ڈپٹی سپیکر ازخود نوٹس کیس کا 111 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری

عدالت اعظمیٰ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر ازخود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے، جوکہ 111 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے کو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں 12 ججز نے از خود نوٹس کی سفارش کی اور پھر آئین کو مقدم رکھنے اور اس کے تحفظ کیلئے ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر از خود نوٹس لیا، فیصلے میں لکھا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے سپریم کورٹ متحرک ہوئی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔
تحریری فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا کہ از خود نوٹس کی کاروائی کے دوران بیرونی دھمکی آمیز مراسلہ (سائفر) عدالت کو نہیں دکھایا گیا تاہم فریقین نے اس حوالے سے دلائل دیے اور عدالت کو بنیادی نکات (اجزا) سے آگاہ کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سائفر کے حوالے سے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اعلامیہ میں بیرونی مداخلت جانچنے کیلئے سائفر پر تحقیقات کا نہیں کہا گیا، سیکورٹی کونسل اعلامیے میں اپوزیشن جماعتوں کے بیرون طاقتوں کے ساتھ مل کر
لمبے لمبے کانوں والا بکری کا بچہ سوشل میڈیا سٹار بن گیا
عدم اعتماد لانے کا ذکر بھی موجود نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ سائفر سپریم کورٹ یا کسی اپوزیشن جماعت کے رکن کو نہیں دکھایا گیا، عدالت کو عدم اعتماد لانے کے حوالے سے بیرون مداخلت کا بھی کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، بیرونی سازش میں شامل کسی شخص کا نام بھی حتمی طور پر سامنے نہیں لایا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے بھی رولنگ میں مزید تحقیقات کا کہا، 7 مارچ کو دھمکی آمیز مراسلہ موصول ہونے کے بعد بھی اس وقت کی حکومت نے تحقیقات نہیں کروائیں جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے اس معاملے پر کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دی تھی، کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ اس وقت کی حکومت کے پاس نامناسب شواہد کا اشارہ دیتی ہے۔
عدالت اعظمیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ عدم شواہد کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی حکومت کے سائفر کے نیشنل سیکورٹی سے منسلک ہونے کے موقف کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، سائفر پر از خود نوٹس لینے کے پی ٹی آئی کے مطالبہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، مسلم لیگ ن کے دور میں انتخابات کی تحقیقات کیلئے صدر کی جانب سے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا راستہ اپنایا گیا تھا۔
جسٹس جمال مندو خیل نے لکھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعظم کے مفاد کا تحفظ کیا، غیر ملکی مراسلے کو بغیر تحقیق کیے سازش کہنا حیران کن ہے، سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے کے باوجود پارلیمانی کارروائی میں تاخیر کرنے کی قوم گواہ ہے، غیر آئینی اور غیر قانونی رویہ اس شخص نے اپنایا جو انتہائی اہم عہدے پر فائز تھا۔
