گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کی منظوری

وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ نبھا دیا۔ منصوبے کے اعلان کے صرف دو روز بعد ہی قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں 100 میگاواٹ سولر فوٹو وولٹک پاور پلانٹ کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
ایکنک سے منظوری کے بعد منصوبے پر باضابطہ کام کا آغاز کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورۂ گلگت کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کو آف دی گرڈ بجلی فراہم کی جائے گی۔
یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
اس سے قبل سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) اس منصوبے کی منظوری دے چکی ہے۔ منصوبے سے استور، دیامر، گانچھے، غذر، گلگت، ہنزہ، نگر، اسکردو اور شگر کے اضلاع کو فائدہ پہنچے گا۔
منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا پہلے مرحلے میں ضلع اسکردو کو 18.958 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔
دوسرے مرحلے میں ہنزہ، گلگت اور دیامر کے اضلاع بجلی حاصل کریں گے۔
مریم نواز کے اصلاحاتی مؤقف سےمسلم لیگ ن میں کشیدگی بڑھنے لگی
تیسرے مرحلے میں باقی اضلاع کو 16.096 میگاواٹ بجلی دی جائے گی، جب کہ ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کو آف دی گرڈ 18.162 میگاواٹ بجلی مہیا کی جائے گی۔
یہ منصوبہ آئندہ تین سال میں مکمل ہوگا اور اس پر 2 ارب 49 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران اس منصوبے کی فوری منظوری کا وعدہ کیا تھا، اور اب اس پر عملدرآمد شروع ہو رہا ہے، جو گلگت بلتستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد فراہم کرے گا۔
