ہواوےنےگوگل میپس کامتبادل ڈھونڈلیا

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں گوگل سروسز سے محرومی کے بعد سے ہواوے کی جانب سے متبادل ایپس اورسروسز کی تیاری پرکام کیا جارہا ہےاوراب اس فہرست کی سب سے اہم پیشرفت ٹام ٹام کے نام سے سامنے آئی ہے جو کہ چینی کمپنی کی ڈیوائسز میں گوگل میپس کی جگہ لے گی۔
ذرائع کے مطابق ڈچ نیوی گیشن اورڈیجیٹل میپنگ کمپنی ٹام ٹام نے ہواوےکے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے جس کےبعد چینی کمپنی کواپنی ایپس کے لیےمیپس اوردیگرسروسزاستعمال کرنے کا موقع مل سکے گا۔دونوں کمپنیوں کےدرمیان اس حوالےسے کچھ عرصےسے بات چیت جاری تھی، مگراسےعوام کے سامنے اب لایا گیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ گوگل موبائل ایپس میں میپس بہت اہم ایپ ہےجوکہ اینڈرائیڈ فونزمیں پری لوڈڈ ہوتی ہےجس کی بدولت صارفین کولگ بھگ دنیا کےہرکونےکا تفصیلی نقشہ مل جاتا ہے جبکہ اسےنیوی گیشن کےلیےبھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ڈچ کمپنی ٹام ٹام نوے کی دہائی سے نیوی گیشن سافٹ وئیرتیارکررہی ہے۔ یہ معاہدہ ہواوے کی جانب سےگوگل سروسزکی متبادل سروسزصارفین کوفراہم کرنےکی کوشش میں اہم پیشرفت ہے، کیونکہ اس وقت چینی کمپنی کےفونزمیں اوپن سورس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم تو موجود ہے مگر گوگل پلے اسٹور،میپس،یوٹیوب اوردیگرسروسزموجود نہیں۔ ہواوے کی جانب سے امریکی پابندیوں کےبعد اینڈرائیڈ کےمتبادل آپریٹنگ سسٹم ہارمونی کو گزشتہ سال اگست میں متعارف کرایا گیا تھا مگراسے اسمارٹ فونزکی جگہ فی الحال اسمارٹ ٹیلیویژن یا ایسی ہی مصنوعات میں استعمال کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہواوے کی جانب سے کمپنی کے اپنے ایپ اسٹورہواوے موبائل سروسزکے لیےایپس کی تیاری کے لیے26 ملین ڈالرزکی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
خیال رہےکہ مئی 2019 میں امریکا نےہواوے کوبلیک لسٹ کرتےہوئےامریکی کمپنیوں کےساتھ کاروبارسےروک دیا تھا اور ہواوے کوپرزہ جات کی فراہمی کےلیےامریکی کمپنیوں کےلیےخصوصی حکومتی لائسنس کی شرط عائد کی گئی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہواوے کوامریکی قومی سلامتی کےلیےخطرہ قراردے کربلیک لسٹ کیا گیا تھا اورکہا گیا تھا کہ اس کےآلات جاسوسی کےلیےاستعمال ہوسکتے ہیں، چینی کمپنی نےان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔
