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ہم نیٹ ورک لمیٹڈ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، درید قریشی، سلطانہ صدیقی، مظاہر الحق صدیقی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے درخواست دائر کردی ہے جس میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ہم نیٹ ورک لمیٹڈ نے 24 جولائی 2020 کو ایک نوٹس جاری کیا جس کے مطابق نویں غیر معمولی جنرل میٹنگ 22 اگست 2020کو رکھی گئی جس میں کاروبار ی معاملات بشمول تین سال کے لیے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات شامل تھے۔
بشمول درخواست گزاران کے 15امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا اور باقاعدہ طور پر آگاہ بھی کردیا ساتھ ہی اپیل کنندگان نے حتمی تاریخ سے قبل ہی اپنے کاغذات بھی جمع کرائے تاہم 13اگست 2020 کو ہم نیٹ ورک نے ایک لیٹر جاری کیا کہ جس میں 15امیدواران میں سے 8امیدواروں کو بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا اور دعوی کیا گیا کہ مذکورہ 8امیدوار پیمرا آرڈیننس 2012کی ریگولیشن 1(11)اور (3)کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل نہیں لہذا انہیں نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
درخواست گزاران نے مزید موقف اختیار کیا ہے کہ اس طرح 15میں سے 8 امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے بعد باقی بچ جانے والے 7 امیدواروں کو بلامقابلہ اور یکطرفہ کارروائی کے تحت بورڈز آف ڈائریکٹرز منتخب کر لیاگیا جو کہ کمپنی کے قوائد اور پیمرا قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزاران نے عدالت کو بتایا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کے سب سے بڑے ریگولیٹر ہونے کی وجہ سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان بورڈز آف ڈائریکٹر ز کے انتخابات میں شفافیت اور قانون کے عین مطابق یقینی بنانے کا پابند ہے اور شیئر ہولڈرز کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی ایس ای سی پی کی ذمہ داری ہے، ایس ای سی پی پابند ہے کہ اس کے لائسنس کے تحت آنے والی کمپنی کے معاملات قانون کے عین مطابق ہوں اسی لیے ایس ای سی پی کو باقاعدہ شکایت بھی ارسال کی گئی کہ کچھ عرصہ سے ڈائریکٹرز کا ایک گرو پ جو کہ درید قریشی، سطانہ صدیقی، مظاہرالحق صدیقی پرمشتمل ہے، کمپنی کا پلیٹ فار م کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹرز کے انتخابات کی شفافیت، آزادانہ کو سبوتاژکرنے کے لئے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
درخواست گزاران نے عدالت کو مزید بتایا کہ ڈائریکٹرز کے مخصوص گروپ نے محمد ایوب کو غیر قانونی طریقے سے بورڈز آف ڈائریکٹرز بنوایا اور نام و نہاد سکروٹنی نے ایک پوری مدت ختم ہونے کے باوجود محمد ایوب کو بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات کا اہل قرار دے دیا، درخواست کے مطابق اس پورے غیر قانونی عمل کا مقصد انہیں اور تمام شیئر ہولڈرز کو ان کے قانونی حق سے محروم کرنا ہے، چونکہ پیمرا اور ایس ای سی پی کمپنی کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات میں شفافیت، آزادانہ کرانے میں ناکام رہا لہذا اپیل کنندگان عدالت کا دروازہ کھٹکٹا رہے ہیں۔
درخواست گزاران کے وکلا نے درخواست میں عدالت کو بتایا کہ ہم نیٹ ورک نے انتخابات کا نوٹی فکیشن آخری ورکنگ دن یعنی 13اگست کو جاری کیا، اگلے روز قومی تہوار کی چھٹی تھی اور 15اگست تک یہ نوٹی فکیشن موصول ہوا، درخواست گزاران نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ 13اگست کے نوٹی فکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے، ایس ای سی پی کو ہدایت دی جائے کہ وہ اپنا نمائندہ مقرر کرے جو ایس ای سی پی قوانین سے بخوبی آگاہ ہواور کمپنی کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے انتخابات اپنی نگرانی میں کرائے جس میں آزادانہ ماحول، شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

بلال احمد
سینئر کورٹ رپورٹر
کراچی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button