یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے بھی مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے دی

یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے دی۔
یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ایک مضمون میں کرنل ریٹائرڈ ویس مارٹین نے کہا ہےکہ بھارت میں کورونا وبا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف مہم تیز کردی گئی، انہیں سڑکوں پر مارا گیا اور انہیں اسپتالوں میں علاج کی سہولت بھی نہیں دی جا رہی۔ ویس مارٹین کے مطابق مودی اوربی جے پی نےا لزام لگایا کہ مسلمان کورونا وباء پھیلا رہے ہیں جس کے باعث مسلمانوں کے لیے دہرا لاک ڈاون کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور پولیس مسلمانوں کو احتجاج بھی نہیں کرنے دے رہی اور اس صورت حال میں دنیا چند الفاظ اداکرنےکے سوا کچھ نہیں کررہی۔
مسلمانوں پر مودی کے مظالم پر ویس مارٹین کا کہنا تھا کہ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کا آئینی درجہ تبدیل کرکے یونین علاقہ بنایاگیا جو محاصرے کا نکتہ آغاز تھا۔ مضمون میں مزید کہا گیا ہےکہ چیک و سلواکیہ پر ہٹلر کے قبضے سے پہلے جرمنوں نے وہاں افراتفری پھیلائی تھی تاہم جیسا جرمنوں نے کیا وہی بھارتی اہلکار مقبوضہ کشمیر میں کررہے ہیں یہی نہیں اس کے بعد دسمبر 2019 میں مودی نے بھارت میں مسلم آبادی سے شہریت کاحق بھی چھین لیا۔ یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے مطابق جیسے ہٹلر نے یہودیوں کےلیے کیمپ بنائے، مودی نےمسلمانوں کےلیے بھی بنادیے ہیں۔ ویس مارٹین نے اپنے مضمون میں مزید کہا کہ مودی نے عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش بھی ہٹلر کی سوچ کےتحت رد کی، وہ پاکستان سے تناؤ کم کرنےکے بجائے کشیدگی بڑھا رہے ہیں، لائن آف کنٹرول پر جارحانہ پیٹرولنگ فائرنگ کا تبادلہ شروع کرنے کےلیے ہے اور مودی کا یہ اقدام جنگ چھیڑنے کا بہانہ نظرآتا ہے۔
یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، امریکا اور مغربی یورپ کیمپوں کے معاملے پرخاموش ہیں حالانکہ عالمی برادری کو مودی پر دباو ڈالنا چاہیے اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور نسل کشی روکی جانی چاہیے۔ یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے یہ بھی کہا کہ آئن اسٹائن نے کہا تھا دنیا اس لیے خطرناک ہےکیوں کہ لوگ کچھ کر نہیں رہے۔
