مریم نواز کے اصلاحاتی مؤقف سےمسلم لیگ ن میں کشیدگی بڑھنے لگی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بیوروکریسی میں تقرریوں و تبادلوں کے معاملات میں سیاسی مداخلت برداشت نہ کرنے کی پالیسی نے مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقوں میں کشیدگی کو جنم دیا ہے، جہاں ایک سینئر وفاقی وزیر اپنے حلقے سے متعلق ایک انتظامی فیصلے میں نظرانداز کیے جانے پر ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیالکوٹ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADC) کی گرفتاری اور عہدے سے برطرفی پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنے اہم اقدام سے قبل ان سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر جب معاملہ اُن کے سیاسی گڑھ سے متعلق ہو۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف کارروائی مضبوط شواہد کی بنیاد پر کی گئی، اور وزیراعلیٰ نے اس بارے میں محض چند قریبی افراد کو ہی اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز اس بات پر پُرعزم ہیں کہ وہ سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے استعفیٰ دینا پسند کریں گی۔
وفاقی وزیر کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اُنہیں گلہ اس بات پر ہے کہ اے ڈی سی کی برطرفی کسی باضابطہ انکوائری کے بغیر کی گئی، حالانکہ وہ چاہتے تھے کہ وزیراعلیٰ افسر کے خلاف کارروائی سے قبل معاملے کی جانچ پڑتال کرواتیں۔
سیاست کرنا عمران خان کے بیٹوں کے لیے آسان نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ
رابطہ کرنے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر کو بھیجے گئے سوالات کا بھی کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ پنجاب کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے گرفتار اے ڈی سی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے، اور کیس کی اگلی سماعت 11 اگست کو متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین اس تنازعے کو وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیوروکریسی کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کے وعدے کا پہلا بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے سخت اصولی مؤقف نے نہ صرف ن لیگ بلکہ اتحادی جماعتوں میں بھی بے چینی پیدا کی ہے، مگر وہ اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔
